پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے بطور چیئرمین اپنے دور کا موازنہ سابق چیئرمین رمیز راجہ اور احسان مانی سے کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نجم سیٹھی نے ایک ٹیبل شیئر کیا ہے جس میں پی سی بی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی، رمیز راجہ اور احسان مانی کی کارکردگی دکھائی گئی ہے۔
موازنے والے ٹیبل میں بطور پی سی بی نجم سیٹھی کا دور سب سے زیادہ اچھا رہا۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ٹیبل کے مطابق نجم سیٹھی دور میں قومی ٹی 20 اور ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر تھی جبکہ ون ڈے رینکنگ میں نمبر 5 پوزیشن پر تھی۔
ٹیبل میں سابق چیئرمین احسان مانی کے دور میں پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ نمبر 5 ویں، ٹی 20 میں چوتھے اور ون ڈے میں چھٹے نمبر پر تھی۔
رمیز راجہ کے دور میں قومی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ چھٹے، ون ڈے میں پانچویں اور ٹی 20 میں تیسرے نمبر پر تھی۔
ٹیبل میں بتایا گیا کہ نجم سیٹھی کے دور میں بابر اعظم، فخر زمان، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، حسن علی، فہیم اشرف، محمد نواز، محمد حسنین، نسیم شاہ، محمد حارث اور حیدر علی جیسے کھلاڑیوں کو سامنے لایا گیا۔
احسان مانی کے دور میں وسیم جونیئر، حارث رؤف اور شاہنواز دھانی سامنے آئے جبکہ رمیز راجہ کے دور میں صرف قاسم اکرم نئے کھلاڑیوں میں سامنے آئے
نجم سیٹھی کے مطابق ان کے دور میں پاکستانی ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی 2017 میں کامیابی حاصل کی جبکہ احسان مانی کے دورمیں سیکڑوں پاکستانی کرکٹر بے روزگار ہوئے اور رمیز راجہ کے دور میں ڈراپ ان پچز پر 50 کروڑ لاگت کے منصوبے پر وقت ضائع کیا گیا۔
پی سی بی کے عبوری چیئرمین کی جانب سے شیئر کردہ ٹیبل کے مطابق نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان سپر لیگ کا انعقاد کروایا گیا اور پی ایس ایل نے فرنچائز فیس کے ذریعے 90 ملین ڈالرز کمائے۔
احسان مانی کے دور میں پی ایس ایل 5 اور 6 میں نقصان ہوا اور رمیز راجہ کے دور میں جونیئر لیگ کو کسی ٹیم نے نہیں خریدا جس کے باعث4 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔