• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ڈاکٹر پرویز محمود چوہدری ...نیوکاسل
برصغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام و تبلیغ کا سہرا اولیاء کرام و مشائخ عظام کے سر ہے، تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو علم و حکمت اور معرفت و طریقت کے ایسے ایسے درخشاں ستارے آسمان عظمت پر چمکتے نظر آئیں گے جن کی مثال اس عالم رنگ و بو میں ناپید ہے، علم و عرفان اور تصوف کے ان بلند و بالا اور پُرنور میناروں سے توحید کے متوالوں اور شمع رسالتﷺ کے پروانوں نے فیضیاب ہو کر اپنے قلب و نظر کو منور کیا اور اپنے رشتے مالک شرق و غرب سے ملا دیئے، گمراہی، جہالت اور ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کئی بزرگان دین نے خطہ کشمیر میں شریعت و طریقت کی کرنیں بکھیر کر مصیبت زدہ لوگوں کو راہ حق دکھلائی، ان بزرگان دین میں ایک بڑا نام حضرت پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار کا ہے جن کا مزار اقدس میرپور شہر سے آٹھ کلو میٹر نہراَپر جہلم کے کنارے ’’چیچان‘‘ کھڑی شریف کے مقام پر ہے لوگ فیوض و برکات سے برابر مستفید ہو رہے ہیں، حضرت پیرشاہ غازی قلندرؒ کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری سے بارہویں صدی ہجری نصف تک ہے ،آپ کا سلسلہ طریقت قادری ہے، حضرت کے عقیدت مندوں کی معلومات اور تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں کی روایات کے مطابق آپ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، آپؒ کے سلسلہ طریقت کے مشہور بزرگ حضرت میاں محمد بخش مصنف سیلف الملوک نے اپنی فارسی کتاب تذکرہ مقیمی میں غازی قلندر اور ان کے خلفاء و جانشینوں کے کچھ حالات زندگی جمع کئے ہیں، طریقت میں آپ کی بیعت حجرہ شاہ مقیم کے مشہور گیلانی سادات خاندان کے چشم و چراغ حضرت سید محمد بالا پیر سے تھی اور سلسلہ طریقت میں آپ صرف تین واسطوں سے حضرت غوث اعظم شاہ بغدادؒ سے ملتے ہیں بظاہر باعث توجہ ہے ہے کہ حضرت غوث اعظمؒ کا وصال 470-71ھ میں ہوا اور حضرت پیرا شاہ غازی کے درمیان تقریباً سوا 600 سال کا طویل عرصہ حائل ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ شیخ حضرت سید محمد امیر بالا پیر کی بیعت اپنے والد گرامی حضرت سید محمد مقیم سے تھی اور حضرت سید محمد مقیم جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر سے براہ راست فیضیاب تھے اور سید جمال اللہ غوث الاعظم بغدادؒ کے پوتے اور سید تاج الدین عبدالرزاق کے صاحبزادہ ہیں۔ حضرت غوث اعظمؒ ان پر بے حد شفقت فرماتے تھے ،حضرت پیر شاہ غازی قلندر سلسلہ طریقت سے منسلک ہونے کے بعد مکمل طور پر یاد الہی میں مصروف ہوگئے اور جنگلوں، بیابانوں، ویرانوں ار صحرائوں میں جالر ذکر الہی کرتے، آپؒ نے جہاد میں بھی حصہ لیا اور سکھوں کے ساتھ ایک معرکہ میں آپؒ کے بازو اور ران پر زخموں کے نشانات آئے تھے، اسی وجہ سے آپؒ کو غازی کہا جاتا ہے اور جلالی طبیعت و اوصاف کی وجہ سے قلندر کہلائے گئے۔ حضرت غوث الاعظمؒ نے عالم کشف میں آپ کو فرمایا کہ اگر کوئی ایک لاکھ ٹکہ آپ کے لئے نذر مان کر اللہ تعالیٰ سے حاجت مانگے گا تو اس کی ہر مشکل آسان اور پریشانی دور ہوگی، آپ نے جواباً عرض کیا کہ اس طرح تو میرے ورثا دولت کی کثرت کی وجہ سے یاد الہٰی سے کہیں غافل نہ ہو جائیں لہٰذا اس شرح میں کمی فرمایئے، چنانچہ غوث پاکؒ نے فرمایا کہ ’’اچھا پھر سوا لاکھ دمڑی نذر ماننے والے کی حاجت اللہ پوری کرے گا‘‘۔مصنف سیف الملوک حضرت میاں محمد بخشؒ کو بھی طریقت ولایت اور اعلیٰ اوصاف کا یہ بلند مقام حضرت غازی قلندر کے مزار کی جاروب کشتی اور والہانہ محبت و عقیدت کے جذبے کی بدولت ملا حضرت میاں محمد بخشؒ کے بارے میں ایک مشہور مورخ اور محقق نے کہا تھا کہ آپ مولانا روم اور حضرت علامہ محمد اقبال کے درمیان ایک کڑی تھے جسے تصوف و اسلامی تاریخ میں نظر انداز کرنا مشکل ہے، وہ ایک عظیم صوفی شاعر تھے جو اپنے مرتبے کے شعر کہتے جنہیں صرف صوفی حضرات ہی سمجھ سکتے ہیں، میاں محمد بخشؒ کا مزار بھی پیرے شاہ غازی قلندر کے دربار کے احاطہ کے اندر ہے، دربار کھڑی شریف کے عقیدت مند جب مزارات کی چار دیواری کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے حضرت میاں محمد بخشؒ دوسرے نمبر پر دو اکھٹی قبریں والدہ مرحومہ اور دادی مرحومہ، حضرت میاں محمد بخشؒ پھر غازی قلندر کی بیٹھک اس کے بعد خواجہ دین محمد کی قبر اور پھر پیرے شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار کا مزار اقدس ہے اور تھوڑا آگے مغرب میں سائیں مولانا بخش کی قبر ہے، حضرت پیرے شاہ غازی کی چار نشست گاہوں کا پتہ چلا ہے۔ پہلی دربار کے بالکل قریب ،دوسری ماوٹ کی پہاڑی پر ،تیسری ملای ضلع جہلم کی حدود میں واقع ہے، چوتھی کس کلیال کے پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے،لوگ بتاتے ہیں کس کلیال کی نشست والی جگہ سے جب دمڑی والی سرکار کا گزر ہوا تو وہاں ایک لمبے پتھر پر آپ کی نظر پڑی تو اس کو حکم فرمایا کہ اٹھ کھڑا ہو تاکہ میں تیرا سہارا لے کر بیٹھوں، وہ محراب کی طرح گولائی والا پتھر تھا، حکم سنتے ہی اس کا نچلا حصہ زمین کے اندر دھنس گیااور گولائی والا حصہ باہر رہا، آپ اس کے ساتھ پشت لگا کر بیٹھے اور لمبے عرصہ تک استعرافی کیفیت میں رہے اور اس نشست گاہ کو اچھے طریقے سے ایک کمرہ کے اندر محفوظ کر لیا گیا ہے، حضرت پیرا شاہ غازی کو بوڑا جنگل میں شدید زخمی حالت میں دیکھا گیا گہرے و شدید زخموں کو سی کر مرہم پٹی کی گئی مگر جب آپؒ ذکر الہٰی کے دوران شیر کی سی گرج سے ’’اللہ اللہ‘‘ کرتے تو ٹانکے ٹوٹ جاتے ،زخم کھل جاتے جنکی آپ کو کوئی پروا نہ ہوتی، آپ کو اس حال میں دیکھ کر آپؒ کے عقیدت مندوں نے وہاں سے کھڑی شریف ’’چیچیاں‘‘ لے آئے اور یہاں 14 شعبان 1155ء کو وصال فرما گئے اور یہیں پر آپؒ کا مزار تعمیر کیا گیا، حضرت پیرے شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار کا سالانہ عرس 14,13 شعبان کو کھڑی شریف میں انتہائی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔ عرس کے موقع پر آزاد کشمیر اور پاکستان کے کونے کونے سے آپ کے عقیدت مند اور زائرین اپنے اپنے انداز میں حاضری دیتے ہیں اور دمڑی والی سرکار کے مستانوں، پروانوں، دیوانوں کے عقیدت کے مناظر قابل دید ہوتے ہیں، سالانہ عرس کے علاوہ نئے چاند کی ہر پہلی جمعرات کو بھی لوگ بہت بڑی تعداد میں دربار پر حاضری دینے آتے ہیں۔مسائل و مشکلات میں پھنسے اور اپنی مرادوں کو پانے والوں کا ہر وقت ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے،عقیدت مند دربار پاک پر صبح و شام قوالی، نعت خوانی، عارفانہ کلام اور سیف الملوک کی روح پرور مجالس منعقد کرکے دمڑی والی سرکار کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں۔آپ کے سالانہ عرس مبارک کی دو روزہ تقریبات 13اور 14شعبان المعظم کوآپ کے دربار اقدس کھڑی شریف چیچیاں میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوتی ہیں۔
یورپ سے سے مزید