• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل نوجوان جاگنے سے لے کر سونے تک گھنٹوں اپنے فون اور لیپ ٹاپ سے چپکے رہتے ہیں لیکن ان میں سے ہر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے لیے کمپیوٹر سائنس پڑھنا اہم ہے۔ جس طرح طلبہ کو مؤثر طریقے سے پڑھنا، تجزیہ کرنا اور لکھنا سیکھنا چاہیے، اسی طرح انہیں باخبر ڈیجیٹل شہری بننے کے لیے کمپیوٹر سائنس سے آگاہی کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیکنالوجی ان کی روزمرہ زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کمپیوٹر سائنس بنیادی کمپیوٹنگ کی مہارتیں حاصل کرنے کا نام نہیں ہے جیسے انٹرنیٹ استعمال کرنا، ٹائپنگ کرنا اور اسپریڈشیٹ پر کام کرنا۔ 

کمپیوٹر سائنس کمپیوٹیشن، آٹومیشن اور معلومات کا مطالعہ ہے۔ کمپیوٹر سائنس پڑھنے والے ہر قسم کے کاروباری، صنعتی، سائنسی اور سماجی سیاق و سباق میں مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کو ڈیزائن، تیار اور تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر، کمپیوٹر سائنس یہ سیکھنے کے بارے میں ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کو کیسے بنایا جائے، بجائے اس کے کہ ان کا استعمال کیا جائے۔ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ وہ سافٹ ویئر کیسے ڈیزائن کیا جائے جو اسپریڈشیٹ بنائے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر تیار کرنے میں استعمال ہونے والی کوڈنگ زبانیں کمپیوٹر سائنس کے لیے ایک ٹول ہیں، جس طرح ارتھمیٹک ریاضی کا ایک ٹول ہے اور الفاظ زبانی رابطے کے لیے ایک ٹول ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے معیارات ریاضی کے معیارات کے ساتھ اوورلیپ ہوتے ہیں اور اس میں سیکوئنس، ترتیب اور سارٹنگ جیسے تصورات شامل ہوتے ہیں۔ 

معیارات میں سائنس کے تصورات بھی شامل ہو سکتے ہیں جیسے کہ کوئی مفروضہ وضع کرنا، اس کی جانچ کرنا، اسے بہتر کرنا، اور شاید ’ڈیبگنگ‘ کے بعد کسی تجربے کو دوبارہ ڈیزائن کرنا۔ کوڈنگ کی طرح بنیادی تصورات بھی اتنے ہی اہم ہیں جیسے کمپیوٹیشنل تھنکنگ۔ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم کے ابتدائی سالوں میں مستقبل کے پروگرامرز کی تربیت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

امریکا میں کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ملازمتیں بہترین معاوضہ دینے والے پیشوں میں شامل ہیں۔ یو ایس بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کا اندازہ ہے کہ اس طرح کی ملازمتیں اگلی دہائی میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی ملازمتوں میں شامل ہوں گی۔ ابتدائی اسکول میں کمپیوٹر سائنس میں طلبہ کی دلچسپی بڑھانا بہتر ہے کیونکہ موجودہ دور ڈیجیٹل اور کمپیوٹنگ کا ہے۔

کمپیوٹر سائنس کے مختلف مضامین میں کیریئر بنانا طلبہ کو دنیا کا اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری بنانے کے ساتھ اکیسویں صدی کے ذرائع معاش سے ہم آہنگ کرنے میں بھی خاصا مددگار ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آج کا طالب علم کمپیوٹر سائنس کے اصولوں اور طریقہ کار پر دسترس رکھتاہو۔ کمپیوٹر سائنس میں کیریئر بنانے کے خواہش مند طالب علموں کے لیے یہ میدان ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈگری کے اختیارات

شعبہ کمپیوٹرسائنس ، کمپیوٹر سے متعلق ان تمام ترمعلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، جو مسائل کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ کسی بھی طالب علم کو سب سے پہلے یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ طالب علم کی حیثیت سے بیچلر آف سائنس (BS)کی ڈگری حاصل کرنا ہوگی۔ بی ایس کرنے والے طالب علموں کو دوران تعلیم میتھ اور سائنس کے مختلف مضامین میں مہارت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ دوران تعلیم میتھ اور سائنس کے مضامین پر گہرا مطالعہ طلبا کی مارکیٹ ویلیوکہیں زیادہ بڑھادیتا ہے۔ 

کمپیوٹر سائنس میں بی ایس یا بی ایس سی تین یا چار سالہ ڈگری پروگرام ہوتا ہے، جس میں داخلہ اہلیت کی بنیاد پردیاجاتا ہے۔ ملک کی مختلف جامعات میں یہ ڈگری آفر کی جاتی ہے۔ چونکہ کمپیوٹر سائنس کا نصاب سافٹ ویئر سے متعلق امور پر مشتمل ہوتا ہے،لہٰذا انڈر گریجویٹ طلبا و طالبات اس دوران کمپیوٹر کا تعارف، اس کی مختلف اقسام، کمپیوٹر لینگویجز، ان کے پروگرام اور نظری و عملی مضامین کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔

بیچلرز مکمل کرنے کے بعد اگلا مرحلہ ایم ایس (MS) یا ایم ایس سی (MSC) ڈگری کا ہوتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس یا ایم ایس سی کا نصاب2سال پر مبنی ہے، جوکمپیوٹر سائنس میں گریجویٹ کرنے والے طالب علموں (بی ایس کے طالب علم ایم ایس جبکہ بی ایس سی کے طالب علموں کے لیے ایم ایس سی) کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نکھار کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے۔ داخلے کے لیے بنیادی اہلیت کمپیوٹر سائنس، ریاضی، شماریات اور طبیعیات میں سے کسی ایک مضمون میں بی ایس سی یا بی ایس کی سند کا ہونا ہے جبکہ بی اے اور بی کام کی سند کے حامل ایسے امیدوار بھی داخلے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جنھوں نے ریاضی میں سرٹیفکیٹ کورس کیا ہو یا شماریات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کر رکھا ہو۔ بی ای اور بی ٹیک کے گریجویٹس بھی داخلے کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔ داخلہ اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور داخلے سے پہلے امیدوار کے لیے میلانِ طبع کا امتحان کامیاب کرنا ضروری قراردیا جاتا ہے ۔

میجر کورسز

کمپیوٹر سائنس میں اپنا مستقبل بنانے والے نوجوان تعارف ،کمپیوٹر پروگرامنگ ،ڈیجیٹل سسٹم ،ڈسکریٹ اسٹرکچر ، انٹرنیٹ اور ملٹی میڈیا، کمپیوٹر آرگنائزیشن اور اسمبلی لینگویج ،سوفٹ ویئر انجینئرنگ ،کمپیو ٹنگ ، ایتھیکس اور سوسائٹی ،الگورتھم اور ڈیٹا اسٹرکچر ،کمپیوٹر آپریشن سسٹم جیسے مضامین میںڈگر ی حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈگری اور کیریئر

کمپیوٹر سائنس میں مختلف ڈگریوںکے حامل طالب علموں کے لیے کیریئر کے مواقع ذیل میں درج ہیں۔

ایسو سی ایٹ ڈگری : کمپیوٹر سپورٹ اسپیشلسٹ ،کمپیوٹر ٹیکنیشن ،ویب ماسٹر

بیچلر ڈگری : کمپیوٹر سپورٹ اسپیشلسٹ، کمپیوٹر پروگرامر ،سوفٹ ویئر ڈیویلپر، ویب ڈیویلپر ،کمپیوٹر سسٹم انالسٹ

ماسٹر ڈگری: کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ڈگری رکھنے والے طالب علموں کو مندرجہ بالا تمام کیریئر میں اعلیٰ پوزیشن آفرز کی جاتی ہیں

ڈاکٹورل ڈگری: پروفیسر کمپیوٹرسائنس کے میدان میں ڈگری ہولڈر طالب علموں کو مختلف کمپنیز، آرگنائزیشن اورمشاورتی فرم کی جانب سے جاب آفرز کی جاتی ہیں۔ کمپیوٹر سائنس پروفیشنلز براہ راست کمپنیز اور آرگنائزیشن کے ملازم ہوتے ہیں اور بعض جگہوں پر یہ ملازمتیں تھرڈ پارٹی کے ذریعے آفر کی جاتی ہیں۔

تجربے کا حصول

ٹیکنالوجی کے میدان میں طالب علموں کے لیے تجربہ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کہ ڈگری۔ چاہے آپ کالج کے طالب علم ہوں یا یونیورسٹی کے، دوران تعلیم ہی اس شعبے میں تجربہ حاصل کرنے کی کوشش کریں، یہ تجربہ انٹرن شپ کی صورت آپ کو ملازمت کے قابل بنادےگا ۔ یونیورسٹیوں کی طرف سے بھی طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ گریجویشن مکمل کرنے سے قبل کسی کمپنی یا ادارے کی ضروریات اورقواعد وضوابط کے تحت مخصوص مدت کےلیے انٹرن شپ کریں۔ 

ہمارے ملک میں بھی ہر سال بہت سے ملکی و غیرملکی ادارے طالب علموں کو گریجویشن کے دوران انٹرن شپ آفرکرتے ہیں ۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں آئے روز نت نئی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں، لہٰذا آپ کو ٹیکنالوجی کے پروگرام میں ہر لمحہ بدلتی ہوئی کاروباری ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے ۔