آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: بینک سے قرض لینے کی صورت میں بعض اوقات بینک گروی کے طور پر اپنے پاس سونا (Gold) رکھواتے ہیں، اور اس سونے کی جانچ اور مالیت معلوم کرنے کے لیے سنار کو اجرت پر بلاتے ہیں۔
سنار اس کی جانچ کے بعد ایک تصدیق شدہ رسید دیتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ سنار کے لیے اس کام کی اجرت لینا کیا سود کے زمرے میں آئے گا؟ نیز کیا یہ اجرت شرعاً جائز ہے؟
جواب: بینک میں رکھے ہوئے سونے کی جانچ کرکے اس کا وزن، معیار اور مالیت متعین کرنا فی نفسہ جائز عمل ہے، اس کی اُجرت سود کے زمرے میں نہیں آتی، بلکہ وہ اس خدمت کا عوض ہے؛ لہٰذا سنار کا بینک سے سونا پرکھنے کی اجرت لینا جائز ہے۔
ہاں، اگر بینک والے اجرت دیتے ہوئے وضاحت کریں کہ آپ کو سود کی رقم سے ادائیگی کر رہے ہیں تو یہ رقم دینا اور لینا جائز نہیں ہوگا، اور بینک انتظامیہ پر حلال رقم دینا لازم ہوگا۔ (رد المحتار، کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج:5، ص:235، ط: سعید)