آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: میرے دوست نے عصر کی فرض نماز اکیلے پڑھ لی تھی، پھر کچھ دیر بعد جماعت کے ساتھ بھی پڑھ لی، کیا ایسے نماز پڑھنا ٹھیک ہے؟
جواب: اگر کسی نے تنہا فرض نماز پڑھ لی تو اس کی فرض نماز ادا ہوگئی، اب اگر اسی فرض کی جماعت ہورہی ہو تو فرض کی نیت سے شامل نہیں ہوسکتے، کیوں کہ ذمے میں فرض باقی نہیں ہے، ہاں جن نمازوں میں فرض کے بعد سنّت یا نفل ثابت ہیں، ان میں نفل کی نیت سے شامل ہوسکتے ہیں، لہٰذا ظہر اور عشاء کی نماز میں نفل کی نیت سے شامل ہوسکتے ہیں، جب کہ فجر، عصر اور مغرب کی نماز میں نفل کی نیت سے شامل نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ از روئے حدیث شریف فجر اور عصر کی نماز کے بعد نفل پڑھنا ممنوع (مکروہ) ہے اور مغرب کی فرض نماز تین رکعات ہوتی ہیں، اگر نفل کی نیت سے شامل ہوں گے تو شروع کی دو رکعت نفل تو درست ہوں گی، لیکن آخری رکعت تنہا رہ جائے گی اور نفل میں ایک رکعت ثابت نہیں ہے، حدیث شریف میں اس سے بھی منع کیا گیا ہے۔
لہٰذا آپ کے دوست نے عصر کی فرض نماز ایک مرتبہ تنہا پڑھ لی تو اس کا فریضہ ادا ہوگیا، اب دوبارہ اسی عصر کی فرض نماز کی جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم کراہت کے ساتھ نفل ادا ہوگئی ہیں، ان سے اُلجھیں نہیں اور حکمت و بصیرت کے ساتھ انہیں مسئلے سے آگاہ کردیں۔ (الفتاویٰ الھنديۃ، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفریضۃ، ج:1، ص:119، ط:دارالفکر)