• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1960ءمیں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت نے دریائی پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کی رو سے اس شرط کے ساتھ کہ پانی کا بہائو مقررہ حد سے کم نہ ہو اور دریائوں کا راستہ تبدیل نہ کیا جائے، راوی، بیاس اور ستلج بھارت جبکہ سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو استعمال کرنے اور ان پر بجلی گھر بنانے کی اجازت ہوگی۔ کشن گنگا، جہلم کا ایک معاون دریا ہے جسے پاکستان میں دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے، 2005ءمیں بھارت نے اس کا راستہ تبدیل کرکے کنٹرول لائن کے قریب بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا ،ایسا ہی دریائے چناب پر متنازع رتلے ڈیم منصوبہ ہے ، پاکستان نے ان دونوں کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعتراض اٹھارکھاہے۔دونوں ملکوں کے حکام20 اور 21ستمبر کو ہیگ میں غیر جانبدار ماہر کی یک رکنی عدالت میں پیش ہو کر 330میگاواٹ کشن گنگا اور 850میگاواٹ رتلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متنازع ڈیزائن پر اپنا موقف پیش کریں گے۔ اس سے قبل عدالت گزشتہ 27اور 28 فروری کو اپنی کارروائی میں بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کا باضابطہ طریقہ کار طے کرچکی ہے۔ بھارت اپنی یقینی ہار دیکھتے ہوئے یہ مقدمات لڑنے سے کترا رہا اور پاکستان کی کامیابی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں عالمی بینک 1978 میں سلال ڈیم اور 2007 میں بگلیہار ڈیم کا ایسا ہی تنازع حل کرچکا ہے۔ پاکستان کو بجا طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ بھارت آبی جارحیت کرتے ہوئے مغربی دریائوں پر منصوبے بنا کر جب چاہے ان کا پانی روک کرپاکستانی زراعت کو نقصان پہنچاسکتا یا سیلاب کی صورت حال پیدا کرسکتا ہے امید ہے کہ آئندہ دو تین روز میں ہونے والی ممکنہ موثر کارروائی پاکستان کے اصولی موقف کی فتح ثابت ہوگی اور بھارت آئندہ کوئی ایسی غلطی نہیں دہرائیگا جس سے سندھ طاس معاہدے پر زد پڑتی ہو۔

تازہ ترین