• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
برطانیہ پر 70برس تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم جن کا 96برس کی عمر میں انتقال ہوا، کو پورے شاہی اعزازات، قومی و فوجی اعزازات کیساتھ برطانیہ کے وقت کے مطابق دن 11 بجے سینٹ جارج چیپل ونڈزر میںان کے شوہر شہزادہ فلپ کیساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ وہ تاریخی شاہی قبرستان ہے جہاں ان کے والد شاہ جارج ششم ان کی ماں مادر ملکہ اور ان کی بہن شہزادی مارگریٹ کی آخری آرام گاہ ہے۔ بادشاہوں و شاہی خاندان کی شان و شوکت رہن سہن شادی بیاہ و دیگر رسومات کے بارے میں کتابوں میں پڑھا تھا۔ فلموں و ڈراموںمیں دیکھاتھا لیکن آنکھوں دیکھا حال پہلی بار سارا منظر دیکھا اور اب باربار وہ منظر ایک فلم کی صورت میںمسلسل چلتا ہے۔ ملکہ کی وفات سے لے کر تدفین تک آپریشن لندن برج میں سب درج تھا بلکہ یوں کہیں کہ تدفین کے متعلق بعض شقیں خود ملکہ نے درج کر رکھی تھیں۔ برطانیہ کے شاہی خاندان کے حوالے سے قوانین بھی ہیں لیکن زیادہ تر چیزیں رسم و رواج میں پائی جاتی ہیں جیسے ملکہ کے والد شاہ جارج ششم کی آخری رسومات اور شاہی خاندان کی کوئی بھی بڑی خوشی یا غمی کی تقریبات عموماً سینٹ جارج چیپل ونڈزر میں ادا کی جاتی رہی تھیں تو ملکہ کی تدفین بھی وہیں پر ہونا تھی۔ دس روز تک سرکاری طور پر سوگ منایا گیا تدفین والے روز شام 5 بجے کے بعد زندگی آہستہ آہستہ معمول کے مطابق شروع ہونا ہوئی۔ ملین افراد نے تو آخری رسومات میںبراہ راست شرکت کی دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان سمیت پاکستان کے وزیرعظم، دولت مشترکہ کے ممالک سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ برطانوی واقعی ایک قوم( One Nation) ہیں۔ لاکھوں افراد نے انتہائی نظم و ضبط سےملکہ کا آخری دیدار کیا، شاہی خاندان سمیت دنیا بھر کے اعلیٰ حکام کمیونٹیز اور بالخصوص ملکہ عالیہ کو چاہنے والے پھول لئے خاموشی کیساتھ کھڑے رہے بلکہ برطانیہ بھر کے ڈسٹرکٹ لیول پر پھول رکھنے کی جگہ اور تاثرات لکھنے کیلئے بک رکھی گئی، لندن سے سیکڑوں میل دور اگر کوئی فرد مخصوص جگہ پر پھول رکھ کر کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتا تھا تو انتہائی خاموشی ادب و احترام کیساتھ کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے حالانکہ میت تو سینکڑوں میل دور تھی پھر بڑے شہروں میں کھلے آسمان تلے بڑی سکرینیں لگا کر منظر براہ راست دکھایا جاتا رہا بلکہ بروز پیر ملک بھر میں ہو کا عالم تھا وہ دکانیں، پٹرول ا سٹیشن اور ادارے جو کرسمس پر بھی کھلے رہتے تھے، وہ بھی بند تھے کچھ کاروبار پیر کے روز شام 5 بجے کھلنا شروع ہوئے  تو لوگوں کی زبان پر ملکہ کی کہانیاں اور قصے ہی تھے۔ اہل برطانیہ آزاد خود مختار زندگی بسر کرنا پسند کرتے ہیں لیکن چونکہ ملکہ کی تدفین ایک قومی تقریب تھی تو اس روزانگلش کمیونٹی کے افراد اپنا غم کم کرنے کیلئے یا تو والدین کیساتھ چلے گئے یا والدین کواپنے ہاں بلالیا یا پب میں جاکر TV پر لائیو پروگرام دیکھا اس نیت کیساتھ کہ قومی فریضہ سرانجام ہو جائے اور فیملی کیساتھ بھی کچھ لمحات گزر جائیں گے۔ لندن میں رائل نیوی، رائل ائرفورس، آرمی کے تقریباً پانچ ہزار دستوں ویسٹ منسٹرپولیس، سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے دستوں نے تمام ترانتظامات سنبھال رکھے تھے۔ ہر کوئی افسردہ تھا،میلوں لمبی قطاریں، لوگ پھول لئے مختلف گیت پڑھ رہے تھے جوں ہی ملکہ برطانیہ کا تابوت لوگوں کے پاس سے گزرتا لوگ دیدار کرتے ہی دھاڑیں مارمار کر روتے تھے۔ معلوم ہوا رنگ و نسل، مذہب سے بالاترہر ایک کے احساسات وغم اپنے بچھڑنے کا دکھ و غم ایک جیسا ہوتا ہے۔ان کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس یعنی کہ شاہ چارلس سوم نے اقتدار سنبھال لیا۔ اب آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آئے گی اور برطانیہ میں آنے والے وقتوں میں بہت کچھ تبدیل ہوگا۔
یورپ سے سے مزید