تختِ برطانیہ پر 70 سال سے زائد حکمرانی کرنے والی ملکۂ الزبتھ دوم رواں ماہ 8 ستمبر 2022ء کو 96 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔
ملکۂ برطانیہ کی موت پر برطانوی حکومت کی جانب سے 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، ملکہ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو پورے شاہی اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔
ایسے میں شاہی خاندان سے انسیت اور ملکہ سے محبت رکھنے والے مداح اُن کی موت کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکہ اپنی موت سے قبل تک انتہائی پُرعزم اور متحرک تھیں حتیٰ کے انہوں نے اپنی موت کے دن تک اپنے تمام فرائض باخوبی انجام دیے۔
برطانوی بادشاہت کی تاریخ میں سب سے طویل حکومت کرنے والی ملکہ گزشتہ کئی مہینوں سے صحت سے متعلق مسائل سے دو چار تھیں۔
تاحال برطانوی سرکار کی جانب سے ملکہ کی موت کی وجوہات سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئیں، 8 ستمبر کی رات کو برطانوی حکومت نے سوشل میڈیا کے ذریعے صرف ملکہ کی موت کی خبر دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ’ملکہ آج سہ پہر بالمورل میں پرسکون صورتِ حال میں انتقال کر گئی ہیں‘۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق 96 سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود ملکہ الزبتھ دوم چند ماہ قبل تک بہت اچھی صحت کی حالت میں تھیں، ان کی میڈیکل ہسٹری میں کوئی دائمی بیماری موجود نہیں تھی۔
ملکۂ برطانیہ کی میڈیکل ہسٹری کے مطابق 1993ء اِنہیں شدید فلو کاسامنا کرنا پڑا تھا، 1994ء میں اُن کی کلائی ٹوٹی تھی، 2003ء میں اُن کے ایک گھٹنے کی سرجری ہوئی تھی، 2013ء میں اُنہیں پیچش کی شکایت ہوئی تھی، 2017ء میں اُنہیں زکام ہوا تھا اور برطانوی میڈیا کے مطابق نومبر 2021ء میں ملکہ برطانیہ کو کمر کی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ملکۂ برطانیہ نے اپنی زندگی میں کافی مشکل حالات بھی دیکھے، انہوں نے 2021ء میں اپنے شوہر فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا کی موت کے بعد سے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
فروری 2022ء میں ملکہ الزبتھ کوویڈ 19 کا شکار ہو گئی تھیں تاہم اس حوالے سے شاہی خاندان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ملکہ میں وائرس کی بہت کم علامات پائی گئی تھیں۔
برطانیہ کے ایک مشہور میڈیا نیٹ ورک کے مطابق ملکہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ کوویڈ19 کے بعد وہ خود کو بہت تھکا ہوا اور کمزور محسوس کرتی ہیں، ملکہ کو اُن کی زندگی کے آخری مہینوں میں چھڑی کے ساتھ بھی چلتے ہوئے دیکھا گیا، اُن کا وزن واضح طور پر کم ہو گیا تھا، انہوں نے صحت کے سبب کئی اہم تقرریوں کو بھی منسوخ کر دیا تھا جیسے کہ اُن کی ڈائمنڈ جوبلی کے لیے طے شدہ کچھ پروگرامز وغیرہ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم کی موت بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھی کیوں کہ یہ اچانک واقع ہوئی تھی، کسی کے بھی ذہن میں اُن کی موت سے متعلق خیال نہیں آیا تھا۔
ایک آسٹریلوی ڈاکٹر گینی مینسبرگ کا ملکہ کی موت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ شاید ملکہ کو اپنے آخری لمحات میں کسی قم کی کوئی تکلیف کا سامنا نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے آخری لمحات تک اپنے سارے فرائض بخوبی انجام دیے تھے۔
آسٹریلوی ڈاکٹر گینی مینسبرگ کے مطابق ملکہ کی موت دل کے دورے یا فالج کے اٹیک کے سبب ہو سکتی ہے۔
ملکہ برطانیہ اپنی موت سے 2 روز قبل برطانیہ کی نئی وزیرِ اعظم لز ٹرس سے ملی تھیں، اس دوران عوام کی توجہ ملکہ کے دائیں ہاتھ پر نظر آنے والے نیلے رنگ کے نشان پر مرکوز ہوئی تھی، اس نشان کو دیکھ کر کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ملکہ کی موت ہونے والی ہے۔
آسٹریلوی ڈاکٹر ڈیب کوہن جونز کا ڈیلی میل کو ایک انٹرویو کے دوران بتانا تھا کہ نیلے رنگ کے جامنی دھبے نسوں کی بیماری (vascular disease) کی علامت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق ویسکیولر ڈیزیز (vascular disease) دل کے کمزور ہونے یا ایک سے زیادہ اعضاء کی کارکردگی متاثر ہونے کے نتیجے میں ہو سکتی ہے کیوں کہ اس بیماری کے سبب دل اور دماغ کی خون کی نالیاں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔
ملکہ کی اچانک موت پر مختلف ڈاکٹروں کی جانب سے ایک نظریہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ ملکہ الزبتھ کو اپنے شوہر کے چلے جانے کے غم نے بھی بہت ستایا ہو گا۔
ڈاکٹرز کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ’ہو سکتا ہے ملکہ دل ٹوٹنے کی بیماری (broken heart syndrome) کا شکار ہو گئی ہوں‘۔
ملکہ کی اچانک موت پر ڈاکٹر ڈیب کوہن جونز نے ڈیلی میل سے بات کرتے بتایا کہ (broken heart syndrome) صحت پر حقیقی منفی اثرات چھوڑتا ہے، ہو سکتا ہے کہ ملکہ اپنے شوہر کو کھونے کے بعد جذباتی طور پر اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہوں۔
ملکہ الزبتھ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو اور پوتے شہزادہ ہیری کی شاہی خاندان سے علیحدگی کے اسکینڈلز نے بھی ملکہ کو متاثر کیا، یہ شاہی خاندان کی بطور سربراہ ان کے لیے بہت بڑے چیلنج تھے۔
غیر ملکی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاید ہم ملکہ الزبتھ دوم کی موت کی وجوہات کبھی نہ جان سکیں کیوں کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کافی تنہائی پسند ہو گئی تھیں۔
ملکہ الزبتھ کی آخری آرام گاہ سینٹ جارج میموریل چیپل میں ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا کے ساتھ ہو گی۔
ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات 19 ستمبر بروز سوموار کو ادا کی جائیں گی، یہ رسومات دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز کی جانب سے نشر ہوں گی۔
ملکہ کی آخری رسومات میں یورپی شاہی خاندان کے سیکڑوں افراد، امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت متعدد معروف سیاسی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔