• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹلی میں علیحدگی پسند خالصتان ریفرنڈم، سکھوں نے ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) اٹلی میں علیحدگی پسند خالصتان ریفرنڈم میں40ہزار سے زائد سکھوں نے ووٹ ڈالے۔ ایک آزاد خالصتان ریاست کے قیام اور پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم ووٹنگ کمپین میں ریکارڈ توڑ تعداد میں سکھوں نے شرکت کی۔ نان بائنڈنگ ووٹنگ پروسیس کیلئے جس نے اکتوبر میں لندن میں اپنے آغاز سے تصور پا لیا ہے، لوکل انٹیلی جنس سمیت مختلف اندازوں کے مطابق40ہزارسے زائد سکھوں نےخالصتان حامی گروپ سکھس فار جسٹس کی کال کا جواب دیا، لندن میں کوئن الزبتھ سینٹر میں ووٹنگ کے عمل کے آغاز پر30ہزار کے لگ بھگ سکھوں نے ریفرنڈم ووٹنگ میں حصہ لیاتھا۔ تاہم اطالوی شہر کے برکیسا فورم میں ووٹروں کی تعداد آرگنائزرز تک کی توقعات کے برعکس رہی، جن کا اندازہ تھا کہ ووٹروں کی تعداد لندن کے قریب ہوگئی۔ 9بجے ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے8بجے ایک بڑی قطار بننی شروع ہوگئی تھی۔ تاہم گیارہ بجے کے نزدیک ایک فلڈ گیٹ کھل کیا کیونکہ قطار ووٹنگ کمپلیکس سے زگ زیک قطاروں کی صورت میں وسیع کار پارکنگ ایریا سے ہوتی ہوئی تقریباً نصف کلو میٹر تک پھیل گئی تھی۔ برکیسا فورم سینٹر میں ووٹ ڈالنے کی زیادہ تعداد سکھ نوجوانوں اور خواتین اور فیملیز پر مشتمل تھی، سکھس فار جسٹس نے ریفرنڈم سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس نے برکیسا شہر کا انتخاب اس لیے کیا ہے کیونکہ اس میں تقریباً2لاکھ سکھ رہ رہے ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان اکنامک تارکین ہیں۔ یہ کوئی پیلے رنگ کا فیسٹول دکھائی دیتا تھا کیونکہ شرکت کرنے والے زیادہ تر خالصتان کے پیلے جھنڈے اور خالصتان ریفرنڈم کے بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ اندر جانے سے قبل قطاروں میں انتظار کے دوران ڈھول کی تھاپ اور پنجابی میوزک کے ساتھ رضاکاروں نے ہال کے اندر اور باہر پانی، چائے اور کھانا شرکا میں تقسیم کیا۔ ہال کے اندر ریفرنڈم پر مہارت رکھنے والے دو برطانوی پروفیسرز سمیت ایک درجن سے زائد آزاد مبصرین نے ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کی۔ دوپہر تک ہال اندر اور باہر سے بھرپور طریقے سے بھر گیا کیونکہ سکھوں کے قافلے ووٹ ڈالنے پہنچ چکے تھے۔ ایس ایف جے کے جنرل قونصل گر پت ونٹ سنگھ پنوں نے کہا کہ اٹلی میں بھاری تعداد میں ووٹروں کی شرکت مودی حکومت کیلئے واضح پیغام ہے کہ پنجاب کی بھارت سے علیحدگی ناگزیر ہے اور سکھ عوام کی قوت ارادی توڑنے کی بھارتی حکومت کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ریفرنڈم کمیشن کے مقررہ طریقہ کار کے تحت ووٹنگ5بجے ختم ہوگئی جبکہ ہزاروں سکھوں کو اطالوی پولیس نے روکے رکھا۔ مقامی پولیس نے بھاری تعداد میں ووٹروں کی نگرانی اور کنٹرول کرنے کیلئے قابل تعریف کردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ5جون کو اطالوی حکومت ایک بار پھر خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ میں حصہ لینے کے قابل ہوسکیں گے جو آپریشن بلیو اسٹار کی38ویں برسی کے موقع پر ہوگی، جب بھارتی فوج نے دربار صاحب پر حملہ کرکے ہزاروں بے گناہ سکھوں کو قتل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برکیسا میں ووٹروں کی تعداد نمایاں رہی ہے اور اس نے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے، صدر کونسل آف خالصتان واشنگٹن ڈی ڈاکٹر سنگھ سندھو نے کہا کہ سکھوں نے ووٹنگ کے اپنے جمہوری حق کے ذریعے خالصتان کے قیام کیلئے ووٹ کے اپنے حق کا اظہار کیا ہے، سکھ ہزاروں کی تعداد میں خالصتان کی حمایت کیلئے ووٹ ڈالنے باہر آرہے ہیں۔ سکھ اٹلی میں ہر جگہ کی طرح یہ کہنے آئے ہیں کہ وہ جداگانہ مذہبی شناخت اور زبان کی بنیاد پر حق خودارادی کا واضح مقدمہ رکھتے ہیں اور1984ء سے نسل کشی کا نشانہ ہیں، سکھوں نے یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہندو توا کی حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں اور آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ سکھس فار جسٹس یوکے، کے کوآرڈینیٹر وپندر جیت سنگھ نے کہا کہ انہیں ووٹروں کی نمایاں تعداد سے جوش اور حوصلہ ملا ہے۔ سکھ آئندہ بھارت کے ساتھ رہنے کے سوال پر ریفرنڈم کے ذریعے اپنی خواہش کے اظہار کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے ان سکھوں کو مجرم قرار دینے کی کوشش کی ہے جنہوں نے پنجاب کے بھارتی قبضے کے خلاف بات کی ہے۔ بھارت نے ہماری چوٹی کی قیادت اور سمندر پار سیکڑوں سکوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں جنہوں نے خالصتان کے لیے مہم چلائی ہے، اٹلی کے سکھوں نے سکھ دشمن اسٹیبلشمنٹ کو سخت پیغام بھیجا ہے کہ خالصتان کیلئے سکھ تحریک کی جڑیں بھارت کے جون1984ء کے فوجی ایکشن میں ہیں جب سیکورٹی فوج نے دربار صاحب پر حملہ کرکے ہزاروں سکھ یاتریوں کو قتل کردیا تھا اور بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کے تشدد کے بعد وزیراعظم اندرا گاندھی کو31اکتوبر کو قتل کردیا گیا تھا۔ خالصتان ریفرنڈم کے اٹلی کے مرحلے سے قبل خالصتان ریفرنڈم میں ووٹنگ لندن برطانیہ میں31اکتوبر سے شروع ہوئی تھی۔ جہاں ہزاروں برطانوی سکھ ووٹ ڈالنے کیلئے قطاروں میں کھڑے تھے اور اس ایونٹ کو روکنے کیلئے بھارتی حکومت کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔

یورپ سے سے مزید