• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجابی افسانہ، پنجابی تنقید، عالمی معیار

غریب ماں نے جب اپنے بیٹے کو جگایا تو وہ رونے لگ گیا۔ماں۔’’ کیا ہوا بیٹے۔‘‘..بیٹا۔ ’’ماں جی۔ روٹی تو میرے خواب میں ہی رہ گئی۔‘‘

تحریر:محمد نعیم یاد۔ افسانوی مجموعہ۔’نیناں دے سفنے‘ (آنکھوں کے خواب)

غربت، مفلسی ، بے بسی، بے کسی، عدم مساوات، خواب غفلت، ایک دوسرے کے دکھ سے عاری۔ یہ ہے آج کے پنجابی افسانوں کا بنیادی موضوع۔ پنجابی کہانی کاروں کی ایک بڑی تعداد اپنے گرد و پیش کی عکاسی بہت ہی خلوص اور مہارت سے کررہی ہے۔ جس زبان میں اپنے دکھ درد کی تصویریں اتنی تخلیقی اپج سے کی جارہی ہو۔ وہ بڑی طاقت سے زندہ رہتی ہے اور اپنے بولنے والوں کی سچی صورت حال دنیا کے سامنے رکھتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان زبانوں کی تخلیقات کے ترجمے وفاقی باہمی رابطے کی قومی زبان اُردو میں نہیں کئے جارہے۔ اس لئے ملک کی اکثریت اپنی صدیوں کی میراث اور اظہار کے تسلسل والی قومی زبانوں پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتو، ہندکو، بلوچی، براہوئی، بلتی، شینا، کشمیری میں تخلیق پانے والے ادبی خزانے سے ناواقف رہتی ہے۔ ہمارا بڑا میڈیا اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کررہا ۔ پاکستان کی عظیم ریاست ایک ایسا خوش قسمت وفاق ہے کہ اس کو کئی کئی ہزار سال کی ثقافت، تہذیب، شاعری، کہانی کاری رکھنے والے صوبے اور وحدتیں میسر آئی ہیں۔ یہی سر زمین اپنے پہاڑوں،ریگزاروں، دریائوں، ندیوں میں انتہائی قیمتی معدنی وسائل بھی رکھتی ہے۔مگر ہمیں عادت ڈال دی گئی ہے کہ اپنے پاس موجود ان اثاثوں سے استفادے کی بجائے ہم ہزاروں سینکڑوں میل دور مہنگے سفر کرکے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے دروازوں کے سامنے کشکول اٹھائے فقیرانہ صدائیں لگاتے ہیں۔ حکمرانوں کی نسلیں یہی گداگری کرتی آرہی ہیں۔

..........

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، بہوئوں دامادوں سے دوپہر کے کھانے پر مل بیٹھنے اور عصر کے بعد اپنی گلی محلے کے معزز ہمسایوں سے حال احوال سننے کا دن۔ سب سے پہلے تو اپنے خدائے بزرگ و برتر کا شکر گزار کہ مجھے اچانک خیال آیا کہ ہمارے مختلف علاقوں کی صدیوں قدیم قومی زبانوں میں جو کچھ لکھا اور پڑھا جارہا ہے۔ اس پر پیاری پیاری باتیں کی جائیں۔ تخلیقی جہات اور رجحانات سے آگاہ ہوا جائے۔ پھر ان احباب کے حضور اظہارِ ممنونیت جنہوں نے سندھی، سرائیکی اور اب پنجابی کے ادبی خزانے میرے سامنے بکھیر دیے۔ ان کے توسط سے ہی میں اپنے علم میں اضافہ کرسکا۔ اور پھر کچھ تازہ ترین معلومات آپ تک پہنچاسکا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سیاسیات، عدلیہ، معیشت،سلامتی، بین الاقوامی امور، زراعت، تجارت، منصوبہ بندی پر لکھتے ہوئے تان مایوسی اور ناامیدی پر ٹوٹتی ہے۔ ادھر جب آپ اپنے تخلیقی ادبی چشموں پر پیاس بجھانے نکلتے ہیں تو نہ صرف تشنگی دور ہوتی ہے۔ جی چاہتا ہے یہیں عمر بسر کیجئے۔

سراپا پہ جس جا نظر کیجئے ،وہیں عمر ساری بسر کیجئے

پنجابی شاعری پر کچھ بات ہوئی تھی۔ صوفیائے کرام کی پنجابی کلام کے ذریعے لوگوں کو جگانے کی صدیوں کی روایت اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے۔ پابند نظم یا نثری نظم، صوفیوں کا آہنگ سب میں جھلکتا ہے۔ پنجابی ذہن میں بلھے شاہ،سلطان باہو، شاہ حسین، وارث شاہ کے لہجے تو وراثت میں ملتے ہیں۔ افسانے، ناول، مختصر کہانی پر جدید عالمی ادب کے اثرات بھی ہیں۔ پنجابی میں کئی معیاری رسالے شائع ہورہے ہیں۔ جن میں سے کچھ بند بھی ہوگئے ہیں۔ ماہنامہ ’تخلیق‘ اُردو کے ساتھ پنجابی حصّہ بھی ہر شُمارے میں شامل کرتا ہے۔ اہم رسالوں میں ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کا ’پنجابی‘۔ مولا بخش کشتہ کا ’پنچ دریا‘۔ سید اختر حسین اختر کا ’لہراں‘۔ محمد آصف خان اور اب پروین ملک کا ’پنجابی ادب‘۔ پندرہ روزہ ’رویل‘ تنقید کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ جمیل احمد پال کی لگن لائق تحسین ہے۔ پیلاک کا ’ترنجن‘۔ دوماہی مہکان(مشتاق عادل) بہاول نگر کا تماہی۔ الیاس گھمن کا ساہت۔ تنویر ظہور سالہا سال ’سانجھاں‘نکالتے رہے ہیں۔پنجابی فکشن نے گزشتہ تین چار دہائیوں میں بڑی تیزی سے ادبی افق پر اپنا دوام ثبت کیا ہے۔ پورے اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ پنجابی افسانہ اور ناول عالمی ادب کے معیار کا ہے۔ ادبیات پاکستان ان کا انگریزی میں معیاری ترجمہ کروائے تو دنیا کو علم ہو کہ پانچ دریائوں کی سر زمین میں پنجابی میں لکھنے والے افسانہ نگاروں کا تخیّل کس بلندی پر ہے۔ زاہد حسن کی ’کہانی اک ماں دی‘ علی انور کی ‘شکارن‘۔ زبیر احمد کا افسانوی مجموعہ ’پانی دی کندھ‘۔ نیلم احمد بشیر کی ’مور بلیندا‘۔ توقیر چغتائی کی اخیر لاہنجو‘۔ محمد نعیم باد کی ’نیناں دے سفنے‘ ڈاکٹر کرامت مغل ’پٹھے ٹردے لوگ‘۔ مخدوم ٹیپو سلمان’آدھی موت‘ تو تازہ ترین نام ملے ہیں۔ اس سے پہلے نیلم احمد بشیر۔’ہر گچھاز خمایا‘ مقصود ثاقب ’توں گھر چلاجا‘ علی انوراحمد ’جیویں کوئی سجے‘۔ گل زیب عباسی ’بھڑاس‘۔ عمر فاروق کی ’شہر دی کڑی‘۔ مدثر بشیر کا ناولٹ’کون‘۔ نسیم اقبال بھٹی۔ ’سائیں ہتھ ڈور‘۔ امین ملک۔ ’سانجھی ککھ‘۔ احمد شہباز خاور’ناول گھنوں‘۔ بعض عام ادبی ادارے اور ادبی شعبے۔ پنجابی کتابوں پر ایوارڈ بھی دے رہے ہیں۔

معذرت کہ ایک کالم میں تمام لکھنے والوں کا ذکرممکن نہیں۔ میری کوشش تو یہ ہے کہملک بھر کے لکھنے والے ایک دوسرے کے بارے میں جان سکیں۔ اور میرے قارئین با خبر ہوجائیں کہ قومی زباوں میں کیا لکھا اور کیا پڑھا جارہا ہے۔ تخیل کی پرواز رک نہیں رہی ہے۔ ہماری عظیم مملکت جن فکری دھاروں سے گزر رہی ہے۔ وہ سامنے لائے جا سکیں۔ ابھی یہ جان کر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ پنجابی غزل، نظم، کہانی، ناول، ڈرامہ، اپنے بنیادی خیال، اندازِ بیاں، زبان کی وسعت کے حوالے سے تو بہت آگے ہے ہی ادبی تنقید بھی جدید تر عالمی تنقید کے معیار پر اترتی ہے۔ اُردو میں اس وقت کوئی حقیقی نقاد نہیں ہے۔ کتابوں کی رونمائیوں نے ادبی محاکمے کو ناقابل اعتبار کردیا ہے۔ لیکن پنجابی تنقید میں بہت معروضیت پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نسرین مختار کی اہم کتاب ’پاکستانی‘ پنجابی ناول ’دا ارتقا‘ پنجابی ناول کو سمجھنے میں بہت مددگار ہے۔ اس پر بھی بات ہوگی۔ کچھ مضامین بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تو ان افسانوی مجموعوں اور ناولوں کی کہانیوں کے بنیادی تصورات نہ صرف سامنے آتے ہیں بلکہ ان کہانیوں کے کرداروں کی نفسیات تک بھی رسائی ہوجاتی ہے پنجابی سوچ کس طرف جارہی ہے۔ مزاحمت کن امور کی ہورہی ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت پنجابیوں کو کتنا مایوس کررہی ہے۔ خودکشی محبت میں ناکامی کے باعث ہے یا عدم مساوات کی وجہ سے۔ ان ناولوں اور افسانوی مجموعوں کے نام بھی منفرد اور بہت دلکش ہیں۔ انسانی زندگی کے رنگ ہر افسانے میں بکھرتے ہیں۔ احمد شہباز خاور کے افسانوی مجموعے کے نام’چپ دی چیک‘ ( خاموشی کی چیخ) پر بات ختم کرتے ہیں۔ آئندہ اتوار پنجابی کی تازہ ترین شاعری پر لکھنے کا ارادہ ہے۔

تازہ ترین