تفہیم المسائل
امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ سے پوچھا گیا: ’’حضور نئی روشنی والے (یعنی جدّت پسند) کہتے ہیں کہ خطبہ سے مقصود عوام کو ترغیب وترہیب وتذکیر (یعنی رغبت دلانا ، نصیحت کرنا اور آخرت کی یاددلانا ) ہے ،اگر اُردو میں نہ پڑھا جائے تویہ فائدہ حاصل نہ ہوگا تو خطبہ معاذاللہ بے کار ہوجائے گا۔
ارشاد: صحابۂ کرامؓ کے زمانہ میں عَجَم (یعنی عرب کے علاوہ) کے کتنے ہی شہر فتح ہوئے، کئی ہزار منبر نصب ہوئے، کئی ہزار مسجدیں بنائی گئیں، کہیں منقول نہیں کہ صحابہ نے اُن کی زبان میں خطبہ فرمایا ہو۔ اس واسطے کہ وہ جانتے تھے کہ حضور اقدس ﷺ واقف ہیں ،تمام ’’ماکان ومایکون‘‘ سے، تمام وقائع گزشتہ وآئندہ (یعنی جو پہلے ہوچکا اور جو کچھ آئندہ ہوگا) کی آپ ﷺ کو خبر ہے۔
حضور ﷺ کویہ معلوم تھاکہ ہندی، حبشی، رومی، عجمی ہر زبان والے مسلمان ہوں گے۔ عربی نہ سمجھیں گے اور کبھی اجازت نہ دی کہ اُن کی زبان میں خطبہ پڑھا جائے۔ خود بارگاہِ اقدس میں رومی، حبشی، عَجمی ابھی تازہ حاضر آئے ہیں۔ عربی ایک حرف نہیں سمجھتے، مگر کہیں ثابت نہیں کہ حضور ﷺ نے اُن کی زبان میں خطبہ ارشاد فرمایا ہو یا کچھ خطبہ عربی میں اور کچھ ان کی زبان میں فرمایا ہو، ایک حرف بھی ان کی زبان کا خطبہ میں منقول نہیں: ’’ جوکچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں، وہ لو اورجس سے منع فرمائیں ،باز رہو ،(حشر:7)‘‘۔
اب رہا یہ اعتراض کہ پھر تذکیر ( یعنی نصیحت کرنے )سے فائدہ کیا، اس کاجواب یہ ہے کہ دو دو پیسے کی نوکری کے واسطے عمریں انگریزی (سیکھنے) میں گنواتے ہیں اور عربی زبان جو ایسی مُتبرک، اِسی میں ان کا قرآن، ان کا نبی عربی، ان کی جنت کی زبان عربی اس کے لیے اتنی کوشش بھی نہ کریں کہ خطبہ سمجھ سکیں۔ یہ اعتراض تو اِنہیں پر پڑے گا نہ کہ خطیب پر،( الملفوظ معروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ :چہارم ،ص:500)‘‘۔
خطبۂ جمعہ تعلیم و تربیت کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ جمعے کے دونوں خطبے تو عربی زبان ہی میں دیے جائیں، جیسا کہ ہمارے ہاں رائج ہے کہ خطبے سے قبل مقامی زبان میں تقریر کی جاتی ہے، اُس میں اُنھیں دین کی باتیں بتائی جائیں۔
اس طریقے کو موثر انداز میں بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے، جمعہ وعیدین کے خطبوں پر مشتمل خطبۂ علمی عرصۂ دراز تک برصغیر میں مُتعار ف رہا، جس میں درمیان میں اُردو اشعار بھی شامل ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ اگر جمعۃ المبارک کے عربی خطبے کے بیچ میں اُردو میں کچھ گفتگو مسائل کی بابت کرلی جائے تو یہ سنّت مُتوارثہ کے خلاف ہے، لیکن کراہت کے ساتھ خطبہ ادا ہوجائے گا، باطل وفاسد نہیں ہوگا۔