• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا میں مبتلا فالج کے مریضوں کی صحتیابی کے امکانات کم ہیں، تحقیق

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا میں مبتلا فالج کے مریضوں کےصحتیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

تھامس جیفرسن یونیورسٹی میں نیورولوجیکل سرجری کے پروفیسر پاسکل جیبور کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کورونا کے شکار افراد کو فالج کے بعد صحتیابی میں 2.5 گُنا زیادہ ناساز گار نتائج اور مشکلات کا سامنا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے یورپ اور شمالی امریکا کے فالج کے مریضوں کو گروپس میں تقسیم کیا۔ ان گروپس میں سے ایک گروپ میں ایسے افراد تھے جوکہ کورونا سے متاثر تھے جبکہ دوسرے گروپ میں ایسے افراد تھے جوکہ کورونا سے متاثر نہیں تھے۔

 تحقیق میں معلوم ہوا کہ کورونا سے متاثرہ گروپ کے افراد کے دماغ کی شریان پھٹنے کے خطرات کم ہونے کے باوجود بھی ان کی شرح اموات زیادہ تھی۔

اس حوالے سے پاسکل جیبور کا کہنا ہے کہ کورونا سے متعلق ابھی بہت کچھ ہے جو ہمیں جاننے کی ضرورت ہے بالخصوص اس کے کم عمر مریضوں پر اثرات، کورونا کے شکار کس فرد پر فالج کے اثرات تشویش ناک ہیں اور ہمیں اس پر تحقیق اور اس کے علاج کی تلاش جاری رکھنی ہوگی۔

فالج یعنی جسم میں خون کی گردش میں اچانک خلل پڑنا، یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کے متعدد اسباب ہیں، جیسے کہ قلبی مسائل، کولیسٹرول کی وجہ سے بند شریانیں یا نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی اس بیماری کا سبب ہوسکتا ہے۔ 

معمولی فالج مستقل نقصان نہیں پہنچاتا اورایسے مریض 24 گھنٹوں کے دوران خود ہی ٹھیک ہوسکتے ہیں جبکہ فالج کا غیر معمولی دورہ تباہ کن ہوسکتاہے۔

صحت سے مزید