آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ایک صاحب حج پر گئے، وہاں طبیعت اچانک زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ان کے آپریشن کی نوبت آئی، وقوف عرفہ اور مزدلفہ انہیں ایمبولینس کے ذریعے کرایا گیا، لیکن منیٰ کا قیام بالکل نہیں ہوسکا۔ کیا ان پر کوئی دم ہوگا؟
جواب: حاجی کے لیے آٹھ ذو الحجہ کی ظہر سے پہلے منیٰ میں پہنچ کر نو ذو الحجہ کی فجر کی نماز ادا کرنے تک منیٰ میں قیام رکھنا، اور وقوفِ مزدلفہ سے فراغت کے بعد بارہ ذو الحجہ کی رمی تک (طوافِ زیارت اور دیگر ضروریات کے علاوہ ) منیٰ میں ٹھہرنا مسنون ہے، بغیر عذر کے منیٰ کا قیام نہیں چھوڑنا چاہیے، لیکن بیماری وغیرہ کی بنا پر منیٰ کا قیام رہ جائے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ حج کے اجر وثواب میں کمی نہیں ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں جب کہ حاجی کا آپریشن ہوا ہے، اور وہ خود مناسکِ حج ادا کرنے پر قادر بھی نہیں ہے، ایمبولینس کے ذریعے اسے وقوفِ عرفہ اور مزدلفہ کروایا جائے گا، اس کیفیت میں حاجی سے اگر منیٰ کا قیام بالکل چھوٹ جائے تو بھی حرج نہیں ہے، حج ادا ہوجائے گا۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ شدید مرض وغیرہ کی وجہ سے وقوفِ مزدلفہ ترک کرنے کی بھی اجازت ہے، اس لیے اگر مذکورہ مریض کو صرف عرفہ کا وقوف کروا لیا جائے اور طواف زیارت و واجب سعی کی ترتیب بنا لی جائے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
نیز مذکورہ مریض کو چاہیے کہ وہ جمرات کی رمی کے لیے کسی کو اپنا نائب بنادے، اس کا نائب اس کی طرف سے رمی کرلے گا تو اس کی طرف سے رمی ادا ہوجائے گی، اور اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔