مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے شمار احسانات فرمائے ہیں ۔ یہ احسانات دو طرح کے ہیں: ۱ ظاہری اور ۲ : ... باطنی۔ انہیں جسمانی و روحانی بھی کہا جا سکتا ہے۔ ظاہری و جسمانی احسانات تو یہ ہیں کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے، مسجودِ ملائکہ ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے، ہمیں انسان پیدا کیا ہے اور عقل و شعور سے نوازا ہے، پھر ہمیں صحیح سالم پیدا کیا، عوارض و معذوریوں سے ہماری حفاظت فرمائی، ’’احسنِ تقویم‘‘ کے سانچے میں ڈھالا، مضبوط و توانا کیا، ہماری بینائی و شنوائی، حواسِ خمسہ وغیرہ کو ٹھیک ٹھیک رکھا، دل کی دھڑکن سے سانس کی روانی تک سفرِ زندگی کو رواں دواں رکھا ہے۔ کھانے کو روٹی، پینے کو پانی، رہنے کو گھر، بدن چھپانے کے لیے لباس، اسفار کے لیے سواری، غرض! اللہ تعالیٰ نے اس قدر نعمتوں سے نواز رکھا ہے کہ ہم وہ نعمتیں گن گن کر تھک جائیں گے، مگر اس کا شمار ہماری استطاعت سے باہر ہے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے’’اور اگر شمار کرو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہ پورا کرسکو گے ان کو‘‘ ....(سورۃالنحل: ۱۸)
ان انعامات و احسانات کی دوسری قسم باطنی و روحانی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا، بھٹکی ہوئی انسانیت کو پیغامِ خدا پہنچانے کے لیے انسانوں ہی میں سے اپنے انبیاء و رسل کا انتخاب فرمایا، یعنی خلافتِ الٰہی اور رسالتِ خدائی کا تاج انسان کے سر پر رکھا، پھر ہمیں اپنے آخری و محبوب پیغمبر حضور اکرم ﷺ کا امتی بنایا، اپنا آخری کلام، قرآنِ کریم کی صورت میں ہمیں عطا فرمایا۔
قرآنِ کریم آخری کتابِ الٰہی، حضور اقدس ﷺ آخری رسولِ خدا ہیں اور ہم امتِ محمدیہ آخری امت کہلاتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے: ترجمہ: ’’اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہی میں سے ہے، پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی ، اور پاک کرتا ہے ان کو یعنی شرک وغیرہ سے ، اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات ، اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے.....‘‘ (سورۂ آلِ عمران:۱۶۴)
ترجمہ: ’’اتاری تجھ پر کتاب سچی ، تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی ، اور اتارا تورات و انجیل کو اس کتاب سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لیے، اور اتارے فیصلے....‘‘ (سورۂ آلِ عمران: ۳، ۴)
حدیث ِ نبوی میں اعلانِ پیغمبری ہے:’’میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امّت ہو...۔‘‘ (ابن ماجہ، ص:۲۹۷) ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں...‘‘ (مجمع الزوائد، ج:۳، ص:۲۷۳)’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں...‘‘(بیہقی، سیوطی)
مندرجہ بالا آیات کریمہ اور احادیث نبویہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کو اہلِ ایمان پر اپنا احسان بتایا ہے اور قرآن کریم کو تمام انسانیت کے لیے ہدایت قرار دیا ہے۔ اور آپﷺ نے خود کو آخری نبی اور اپنی امت، جس میں شامل ہونے کا ہم روسیاہوں کو شرف حاصل ہے، آخری امت ٹھہرایا ہے۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر یہ باطنی و روحانی احسانات ہیں، جو دولتِ ایمان کی صورت میں عطا ہوئے۔ پھر جیسے خود اللہ تعالیٰ ’’رب العالمین‘‘ ہے، اس نے آپ ﷺ کو ’’رحمۃ للعالمین ‘‘بنایا ہے، اور اپنے گھر کعبۃ اللہ کو ’’ ھدی للعالمین ‘‘قرار دیا ہے۔ کعبۃ اللہ ’’ھدی للعالمین ‘‘ کی جانب رخ کر کے رسول اللہ ﷺ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کی سنت کے مطابق اللہ تعالیٰ ’’رب العالمین‘‘ کی عبادت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔
اپنے رب سے رابطہ رکھنے کے لیے نماز جیسی عبادت، اس کی رحمتوں کو متوجہ کرنے کے لیے رمضان کے روزے، مال میں برکت کے لیے زکوٰۃ اور رب کو منانے کے لیے حج جیسی عظیم الشان عبادات ہمیں مرحمت فرمائی ہیں۔ یہ وہ احسانات و انعامات ہیں، جن کا جتنا شکر ادا کیا جائے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اضافے کا باعث اور ذریعہ ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ’’اگر احسان مانوگے تو اور بھی دوں گا تم کو، اور اگر ناشکری کروگے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے۔‘‘... (سورۂ ابراہیم:۷) ’’کیا کرے گا اللہ تم کو عذاب کرکے اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو اور اللہ قدر دان ہے سب کچھ جاننے والا...۔‘‘ (سورۃالنساء:۱۴۷)
یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی ان ظاہری و باطنی اور جسمانی و روحانی انعامات و احسانات کی بارش میں بھیگتے ہوئے اس کی جس قدر شکر گزاری کریں گے، وہ اتنا ہی اپنی بارانِ رحمت میں اضافہ کردے گا اور اگر خدانخواستہ ہم اس کے ناشکرے بندے بن گئے تو اس کی خدائی میں تو سرِمُو فرق نہیں آتا، البتہ ہم ضرور اس کی سخت پکڑ میں آجائیں گے، العیاذباللہ!
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادوطن کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اہلِ ہند جو ایک صدی سے انگریز کے غلام چلے آرہے تھے اور جس غلامی میں ہمارا ایمانی و تہذیبی ورثہ دائو پر لگ چکا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر یہ موقع عنایت فرمایا کہ ہم اس آزادی کی قدر کرکے اپنی اگلی نسلوں تک اپنا ایمانی سلسلہ اور تہذیبی ورثہ صحیح سلامت ان تک پہنچائیں۔
برصغیر پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی ، استعمار جو ایک تجارتی کمپنی کے ذریعے ہندوستان پر مسلط ہوا ‘ اس کو برصغیر سے نکالنے کے لیے مسلمانوں نے ڈیڑھ سو سال جدوجہد کی ، آزادی کے متوالوں کو سولی پر لٹکایا گیا ، توپوں کے دہانے پر رکھ کر اڑایا گیا ، عزتیں پامال کی گئیں ۔ بالآخر علامہ محمد اقبالؒ کی فکر ، قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی جدوجہد اور۱۹۴۰ء میں قراردادِ پاکستان کے پیش کیے جانے کی بدولت ۲۷ رمضان مبارک ۱۳۶۶ ھ مطابق ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا ۔
تحریکِ پاکستان میں مقبول نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا :لا الہ الا اللہ‘‘ تھا، گویااس ملک کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی، اسی کو قراردادِ پاکستان میں بیان کیا گیا اور پاکستان کا قیام اس مقصد کے تحت ہوا تھا کہ ہم کفار کے تسلّط سے آزاد ہوکر مدینہ منورہ کی طرز پر ایک آزاد اسلامی مملکت بناسکیں اور اس میں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کو خطۂ ارضی پر تشکیل دے سکیں، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنا جشن ِآزادی منانے کے لیے وہ تمام طور طریقے اپناتے ہیں جو مغرب میں رائج ہیں۔
حالاں کہ آزاد اسلامی وطن میں آزادی کی سانسیں لیتے ہوئے ہمیں بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ریز ہوجانا چاہئے، گناہوں سے توبہ و شرمندگی کے احساس کو بیدار کرکے آئندہ کی زندگی کا سفر معصیت اور لہو و لعب سے پاک شرو ع کرنا چاہئے اور جس مقصد کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں آیا ، اس کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ ہمیں آزادی کی قدر بنی اسرائیل کے قصے سے معلوم کرنی چاہیے کہ جب انہیں فرعون کے شکنجے سے رہائی نصیب ہوئی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا تھا اور یہود اس کی اتباع میں ہمیشہ اپنا یوم آزادی روزہ رکھ کر مناتے رہے، جب آپ ﷺ کو اس کی خبر ہوئی، تو فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں، چنانچہ آپ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا۔ ہمیں چاہیے کہ اہل ایمان کے اس خاص شعار کو اپنالیں جس کی نشاندہی خدائے بزرگ و برتر نے اپنے کلام پاک میں فرمادی ہے:’’وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں بُرائی سے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام کا‘‘... (سورۃالحج : ۴۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انعامات و احسانات خصوصاً آزادی کی اس عظیم نعمت کی قدردانی کی توفیق مرحمت فرمائے اور قیامِ پاکستان کے تقاضے کو بروئے کار لاکر ہمیں دنیا وآخرت میں سرخ رو فرمائے۔( آمین)