’’ہم کو مطلب اپنے سوزوسازسے‘‘میرا موضوع اس وقت تحریک پاکستان کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے علمائے دیوبند ہیں،تحریک پاکستان اور دوقومی اسلامی نظرئیے پرقلم چلانے والے میرے ہم عمر حضرات یقیناً سماعیات ہی کی روشنی میں لکھ سکتے ہیں لہٰذا مذکورہ بالا عنوان کی صحت پرکامل یقین رکھتے ہوئے عرض گزار ہوں کہ بظاہر ہندومسلم اتحاد ،مگر حقیقت میں علمائے حق اور فقط مسلمانان ہند کی جانی ومالی پُرخلوص قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج اور انگریز سرکار کو ہندوستان چھوڑ کر بالآخر جانا پڑا تو صورتحال یہ تھی کہ دس کروڑ مسلمان اور تیس کروڑ ہندو تھے، جس کالازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر 30 کروڑ ہندو 10کروڑ مسلمانوں پرحاکمیت کی آڑ میں غلام بنانے کا بھیانک خواب دیکھ رہاتھا وغیرہ وغیرہ۔
بس یہی وہ امتحانی موڑتھا جس پر علمائے دیوبند کی اجتہادی تقسیم ہوگئی ،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا تو تحریک پاکستان کے حوالے سے دور دور بھی کوئی ذکر فکر تھا ہی نہیں ،اختلاف تو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مہاجر مدنیؒ کے مابین تھا، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت مدنیؒ کے ہمنوا علماء کی تعداد کثیر تھی چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناح مرحوم نے جب یہ مایوس کن صورتحال دیکھی تو انہوں نے نوابزادہ خان لیاقت علی خان شہید سمیت چند ساتھیوں کو ایک خط کے ہمراہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی خدمت میں خانقاہِ تھانہ بَھون بھیجا۔ بس یہاں سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا تحریک پاکستان کے ساتھ جوڑ لگاہے وہ بھی پہل قائداعظم کی طرف سے ہوئی ورنہ مستند شنید یہی ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کو طبعاً سیاسیات سے کبھی دلچسپی ہی نہیں رہی۔
پاکستان میں مقیم بیشتر علمائے دیوبند کی سینہ بہ سینہ چلنے والی ایک زبردست غلط فہمی دور کرنے کی غرض سے لکھ رہاہوں کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے قائداعظم کے رابطہ کرنے پر آنکھ بند کر کے فوراً ہی آل انڈیا مسلم لیگ اور قیام پاکستان کی حمایت نہیں کردی تھی بلکہ دوتین اہم ترین مراسلتوں،خطوط کے تبادلوں اور جواب الجواب کی روشنی میں بہت کچھ سوچنے سمجھنے کے بعد حمایت کا فیصلہ فرمایاتھا،غرضیکہ مولانا اشرف علی تھانوی کی وقیع وبھاری بھرکم حمایت کے نتیجے میں 1946ء کے الیکشن میں مسلم لیگ اکثریت سے جیت گئی اور پاکستان بن گیا۔
لیکن موضوع بحث اس تحریرسے صرف یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے حوالے سے علمائے دیوبند میں صرف ایک اجتہادی اختلاف تھا،جیسا کہ حضرت مولانا حسین احمد مہاجرمدنیؒ کا مؤقف یہ تھا کہ ملک تقسیم نہ ہو، مسلمان ہندوستان ہی میں رہ کر اپنی جمعیت اور طاقت کے ذریعے اسلام کے قوانین اور اپنے من مانے اسلامی مطالبات منوانے کی بھرپور جدوجہد کریں، نیز ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں مسلمان تقسیم ہو کر دونوں طرف کمزور پڑجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔دوسری طرف حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں مؤقف یہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنا ایک الگ خطۂ زمین ہو جہاں مسلمانوں کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ اتنا سیاسی غلبہ ہو کہ مسلمان جب اور جس وقت چاہیں اسلام کا نظام اور قرآن وسنت کا قانون نافذ کرسکیں۔علمائے دیوبند کو ایک لکڑی سے ہانکنے کا مشغلہ رکھنے والے معاندین حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒکے اس انتہائی اخلاص کو بھی پیش نظر رکھا کریں کہ پاکستان بننے کے بعد حضرت نے اپنے تمام متوسلین وہمنوا شاگردوں سے واضح طور پر فرما دیا تھا کہ جب تک پاکستان بنانہیں تھا اُس وقت تک ہمارا اختلاف تھا، اب وہ اختلاف ختم ہوگیا لہٰذا اب پاکستان کی حفاظت کرنا تمہاری اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔
بہت معذرت کے ساتھ یہ بھی عرض کردوں کہ حضرت مدنیؒ کے اس مخلصانہ فرمان کا لحاظ پاکستان میں ماقبل سے رہنے والے یامنتقل ہوکر بسنے والے (بہ استثنائے چند) شاگردوں نے ہرگز ہرگز نہیں رکھا،خاص طور پر 70ء میں بھٹو کے سوشلزم کے شانہ بہ شانہ چلنے والے دیوبندی مولویوں نے، جنہوں نے پاکستان کے جمہور علماء سے کٹ کرسوشلزم جیسے کفریہ نظام کا علی الاعلان ساتھ دیا،پھر9ماہ کی قلیل مدت میں وزیراعظم بھٹو کی فاسقانہ وفاجرانہ روش سے اچانک تنگ آکر اللہ کی رضا کی خاطر اقتدار کو لات مار کربھٹو حکومت اور سرحد کی وزارت اعلیٰ سے الگ ہوگئے۔کاش کہ یہ اللہ کی رضا کاجذبہ70ء کے الیکشن سے قبل ہی پیدا ہوجاتا۔
پاکستان میں رہنے والے وہ علمائے دیوبند کہ جو سیاسی نظرئیے کے حوالے سے سب سے پہلے نام لیتے ہیں حضرت مدنیؒ کا،وہ تو دوقومی اسلامی نظریۂ پاکستان کی حمایت وحفاظت سے بحمداللہ فارغ البال تھے اور ہمیشہ رہیں گے ،اس حوالے سے اُن کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی لیکن جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ،علامہ شبیر احمد عثمانیؒ،حضرت مولانامفتی محمد شفیع دیوبندیؒ وغیرہ کے نام لیوا ہیں وہ دوقومی نظریۂ پاکستان کی اسلامی حیثیت واضح کرنے کی تحصیل حاصل ضرورت سے ہٹ کر اس امر کی بھی وضاحت فرمائیں کہ تھانوی سلسلے کے مخلص بزرگوں کے1970ء سے 76ء تک پوری کھیپ کے انتقال پُرملال فرمانے کے بعد خالص تھانویت کے رنگ میں اولاد و تلامذہ نے اس اسلامی نظرئیے کی حفاظت میں کب کب کہاں کہاں اور کیسے کیسے عملی مظاہرے اور قربانیاں پیش کی ہیں؟جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ 77ء کے نام نہاد پاکستان قومی اتحاد کا نقشہ سامنے رکھیں جس کے صدر اور ایک سرحدی پارٹی سمیت جتنے کمیونسٹ اور سوشلسٹ بھٹو کی جماعت سے نکلے (نکلے ہوئے یا نکالے ہوئے) ان میں سے ایک بھی دو قومی اسلامی نظرئیے کو سرے سے مانتا ہی نہیں تھا،نیز بھٹو کے خلاف چلنے والی توڑ پھوڑ کی تحریک میں بائیں بازو کے وہ تمام سوشلسٹ و کمیونسٹ اور بددین طبقہ بھٹو سے ناراض ہوکر اسلام پسندوں کے پروجیکٹ (نظام مصطفی)کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں سر پیر سے لگے ہوئے تھے، پاکستان بنانے والی اصلی مسلم لیگ کی بگڑی ہوئی ذُرّیت ،دولت واقتدار کی پجاری وقت کی تمام مسلم لیگیں اور مولانا اشرف علی تھانویؒ و علامہ شبیراحمد عثمانیؒ کے نام کی تسبیح پڑھنے والے حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے سوا تمام علماء ومشائخ اور صوفیاء واتقیاء سب نے ذوالفقار علی بھٹو کی نفرت اور دشمنی میں مغلوب ہوکرجماعت اسلامی کی امامت میں پاکستان قومی اتحاد کا ساتھ دے کر حضرت مفتی محمدشفیع صاحبؒ کے اس مذکورہ بالا معرکۃ الآرا فتوے کے پرخچے اُڑا کررکھ دئیے کہ جسے آج بھی علمائے دیوبند کے سر فخر سے بلند کرنے کے لئے جابجاپیش کیاجاتا ہے ،حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ دارالعلوم دیوبند کے طبقۂ حامیان پاکستان اور خانقاہ تھانہ بھون سے قیام پاکستان کے حق میں اٹھنے والی سیاسی حمایت و بصیرت کے دوٹوک منّاد اور ترجمان بِلاشبہ تھے ،کیا 77ء سے لگا کر آج تک دونوں نسبتوں اور جلیل القدر فتوے کی زبردست روشنی میں دوقومی نظریۂ پاکستان کا حق مصلحتوں سے بالاتر ہوکر خالص تھانویت کے رنگ میں بلاخوف ولومۃلائم ادا کیاجارہاہے؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مایوسی اور بے بسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آج مولانا اشرف علی تھانوی سمیت قیام پاکستان اور دوقومی اسلامی نظرئیے پاکستان کے حامی علمائے دیوبند کی فراست ایمانی و دوربینی پر مبنی بے لوث خدمات اور ہرقسم کی علاقائی ولسانی تفریق اور مذہبی فرقہ واریت سے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بچانے کی اعلیٰ ترین حکمت عملی کے زریں اقدامات کو ایسا زنگ آلود کر دیا گیا ہے کہ ہرایرے غیرے کے ہاتھ میں بِلاشرکتِ غیرے قیام پاکستان کی ٹھیکیداری اور اس کے مقصد کی ڈگڈگی آگئی ہے۔انگریزی پڑھے لکھے مسلمان غلام ذہنیت کے مالک،جن میں 95فیصد مسلم لیگی بھی شامل ہیں سوشلسٹ کمیونسٹ نیشنلسٹ حتیٰ کہ بیشتر دولت کے نشے میں دُھت کیپٹلِسٹ اور جاگیردار وسرمایہ دار قیام پاکستان کا مقصد تحریروں میں بزور قلم اور تقریروں میں گلے پھاڑ پھاڑ کر اسلامی مملکت کے سِوا سب ہی کچھ بتاتے ہیں بلکہ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی پیش کردہ قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنادینے پر آج بھی پیچ وتاب کھاتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کے راستوں کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
بہرحال! ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ 69ء میں سیاسی ایشو کے طور پر ابھرنے والا سوشلزم کا نعرہ تو 77ء کے الیکشن میں دم توڑ گیا لیکن قیام پاکستان کی مخالفت کو گلے کا تعویذ بنانے اور پاکستان سے تمام مفادات سمیٹنے حتیٰ کہ امریکی خدائوں سے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کی بھیک تک مانگنے کے باوجود کسی مذہبی وسیاسی کانگریسی رہنما یاجماعت نے آج تک برملایہ اعلان نہیں کیاکہ 47ء میں قیام پاکستان کی مخالفت کا مؤقف بھی غلط ہونے کے باعث دم توڑ چکا ہے، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ تو اپنے تاریخی فرمان کے ساتھ بحمداللہ عنداللہ وعندالخلق بری الذّمہ ہوگئے تھے لیکن حضرت کے پاکستانی حوارییّن ایک شعر کا مصداق آج تک بنے ہوئے ہیں۔
رات کوپی اور صبح کو توبہ کرلی
رِند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی