• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

چائے اور کافی دنیا بھر میں مقبول ترین گرم مشروبات میں شامل ہیں تاہم صحت کے حوالے سے ان میں سے بہترین کونسا مشروب ہے؟

جب ہم کسی چیز کو مستقل طور پر کھاتے یا پیتے ہیں تو اس کا استعمال ہماری صحت کے ساتھ ساتھ ہمارے مزاج پر بھی بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے، خواہ وہ مفید ہو یا مضرِ صحت۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آیا یہ مشروبات ہماری صحت کے لیے اچھے ہیں یا نہیں، اگر مفید ہیں تو یہ گرم مشروبات ہمیں کس طرح فائدہ پہنچاتے ہیں؟ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ صحت اور افادیت کے حوالے سے ہمارے لیے کافی بہترین ہے یا سبز چائے۔

سبز چائے:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

غذائی ماہرین کے مطابق سبز چائے میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء پائے جاتے ہیں جن کے استعمال سے دل کے امراض سے نجات ملتی ہے، سبز چائے ایک ڈیٹاکسیفائی ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہے جس کے استعمال کے نتیجے میں جِلد صاف، میٹا بولزم کا عمل تیز، قوتِ مدافعت بڑھتی ہے اور یہ قدرتی طور پر کم تیزابیت کی حامل ہوتی ہے۔

سبز چائے کے صحت سے متعلق بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

بہتر میٹابولزم کیلئے:

ایک تیز میٹابولزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا جسم تیزی سے کیلوریز جلا سکتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ وزن بڑھائے بغیر زیادہ کیلوریز کھا سکتے ہیں اور آسانی سے کیلوریز بھی جلا سکتے ہیں، لہٰذا، بہتر میٹابولزم چربی جلانے اور وزن میں کمی کو فروغ دیتا ہے۔

کینسر کی روک تھام کا سبب:

سبز چائے میں اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں، اینٹی آکسیڈینٹ بیرونی ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں جو جسم پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، لہٰذا، سبز چائے میں موجود اعلیٰ اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

بہترین دماغی صحت کیلئے:

دوسری چائے اور کافی کی طرح سبز چائے میں کیفین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، کیفین ہمیں توانائی بخشنے میں مدد دیتی ہے اور ہمارے دماغ کے افعال کو بڑھاتی ہے، درحقیقت کیفین دماغ کے مختلف افعال جیسے یادداشت، ردِ عمل کا وقت، موڈ اور توجہ کے لیے بہتر ثابت ہوئی ہے۔  

صحت مند دل کیلئے:

مختلف مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ سبز چائے دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کر سکتی ہے، اس کے علاوہ سبز چائے کے میٹابولک فوائد ہمیں اپنا مثالی وزن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، موٹاپا ہماری دیگر دائمی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے سبز چائے کا استعمال ہمیں موٹاپے اور دیگر بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔

کافی:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کافی، دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول مشروبات میں سے ایک ہے، بہت سے کافی کے شائقین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’میرا دن کافی کے کپ کے بغیر شروع نہیں ہوتا‘، اکثر لوگوں کی تو آنکھیں ہی اُس وقت کُھلتی ہیں جب کافی کا ایک گھونٹ اُن کے حلق سے نیچے اترتا ہے، بہت سے لوگ جاگنے کے فوراً بعد کافی پیتے ہیں۔

کافی اپنے منفرد ذائقے اور توانائی بڑھانے والی خصوصیات کے لیے مشہور ہے، کافی کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

کینسر سے بچاؤ:

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کافی ہمارے ڈی این اے کو مضبوط بنا کر ہماری مدد کر سکتی ہے، اگرچہ یہ ہمارے ڈی این اے کو تبدیل نہیں کر سکتی لیکن یہ ہمیں سیلولر نقصان سے بچاتی ہے جو بعد میں ہمارے ڈی این اے کو منفی طور پر تبدیل کر سکتا ہے، یہ سیلولر نقصان ہی کینسر کا سبب بن سکتا ہے، کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ان خلیوں کو نقصان پہنچانے والے ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

جگر کی بہتر صحت:

کیفین ہمارے جسم میں ایک مرکب پیدا کرتا ہے جسے پیراکسانتھائن کہا جاتا ہے، یہ جگر سے متعلق مختلف بیماریوں جیسے فیٹی لیور کی بیماری، جگر کا کینسر، سائروسیس اور ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

توانائی کو بڑھاتی ہے:

کافی میں کیفین کی مقدار اعلیٰ توانائی کی سطح کو فروغ دیتی ہے، یہ کام کے ساتھ ساتھ ورزش کے دوران جسمانی و دماغی توانائی کو بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔

کافی یا سبز چائے میں سے بہترین کیا ہے؟

جیسا کہ اوپر زیرِ بحث آیا ہے سبز چائے اور کافی دونوں کے مختلف فوائد ہیں، اس کے علاوہ ان دونوں میں صفر کیلوریز ہوتی ہیں جو انہیں صحت بخش مشروبات بناتی ہیں، تاہم کس صورتِ حال میں ان دونوں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے وہ درج ذیل ہیں۔

اگر کوئی شخص ان بیماریوں میں مبتلا ہے تو سبز چائے اس کے لیے نامناسب ہو سکتی ہے:

  • خون کی کمی
  • اُلٹی، متلی اور پیٹ میں درد  
  • ذیابطیس، بے چینی یا گھبراہٹ 
  • حساس آنت
  • جگر کے امراض
  • دل کی بیماری
  • سبز چائے کو بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے بھی غیر موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ان مسائل کا شکار افراد کے لیے کافی کو غیر موزوں سمجھا جاتا ہے:

  • بچے
  • اگر آپ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہے یا دل سے متعلق دیگر بیماریاں ہیں۔
  • وہ لوگ جو نیند کی خرابی کا شکار ہیں 
  • مرگی کے مریض 
  • آنتوں کے مرض میں مبتلا افراد
  • حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین
صحت سے مزید