بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ایئر لائن ایمریٹس کے فلائٹ کوڈ ’ای کے‘ کا پاکستان کے ساتھ احسان مندی کا جذباتی اور انتہائی محبت کا گہرا تعلق ہے۔
باپ بیٹے یا استاد شاگرد کا یہ تعلق لگ بھگ چار دہائی قبل قائم ہوا جب 1980ء کی دہائی کے وسط کے دوران گلف ایئر نے دبئی کے لیے اپنی خدمات کو محدود کرنا شروع کیا۔
امارات کے شاہی خاندان نے اپنی فضائی کمپنی بنانے کا منصوبہ بنایا اور بڑے بھائی پاکستان سے مدد کی درخواست کی۔
ایمریٹس ایئر لائن کی بنیاد مارچ 1985ء میں دبئی کے حکمراں محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں رکھی گئی تھی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے ایمریٹس کے قیام کے ابتدائی سالوں میں تکنیکی اور غیر معمولی انتظامی مدد فراہم کی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے ایمریٹس کے کیبن کریو کو کراچی ایئر پورٹ پر مفت تربیتی سہولتیں فراہم کیں۔
شاہی خاندان کی درخواست پر قومی ایئر لائن پی آئی اے نے ایمریٹس ایئر لائن کے قیام کے لیے اپنے 2 طیارے فراہم کیے۔
پی آئی اے کے فراہم کردہ نئے بوئنگ 737-300 اور ایک ایئر بس اے 300 سے ایمریٹس نے اپنی سروسز کا آغاز کیا۔
ایمریٹس کے دونوں طیاروں کو کراچی میں ہی پی آئی اے کے ہینگرز میں ایمریٹس کے رنگوں میں پینٹ کر کے دبئی لے جایا گیا تھا۔
25 اکتوبر 1985ء کو ایمریٹس ایئر لائن کی پہلی پرواز ای کے 600 پاکستان کے لیے دبئی سے کراچی کے لیے تھی۔
یہ پرواز پی آئی اے کے پائلٹ کیپٹن فضل غنی مرحوم نے اڑائی تھی۔
کراچی میں قونصل جنرل یو اے ای بخیت عتیق الرومیتی نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ اس افتتاحی پرواز کا کوڈ ایمریٹس کراچی کے انگریزی کے پہلے حروف ’ای کے‘ سے لیا گیا تھا جو اب تک قائم ہے۔
لگ بھگ 4 دہائی گزرنے کے باوجود ایمریٹس کا پاکستان سے ’ای کے‘ کا یہ رشتہ آج بھی قائم ہے اور یہ فلائٹ کوڈ پوری دنیا میں رائج ہے۔
گو کہ ایمرٹس کا روحانی باپ پی آئی اے اب بوڑھا ہو چکا ہے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن پی آئی اے کا روحانی بیٹا ناصرف تن آور درخت بن چکا ہے بلکہ پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ چکا ہے۔
قیام کے بعد کے سالوں ایمریٹس ایئر لائن نے اپنے فضائی بیڑے اور اپنی منزلوں دونوں میں غیر معمولی توسیع کی۔
آج ایمریٹس ایئر لائن 264 مسافر طیاروں، 133 منزلوں اور 105000 ملازمین کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی فضائی کمپنی ہے۔
ایمریٹس ایئر لائن مال برداری کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی ایئر لائن ہے۔
ایمریٹس کے مقابلے میں پی آئی اے 11800 ملازمین اور صرف 34 طیاروں اور 47 منزلوں کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
قومی ایئر لائن پی آئی اے کو اپنی سانسیں بحال رکھنے کے لیے حال ہی میں بینکوں سے اربوں روپے قرض لینا پڑا ہے۔