• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم قرض پر قرض لے رہے ہیں، واپسی کا کوئی راستہ نہیںہوگا، سلیم مانڈوی والا

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سینیٹ کی خزانہ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے گزشتہ روز سینٹ میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کا مقصد عوام اور ملک کی فلاح ہے لیکن یہ دونوں کاوشیں اس بجٹ میں کہیں نہیں، ہم قرضے پر قرضے لے رہے ہیں۔واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہوگا۔ برآمدات گررہی ہیں ، حکومت پہلے خرچ اکٹھا کرتی ہے پھر آمدنی مانگتی ہے جو غلط طریقہ ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے جی ڈی پی کا تخمینہ لگانے کے طریقہ کارکو بھی چیلنج کیا اور بیوروبرائے شماریات کو آزاد کرنیکا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشاہداللہ کی باتیں سن کر لگتا ہے ہم بجٹ کو سیاسی بنا رہے ہیں بجٹ کا مقصد عوام اور ملک کی فلاح ہے۔ مشاہداللہ نے بجٹ کے بارے میں سینیٹ میں  باتیں کی ہیں ماہر معاشیات نے بجٹ کو مختلف نام دیئے ہیں انہوں نے اس کو سیاسی بنا دیا ہے انہوں نے کہا کہ قرضہ کے جال میں پھنس رہے ہیں ہم خوش ہوتے ہیں جب آئی ایم ایف تعریف کرتا ہے ہم قرضہ پر قرضہ لے رہے اور ہمارا کوئی واپسی کا راستہ نہیں ہو گا ہمارے وزیر خزانہ بھی صورت حال کو سمجھتے ہیں۔ حکومت نے جس طرح سے جی ڈی پی کو کلکولیٹ کیا ہم نے گروتھ ریٹ پر جی ڈی پی کو لیا اس لئے اس کو چیلنج کردیا گیا ملک کی معیشت اچھی نہیں ہماری برآمدات گر رہی ہیں 2 ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات گر چکی ہیں اور یہ مزید  گر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں بیورو آف شماریات کو آزاد بنانا ہوگا اس پر حکومت کا دبائو ہوتا ہے ہماری معاشی کارکردگی کہیں نظر نہیں آرہی ہے صرف ایک سیکٹر ہے جس کی کارکردگی اچھی ہے وہ سروسز سیکٹر ہے۔ اور یہ اس کا جی ڈی پی کوئی کردار نہیں سرمایہ کاری بھی کم ہو رہی ہے جس ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو ترقی کیسے ہو گی۔  ہمارے پاس کوئی پلان نہیں ہے چارٹر آف اکنامی ایک سیاسی نعرہ ہے اس بجٹ میں جی ایس ٹی کا مسئلہ بھی آئے گا۔ اگر حکومت نے ہماری سفارشات اس سلسلہ میں منظور نہ کیں تو بجٹ منظور ہونے کے بعد صوبوں اور وفاق میں مسائل پیدا ہوں گے ہم ان ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ کررہے ہیں ہم جب طریقہ سے آمدنی اکٹھی کر رہے ہیں اور اسی طرح ڈائریکٹ ٹیکس ختم ہو جائے گا ۔بجٹ میں زراعت کتنی اہم ہے اس کو کتنی اہمیت دینی چاہیئے ہم نے زراعت کو نظر انداز کیا اور یہ شارٹ ٹرم میں بہتر نہیں ہو سکتی ہمیں اندرونی سرمایہ کاری پر توجہ دینا چاہیئے بجٹ میں ہائوسنگ اور ایمپلائمنٹ کوبھی خاطر میں نہیں لائے اور یہ روایتی طورپر بجٹ بنانا بند کرنا ہوگا ہم نے سرکاری  سطح پر کم قیمت کی ہائوسنگ سکیم بھی دی ہے۔
تازہ ترین