• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ایشیا کپ: پاکستانی بیٹنگ لائن نے غیر ذمہ داری سے شاٹس کھیلتے ہوئے وکٹیں گنوائیں

گذشتہ چند ماہ سے شعیب ملک کی پاکستانی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ایشیا کپ فائنل میں شکست کے بعد انہوں نے چند جملوں میں وہ کچھ کہہ دیا جس کی شا یدنہ بابر اعظم کو توقع تھی اور نہ ثقلین مشتاق کچھ کہہ سکتے ہیں۔ شعیب ملک نے لکھا کہ ہم کب دوستوں، پسند اور ناپسند کے کلچر سے نکلیں گے۔ اللہ ہمیشہ سچ بولنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہےلیکن جب ایک ہی طرح کی غلطیاں کی جائیں اور ذمے دار شکست تسلیم نہ کریں تو پھر سازشی مفروضے سامنے آتے ہیں۔

دبئی میں پاکستانی ٹیم کی سری لنکا کے ہاتھوں 23رنز کی شکست کے بعد ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کی پریس کانفرنس سے لگ رہا تھا کہ سب ٹھیک ہے۔پاکستان کے آل راؤنڈر شاداب خان کہا ہے کہ ’کیچز پکڑ کر ہی میچز جیتے جاتے ہیں۔ ’میں معافی چاہتا ہوں، آج کی شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ میں نے آج ٹیم کو مایوس کیا۔‘ا نہوں نے نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد نواز کی تعریف کی اور کہا کہ محمد رضوان نے بھی بہت کوشش کی۔پوری ٹیم نے اپنی بھر پورکوشش کی۔ سری لنکا کو مبارکباد۔

واضع رہے کہ شاداب خان نے فائنل میں راجاپاکسے کے دو کیچ ڈراپ کیے۔سری لنکن بیٹسمین راجا پاکسے نے 71 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔ جواب میں پاکستانی بیٹر رن ریٹ کے دباؤ اور مسلسل گرتی وکٹوں کے باعث اس ہدف کے تعاقب میں ناکام رہے۔ محمد رضوان نے 49 گیندوں پر 55 رنز بنائے جو ناکافی ثابت ہوئے۔ثقلین مشتاق حقائق تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن پاکستان کے بہترین بیٹسمین محمد رضوان جس رفتار سے کھیلتے ہیں شائد اس رفتار سے حالیہ دور کی انٹر نیشنل کرکٹ میں مقابل کرنا مشکل ہے۔محمد رضوان اور دیگر بیٹر کو اسٹرائیک ریٹ کو تیز کرنا ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں بابر اعظم کا بیٹ خاموش رہا۔

بابر اعظم چھ میچوں میں 68 رنز بناسکے ان کا سب سے زیادہ اسکور30رنز سری لنکا کے خلاف تھا۔ فخر زمان نے شارجہ میں ہانگ کانگ کے خلاف نصف سنچری بنائی۔ چھ میچوں میں96رنز بنائے۔ فائنل میں مدوشان نے چار جبکہ ہسرنگا نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے ا نہیں آج خوش کیا۔ نوجوان کھلاڑیوں ہسرنگا اور راجاپکسا نے اچھی باریاں کھیلیں۔ آخری گیند پر چھکے نے صورتحال یکسر بدل دی۔ 170 ہمیشہ سے اچھا ٹوٹل تھا۔ 

افغانستان سے شکست ’اچھی ثابت ہوئی۔ ہم نے اس کے بعد میٹنگز کیں اور بہتر کھیلنے کی کوشش کی۔ لیگ ا سٹیج پر خامیوں کے بعد فائنل میں ہم نے فیلڈنگ میں 100 فیصد کر کے دکھایا۔ پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ سری لنکا نے عمدہ کرکٹ کھیلی اور آٹھ اوورز کے بعد میچ میں اچھی واپسی کی ۔ہم نے ویسا پرفارم نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے تھا۔ ایشیا کپ میں بہت سی مثبت چیزیں ہوئیں ’مگر ہماری بیٹنگ اور فیلڈنگ میں خامیاں تھیں۔ نسیم شاہ نے پہلے ٹورنامنٹ میں خود کو منوایا۔ 

بطور ٹیم ہم اس سے سیکھیں گے۔ل راونڈ پرفارمنس کی بدولت ہسرنگا کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہی پلان تھا کہ اگر 150 تک سکور کر لیں تو یہ اچھا ہدف ہوگا۔ مگر میں اپنے طریقے سے کھیلا۔ میری باری کے دوران وکٹ بیٹنگ کے لیے اچھی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے وکٹوں میں بولنگ کرائی اور ہمارے کھلاڑیوں نے بہت اچھی فیلڈنگ کی۔ افغانستان سے شکست کے بعد ٹیم نے بہترین واپسی کی ۔ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ سے قبل صف اول کے بیٹسمینوں کی ناکامی نے خطرے کا الارم بجا دیا۔

ایک ہفتے پہلے جس گراونڈ میں پاکستان نے بھارت کو سپر فور میں ہرایا تھا اسی گراونڈ میں سری لنکا نے پاکستان کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو چاروں شانے چت کردیا۔ آتش بازی کے رنگ و نور میں ڈوبے دبئی اسٹیڈیم میں سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے وننگ ٹرافی اٹھائی تو ہزاروں پاکستانی اسٹیڈیم سے گھر جاچکے تھے۔ پاکستان کے تماشائی اسٹیڈیم کے باہر اپنے کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی پر غم و غصے کا اظہار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ محمد رضوان نے نصف سنچری ضرور بنائی لیکن ایسے رنز کس کام کے جس میں میچ بھی فنش نہ ہو اور آپ رن ریٹ میں بھی اضافہ کردیں۔

پاکستان نے میچ میں آٹھ بیٹسمینوں کو کھلایا لیکن کوئی بھی ہدف کے تعاقب میں مدد نہ دے سکا۔ کچھ منچلے پاکستانی کرکٹرز کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ بابر اعظم کی قیادت میں اسی گراونڈ پر پاکستان ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ہارا تھا اب سری لنکا نے فائنل میں شکست دے دی۔یشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کا سفر ختم ہوا اور اب انگلینڈ کی ہوم ٹی ٹوئینٹی سیریز 20ستمبر سے کراچی میں شروع ہورہی ہے اس کے بعد پاکستان کو نیوزی لینڈ میں تین قومی ٹورنامنٹ کھیلنا ہے تاہم سب کی نظریں آسٹریلیا میں ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں۔

پی سی بی نے ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لئے آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن کو پاکستانی ٹیم کا مینٹور مقرر کیا ہے۔ ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ بھی بیٹنگ لائن کی کارکردگی رہی۔کپتان بابر اعظم کی بیٹنگ فارم اچھی نہیں تھی لیکن ان کے جلد آوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان نے بیٹنگ لائن کا بوجھ سنبھالا یہی وجہ ہے کہ انہیں ان کی مستقل مزاجی کی وجہ سے عالمی نمبر ایک بیٹسمین کی رینکنگ مل گئی۔ ایشیا کپ میں بابر اعظم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔

گروپ مرحلے میں وہ بھارت کے خلاف صرف 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے جبکہ ہانگ کانگ کے خلاف بھی وہ محض 9 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے۔افغانستان کے خلاف صفر اور سری لنکا کے خلاف 30رنز بنائے۔ بابر اعظم مجموعی طور پر 1155 دن عالمی نمبر ایک رہے جبکہ مصباح الحق 20 اپریل 2008 سے27 فروری 2009 تک 313 دن تک عالمی نمبر ایک بیٹسمین رہے تھے۔ جب رضوان عالمی نمبر ایک بنے محمد رضوان 815 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر آگئے ہیں بابراعظم کی رینکنگ اب دوسری ہیں۔ 

ان کے 794 پوائنٹس ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان 21 پوائنٹس کا فرق تھا۔ ہیڈن چند ماہ قبل شارجہ، دبئی میں ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان ٹیم کا حصہ تھے اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم نے تمام میچ جیتے تھے لیکن سیمی فائنل میں آسٹریلوی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کا سفر ختم کردیا تھا۔ اب ایک بار پھر میتھیو ہیڈن کی تقرری اس لئے حیران کن ہے کہ پاکستان کے پاس محمد یوسف کی شکل میں پہلے ہی بیٹنگ کوچ مقرر ہے۔

ایشیا کپ کی کوریج کے لئے دنیا بھر سے دبئی آئے ہوئے صحافیوں کا فائنل کے بعد گروپ فوٹو
ایشیا کپ کی کوریج کے لئے دنیا بھر سے دبئی آئے ہوئے صحافیوں کا فائنل کے بعد گروپ فوٹو 

امارات کے ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے پاس کوئی بیٹنگ کوچ نہیں تھا۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی میزبانی میں ہونے والے مینز ٹی20 ورلڈکپ کے لیے سابق اوپنر میتھیو ہیڈن کو قومی کرکٹ ٹیم کا مینٹور مقرر کیا گیا ہے، وہ 15 اکتوبر کو برسبین میں ٹیم کو جوائن کریں گے۔

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کا کہنا ہے کہ میتھیو ہیڈن کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ ٹیم میں خوش آمدید کہتا ہوں، آسٹریلوی کنڈیشنز اور کھیل سے متعلق ان کا علم قومی کھلاڑیوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ میتھیو ہیڈن نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو دوبارہ جوائن کرنے پر بہت پرجوش ہوں، ایشیا کپ میں پاکستان کی شاندار کارکردگی کو فالو کررہا ہوں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں بھی میتھیو ہیڈن پاکستان ٹیم کا حصہ تھے اور پاکستان نے سیمی فائنل میں جگہ حاصل کی تھی۔قومی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں سہ فریقی سیریز کھیلنے کے بعد 15 اکتوبر کو آسٹریلیا پہنچے گی۔ رمیز راجا نے کہا کہ آسٹریلوی کنڈیشنز اور کھیل سے متعلق ان کا علم قومی کھلاڑیوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر پارٹنرشپ پر میں ایک بینک کےبھی مشکور ہوں۔

دوسری جانب سابق آسٹریلوی کرکٹر ہیڈن نے کہا کہ میں ایشیا کپ میں پاکستان کی شاندار کارکردگی کو فالو کر رہا ہوں۔ بھارت کے خلاف جیت کا مزہ ہی آیا۔ پاکستانی کھلاڑی میتھیو ہیڈن کے کام کرنے کے انداز سے بے حد متاثر ہیں پی سی بی انہیں طویل معاہدہ دینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے پہلے سے طے شدہ کمٹمنٹ کی وجہ سے معذرت کر لی تھی۔ اب وہ ایک ماہ میں جنگی بنیادوں پر ایسا کیا کریں گے کہ پاکستانی ٹیم میں نئی روح پھونک دی جائے۔بابر اعظم اور ثقلین مشتاق کے ساتھ اس وقت بیٹنگ کوچ محمد یوسف اور شان ٹیٹ بولنگ کوچ ہیں۔

پی سی بی کی اس لحاظ سے اچھی کاوش ہے کہ بیٹرز کو آسٹریلوی پچوں اور کنڈیشن سے ہم آہنگ کرنے کے لئے میتھیو ہیڈن جیسے بڑے نام کو منسلک کیا ہے۔ تمام تر توجہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر مرکوز ہے۔ ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کا آغاز بھارت کے خلاف ہار سے ہوا تھا لیکن اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے ہانگ کانگ کو گروپ میچ اوربھارت اور افغانستان کو سپر فور مرحلے میں شکست دی۔ سپر فور مرحلے میں پاکستان نے بھارت کو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں شکست دی ،محمد نواز اور رضوان کی عمدہ شراکت اور خوشدل اور آصف کی جارحانہ بیٹنگ کے باعث 182 رنز کا ہدف میچ کے آخری اوور میں پورا کیا۔

پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے 71 جبکہ محمد نواز نے 42 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر پاکستان کو فتح دلوائی۔ افغانستان کے میچ میں نسیم شاہ کے چھکوں نے پاکستان کو ڈرامائی فتح دلوائی۔سابق بھارتی کھلاڑی سنجے منجریکر نے اپنی ٹویٹ میں بھی کیا کہ ’شاید یہ اُن کی کمنٹری کے کریئر کے بہترین میچوں‘ میں سے ایک تھا۔ تاہم ان اوورز میں گرما گرمی اُس وقت عروج پر پہنچ گئی جب افغان بولر فرید احمد نے پاکستانی بیٹرآصف علی کو آؤٹ کیا اور بات ان کے درمیان تلخ کلامی تک جا پہنچی۔ اور پھر میچ کے اختتام پر پاکستانی کھلاڑیوں کا ’جذباتی انداز‘ یقیناً اُس تلخ کلامی کا جواب تھا۔وہ میچ کا ایک اہم موڑ تھا۔ 

پاکستان کو جیت کے لیے آٹھ گیندوں پر 12 رنز درکار تھے۔ آصف علی، جو اس سے پہلے بھی آخری گیندوں پر چھکوں کی مدد سے پاکستان کو جتا چکے ہیں، فرید کو مڈ وکٹ کے اوپر سے ایک چھکا مار چکے تھے۔ فرید جذبات میں جشن مناتے ہوئے آصف علی کے پاس گئے جو اس وقت رن لینے کی کوشش میں کریز پر آگے تک پہنچ چکے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے جب فرید نے جشن منانے کی کوشش اور آصف کے قریب بازو ہوا میں لہرایا۔ اس دوران انھوں نے کیا کہا یہ تو وہ دونوں ہی بہتر جانتے ہیں لیکن آصف نے پہلے بازو اُن کی جانب بڑھایا اور لفظی تکرار کے دوران اپنا بلا بھی گھمایا۔

تاہم جو بھی کہا گیا ہو آئی سی سی کے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے پاکستان کے آصف علی اور افغانستان کے فرید احمد پر آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا پچیس پچیس فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔ آصف علی کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے نو کھلاڑی آوٹ ہو چکے تھے اور اب کریز پر نوجوان نسیم شاہ موجود تھے جو یہ سب دیکھ اور سُن چکے تھے۔اگلے اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو چھکے مار کر انھوں نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار تو کروایا ہی لیکن ساتھ ہی جس انداز میں جشن منایا اس میں جذبات اور شاید افغان کھلاڑی سے تلخ کلامی کا جواب بھی موجود تھا۔

نسیم شاہ ہی نہیں آصف علی سمیت پاکستانی ٹیم کے متعدد کھلاڑی گراؤنڈ میں آکر نسیم کا ساتھ دیتے دکھائی دیے۔ گراونڈ کے باہر افغان تماشائیوں نے ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ فائنل سے 48گھنٹے پہلے سری لنکا کی نوجوان ٹیم نے پاکستان کے خلاف سپر فور مرحلے کا آخری میچ جیت کر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ سری لنکا نے پاکستان کو پانچ وکٹ سے شکست دے دی اور ٹورنامنٹ میں لگاتار تیسرا میچ جیتا میچ کا فیصلہ تین اوورز پہلے ہوگیا۔

اتوار کو دبئی میں ہونے والے فائنل سے قبل یہ میچ ریہرسل تھا لیکن پاکستانی ٹیم اس پاکستانی بیٹنگ لائن نے غیر ذمے داری سے شاٹس کھیلتے ہوئے وکٹیں گنوائیں اور کسی نے وکٹ پر رکنے کی کوشش نہیں کی۔ سری لنکا نے پچ کی مناسبت سے پاکستانی بیٹنگ کو محدود رکھا اور بیٹنگ لائن نے کچھ جھٹکے کھانے کے بعد ہدف عبور کرلیا۔ فائنل سمیت سری لنکا نےگذشتہ پانچوں ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کو شکست دی ہے۔ہار تو ہار ہے لیکن اگر حقائق تسلیم کر لئے جائیں تو شائد اس سے ٹیم ہی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید