برطانوی حکومت مویشیوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات پر استعمال پر پابندی لگانے پر غور کررہی ہےتاکہ دوائیوں کے بے اثر ہونے کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔
جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے حوالے سے یورپ میںدنیا کے سخت ترین قواعد و ضوابط نافذ ہیںجس میںافزائش نسل میں اضافے کے لیے ادویات کے استعمال پر مکمل پابندی بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہےکہ فارمنگ میں اینٹی بائیوٹکس کا کثرت سے استعمال انسانی ادویات کو بھی بے اثر بنا رہا ہے۔
انفیکشن کے خطرے سے دوچار صحت مند جانوروں کی خوراک یا پینے کے پانی میں اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنے پر مکمل پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔
س سلسلے میں عالمی آگاہی مہم چلانے کا مطالبہ کیا گیاہے تاکہ دیگر ممالک کو اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کم کرنے پر ابھارا جاسکے۔
امریکا میں اینٹی بائیوٹکس کا 70 فیصد استعمال لائیو اسٹاک پر ہوتا ہے۔امریکا جیسے ممالک میں ان ادویات کا زراعت میں کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے۔
ای کولی اور سالمونیلا جیسے بیکٹیریا نے اینٹی بائیوٹک کی آخری طاقتور ترین قسم کے خلاف بھی مدافعت پیدا کرلی ہے اور برطانیہ میں مہلک جراثیم گردش کررہے ہیں۔
رپورٹ میں کسانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بیماریوں اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی ضرورت سے بچنے کے لیے اپنے مویشیوں کو اچھے حالات میں رکھیں۔ مویشیوں کو ریوڑ میں رکھنے کی وجہ سے ایک کو بیماری لگنے کی صورت میں سب کو لگ جاتی ہے۔