• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: میرے بڑے بھائی کی قبر قبرستان میں کافی اندر کی طرف ہے، قبر تک جانے کے لیے قبروں کو پھلانگنا پڑتا ہے، فاتحہ پڑھنے کے لیے قبر تک جانا چاہیے یا نہیں؟

جواب: زیارتِ قبور مستحب ہے، فاتحہ کسی بھی مقام پر کھڑے ہوکر پڑھی جاسکتی ہے، قبروں کو پھلانگ کر یا اُن کے اوپر چل کر کسی رشتے دار کی قبر تک پہنچنا ضروری نہیں ہے ہے، دوسری قبروں کی بے حرمتی ہے۔

حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے آگ یا تلوار پر چلنا یا پاؤں سے جوتے پر پیوند لگانا زیادہ پسند ہے، بہ نسبت اس کے کہ کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ قبر کے وسط میں میری حاجت پوری ہوتی ہے یا بازار کے درمیان، (ابن ماجہ:1568)‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’ فتح القدیر میں ہے: قبر پر بیٹھنا اور اس کو روندنا مکروہ ہے اور جن کے رشتہ داروں کی قبور کے اطراف میں دوسروں کی قبور ہوں، اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے اُن کا اُن قبروں کو روندنا مکروہ ہے ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد2،ص:245)‘‘۔

امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ لکھتے ہیں: ’’امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں، جن کے اعزّاء واقرباء کے گرد مخلوق دفن ہے، وہ ان قبروں کو روند تے ہوئے اپنے عزیزوں کی گورتک جاتے ہیں، انھیں چاہئے کنارِ گورستان سے زیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔

ترجمہ:’’ چنانچہ فتح القدیر میں ہے:’’قبر پر بیٹھنا اور اس کو روندنا مکروہ ہے، تو وہ لوگ جن کے رشتہ داروں کی قبور کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں، تو اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے اُن کا اُن قبروں کو روندنا مکروہ ہے،(فتاویٰ رضویہ ،جلد9، ص:451)‘‘۔

بس دور سے فاتحہ پڑھ لیں۔ اسی کے حاشیے میں لکھتے ہیں:ـ ’’ضرورت کی صورت مثلاً: قبرستان میں میّت کے لیے قبر کھودنے یا دفن کرنے جانا چاہتے ہیں، بیچ میں قبریں حائل ہیں، اس حاجت کے لیے اجازت ہے، پھر بھی جہاں تک بن پڑے، بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں، اُن اَموات کے لیے دعا واستغفار کرتے جائیں، ترجمہ:’’ علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں شرح مشکوٰۃ سے ہے: ضرورت کے پیش نظر مثلاً میّت کو دفن کرنے جانا ہو تو قبروں پر سے گزرنا مکروہ نہیں اور سراج سے ہے: اگر قبر پر ہی گزرنے کا راستہ ہو تو اس پر چلنا ضرورتاً جائز ہے، (حاشیہ فتاویٰ رضویہ ،جلد9،ص:451)‘‘۔

اقراء سے مزید