• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کیا عورت کی نماز صحیح ہونے کے لیے مکمل آستین والی قمیص پہننا ضروری ہے؟ ہاف آستین یا ایسی آستین جو کہنی سے نیچے ہو لیکن کلائی تک نہ پہنچتی ہو، ایسی قمیص پہن کر کوئی عورت نماز پڑھے تو کیا نماز ہو جائے گی؟

جواب: آزاد عورت کے لیے ہاتھ (گٹوں تک)، پاؤں (ٹخنے تک) اور چہرے کے علاوہ سارا بدن ستر ہے، اور نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ستر ڈھانپ کر نماز ادا کی جائے، اگر ستر میں شامل اعضاء میں سے کسی بھی عضو کا چوتھائی حصہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار نماز کے دوران کھلا رہا تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر نماز شروع کرتے وقت ہی اتنی مقدار کھلی ہو تو نماز شروع کرنا ہی صحیح نہیں ہوگا، لہٰذا ہاف آستین والی قمیص اور ایسی قمیص میں عورت کے لیے نماز پڑھنا درست نہیں ہے جس کی آستین کہنی سے نیچے ہو، لیکن کلائیاں کھلی ہوئی ہوں۔

اگر کسی عورت نے ایسی قمیص میں نماز پڑھی تو فقہی اعتبار سے نماز ادا نہیں ہوگی، اس کا اعادہ ضروری ہوگا۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ،باب الشروط الصلاۃ،مطلب في ستر العورۃ،ج:1ص:405-406،ط:سعید – الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب الثالث في شروط الصلاۃ،ج:1،ص:58،ط:رشیدیہ)

اقراء سے مزید