• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے سال کے آغاز میں ہر بندہ چونکہ موٹیوویشن کی معراج پر ہوتا ہے اِس لئے یہ وقت اِس قسم کے مشورے دینے کے لئے بہترین ہوتا ہے کہ آپ کو زندگی کیسے گزارنی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے والے خود کسی گرو سے مشورہ لینے پہنچے ہوتے ہیں اور گرو کسی پیر کے پاس اور پیر اپنی زندگی کا مسئلہ حل کروانے کسی وزیر کے پاس بیٹھا ہوتا ہے ۔اِس سے پہلے کہ بات کہیں دور نکل جائے ، آج اُن اصولوں کی بات کرتے ہیں جو جاپانیوں نے زندگی گزارنے کے لیے دریافت کیے ہیں ، اِن سات اصول پر اگر آپ نے نئے سال میں عمل کرلیا تو سمجھیں آپ امر ہوگئے ۔

پہلے اصول کا نام ہے ’Ikigai‘،مطلب زندہ رہنے کی وجہ ۔ہمارے وجود کا مقصدیا زندگی کا ہدف کیا ہے ،ہم روزانہ صبح کیوں اٹھتے ہیں ، کس مقصد کے لیے ، کیا سوچ کر ہم کام پر جاتے ہیں ، کیا ہماری ملازمتیں اور کاروبار ہی زندگی کا اول و آخر مقصد ہیں ؟اِن سوالوں کا ایک سیدھا سادہ سا جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم کام پر نہیں جائیں گے تو بہرحال یہ سوچنے کے لیے بھی زندہ نہیں رہیں گے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہیے یا نہیں لہٰذا جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے نہیں بلکہ مجبوراً اٹھتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلانی ضروری ہے۔یہ سوال میں نے ایک بٹ صاحب سے پوچھا ، وہ اُس وقت کُلچوں کے ساتھ ’کھد‘ کھا رہے تھے، انہوں نے نیم وا آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئےبتایا کہ اُن کی زندگی کا مقصد یہ جاننا ہے کہ لاہور میں اچھا کھانا کہاں کہاں سے ملتا ہے ۔ وہ بٹ صاحب اب تک لاہور میں ملنے والے انواع و اقسام کے کھانوں کے بارے میں اپنی تحقیق مرتب کرچکے ہیں ۔آپ بھی اپنی زندگی کو کھنگالیں اور دیکھیں کہ آپ کا مقصد کیا ہے ، اگر کوئی مقصد نہیں تو یہ مقصد آج ہی تلاش کریں ، اگر یہ مقصد آپ کی صلاحیتوں، ضرورتوں اور دنیا کے مسائل اور اُن کے حل سے ہم آہنگ ہوتو کیا کہنے ، اِس کا مطلب ہوگا کہ آپ اکی گائی کے اصول پر کاربند ہوگئے۔

دوسرا اصول ہے’Shikata ga nai‘ یعنی جو بات ہمارے بس میں نہیں اُس پر پشیمان ہونا چھوڑ دیں، جن چیزوں کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے اُن پر وقت ضائع نہ کریں اوریہ اصول ذہن نشین کرلیں کہ ہر بات ہمارے بس میں نہیں ہوتی لہٰذا اُن باتوں پر دھیان دیں جو ہمارے بس میں ہیں اور جنہیں ہم تبدیل کرسکتے ہیں ۔ بہت سے رواقی فلسفی ،جیسے کہ سنیکا اور ایپک ٹیٹس، بھی اسی نظریے کے قائل تھے،اِس اصول کو اپنانے سےہم زندگی کی صعوبتوں اور غموں سے بہتر طریقے سے نبردآزما ہوسکتے ہیں اور اپنی توانائیاں اُن کاموں میں صرف کر سکتے ہیں جو کام ہمارے اختیار میں ہیں ۔ایک لطیفہ یاد آگیا۔ گاؤں کے مراثی کی بیوی بہت خوبصورت تھی،چوہدری روزانہ اسے کسی نہ کسی بہانے اپنے گھر بلا لیتا تھا، جب یہ بات پھیل گئی تو گاؤ ں کے لوگ میراثی کے گھر گئے اور اُس کی غیرت کو جگانے کی کوشش کی، جواب میں میراثی نے اسی Shikata ga nai کے اصول کو اپناتے ہوئے کہا کہ یہ بات میں نے سمجھ لی ہے کہ اصل میں وہ چوہدری کی بیوی ہے، لیکن ہفتے میں وہ دو دن کے لیے میرے پاس بھی آجاتی ہے۔

تیسرے اصول کا نام ہے’ Wabi sabi‘یعنی زندگی بے عیب نہیں ہوتی ، پرفیکٹ بننے کے چکر میں اِس کا لطف برباد نہ کریں،اِس بات کو تسلیم کریں کہ خود آپ میں اور دوسروں میں کمی ہوسکتی ہے ،کوئی شخص کامل نہیں ہوسکتا ،لہٰذا بے عیب زندگی کی کاوش ترک کرکے موجودہ زندگی سے ہی مسرت کشید کریں ۔چوتھا اصول ہے ’Gaman‘ جس کامطلب ہے مشکل وقت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ، اپنے وقار پر آنچ نہ آنے دیں،زندگی میں اگر کوئی افتاد آن پڑے تو جوانمردی سے اُس کا مقابلہ کریں، اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور یہ سوچیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔پانچواں اصول ’Oubaitori‘ہے جو میرا پسندیدہ ہے ، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنا موازنہ کسی دوسرے سے نہ کریں،اکثر ہم اپنے ہم عصروں سے موازنہ کرتے وقت اِس بات پر دکھی ہوجاتے ہیں کہ وہ زندگی میں ہم سے آگے نکل گئے ،لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر شخص کی زندگی منفرد ہے جس کا تقابل کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا ، دنیا میں کوئی دو کہانیاں ایک جیسی نہیں ،ہر کہانی کا آغاز اور انجام مختلف ہے، ہم لوگوں کی ظاہری چکا چوند کے ساتھ اپنی ذات کے سب سے کمزور پہلو کا موازنہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں اور خواہ مخواہ پچھتاتے رہتے ہیں، یہ نہیں جانتے کہ جس شخص سے ہم متاثر ہورہے ہیں اُس کی اپنی زندگی کیسی ہے!

چھٹا اصول ’Kaizen‘ ہے، اِس کا لفظی مطلب ہے ’تبدیلی ،بہتری کے لیے‘۔جاپانیوں کا ماننا ہے کہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں مسلسل بہتری کی کاوش کرنی چاہیے،اِس اصول کو یکم جنوری 2022 سے اپنی ذات پر لاگو کرکے دیکھیں اور خود سے سوال کریں کہ کیا گزرے ہوئے برس میں آپ نے خود میں بہتری لانے کے لیے کوئی تبدیلی کی؟ آج سال کا پہلا دن ہے ، آج سے ہی Kaizenکو اپنا لیں، اگر آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی بہتری لانے میں کامیاب ہوگئے تو سال کے آخر میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔جاپانیوں کا وضع کردہ ساتواں اور آخری اصول ہے’ Shu-Ha-Ri‘۔کوئی بھی ہنر سیکھنے کے تین مدارج ہوتے ہیں ،پہلا،شُو، اِس درجے میں آپ استاد سے بنیادی باتیں سیکھتے ہیں ، انہیں یاد رکھتے ہیں اور اُن لوگوں کی نقالی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنےفن کے ماہر ہوتے ہیں ، اِس نقالی میں کوئی حرج نہیں ۔دوسرا درجہ ہے ’ہا‘۔یہاں سے آپ تجربے کی دنیامیں داخل ہوں گے، جو کچھ سیکھا ہے اسے عملی طور پر کرکے دکھائیں گے۔تیسرا درجہ ہے ’ری‘۔اِس درجے میں آپ فن کی معراج پر پہنچیں گے اور جدت سے کام لیتے ہوئے سوچ کے نئے دریچے وا کریں گے ،گویا آپ خود استاد ہیں اور لوگ اب آپ کی نقالی کریں گے ۔

یہ تمام اصول سخت ڈسپلن کا تقاضا کرتے ہیں ، یہ ڈسپلن جنوری میں اپنے جوبن پر ہوتا مگر فروری کے آخر تک دم توڑ چکاہوتا ہے ، جولوگ زندگی سے ناشاد رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ایک مرتبہ یہ بھی چیک کرکے دیکھیں کہ انہوں نے گزشتہ برس نئے سال کا جو عہد نامہ لکھا تھا اُس پر کتنا عمل کیا؟ جواب کے لیے دیانتداری شرط ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین