• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بظاہر سائفر کیس کے جیل ٹرائل میں کوئی بدنیتی نظر نہیں آئی: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ-----فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ-----فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس کی جیل میں سماعت کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی، کیس کے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ بظاہر سائفر کیس کے جیل ٹرائل میں کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ سنایا اور تحریری فیصلہ جاری کیا۔

جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلے کے نکات سامنے آ گئے۔

عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹائی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں، جیل ٹرائل سیکیورٹی کے مدِ نظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے۔

عدالت نے کہا کہ بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی، چیئرمین پی ٹی آئی خود اپنی سیکیورٹی پر متعدد بار خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

آج سماعت کے دوران کیا ہوا؟

سماعت کے آغاز میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

چیئرمین پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں دلائل کے لیے تیار ہوں، سماعت ملتوی کرنی ہے تو ٹرائل پر حکمِ امتناع جاری کریں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ آج کھوسہ صاحب اپنے دلائل دیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ کو بھی جو تحریری دلائل دینے ہیں دے دیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں پاکستان میں امریکا کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائی کرنے کا قانون ہے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ  سابق وزیرِ اعظم اُس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹیو تھے، اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائی کر دیا تھا، اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، یہ سائفر امریکا میں سفیر اسد مجید نے دفترِ خارجہ کو بھجوایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا ہوئی، 28 اگست کو سزا معطل ہوئی تو پتہ چلتا ہے کہ 16 اگست کو ہی گرفتاری ڈال چکے ہیں، پتہ چلتا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت 16 اگست کو فزیکل ریمانڈ مسترد کرتی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت نے میری غیر موجودگی میں یہ سب کیا، 30 اگست کو جیل ٹرائل ہوا، جوڈیشل ریمانڈ کے بعد سماعت ہوتی ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا، یہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی جنگلے میں لے کر آئے، ان کو ڈر کس چیز کا ہے؟ کیا خوف ہے؟ وہ سابق وزیرِ اعظم ہیں، سابق وزیرِ اعظم کے حقوق ہیں، یہ اعظم خان کا بیان لے کر آ گئے ہیں جو 3 ہفتے لاپتہ رہا، یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گئے مضحکہ خیز ہے، انہوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا اب کہہ رہے ہیں کل چارج فریم کرنے ہیں، آپ کو دیکھنا ہے پہلے بھی ہمارے ساتھ ہمایوں دلاور نے کیا کیا تھا، ہم یہ کہتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، ریاست کا مطلب پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں اور لوکل گورنمنٹس ہیں، ہم نے حکومت کو ریاست بنا دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاست کو ہم نے گڈمڈ کر دیا ہے۔

سائفر وزارتِ خارجہ میں موجود ہے: لطیف کھوسہ

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کچھ اختیار مقتدر حلقوں نے لے لیا ہے، اعلیٰ عدلیہ سے قوم توقعات رکھتی ہے، مجھے اُمید ہے آپ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں گے، سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا، میں نے کہا سازش سے نکالا، پی ڈی ایم کا مؤقف تھا عدم اعتماد کر کے نکالا، سائفر چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس نہیں، وزارتِ خارجہ میں موجود ہے، سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے ناں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نہ سیکشن 5 کا۔

سائفر کیس بدنیتی کی بنیاد پر بنایا گیا: لطیف کھوسہ

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل! آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور اس کے سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا، اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیرِ اعظم کا کام ہے، یہاں انہوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ اس کیس میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے، سائفر کیس بدنیتی کی بنیاد پر بنایا گیا، پی ٹی آئی کے 10 ہزار لوگ گرفتار کیے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمے بنانے کی سنچری مکمل کی گئی، اب بھی ورلڈ کپ ہو رہا ہے، آج بھی یاد آتا ہے کیسے ورلڈ کپ جیتا گیا تھا، اگر آئندہ سماعت کے لیے جانا ہے تو عدالت کارروائی اسٹے کر دیں، پہلے بھی ہمارے لیے دوسرے کیس میں ٹھیک نہیں ہوا۔

عدالت نے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے کو ڈویژن بینچ کے بعد دلائل دینے کی ہدایت کی تھی۔

میں سائفر کی چین آف کسٹڈی بتا دیتا ہوں: پراسیکیوٹر

پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں سائفر کی چین آف کسٹڈی بتا دیتا ہوں، نعمان سائفر اسسٹنٹ ہے جس نے سائفر وصول کیا اور پھر ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد کے حوالے کیا، سائفر پھر حسیب بن عزیز اور پھر اس وقت کے فارن سیکریٹری سہیل محمود کے پاس گیا، اس کے بعد سائفر پی ایم آفس کے سائفر آفیسر شاہین قیصر اور ڈپٹی سیکریٹری حسیب گوہر کے پاس بھجوایا گیا، سب سے آخر میں سائفر اس وقت کے وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے پاس پہنچا، اعظم خان کے بیان پر تنقید کی گئی، ان کو اس کیس میں کبھی ملزم نہیں بنایا گیا، اعظم خان کا نام اس کیس کے گواہوں کی لسٹ میں شامل ہے، اعظم خان تفتیشی افسر کے سامنے خود پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا، انہوں نے بتایا سائفر والے کیس میں دباؤ تھا اس لیے ذہنی سکون کے لیے کچھ عرصہ غائب ہو گیا تھا، اس کیس میں اسد مجید اور اعظم خان مرکزی گواہان میں شامل ہیں، میں سمجھانے کے لیے ٹرائل کے گواہوں کے بیانات پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔

وکیل صفائی سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے اس بات پر اعتراض ہے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ کے مطابق سائفر ٹیلی گرام موصول ہونے پر عمران ساجد کو حوالے کیا اور اس کا رجسٹر میں اندراج کیا۔

سائفر اسسٹنٹ کا بیان پڑھنے پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دوبارہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میرا اعتراض یہ ہے کہ161 کے بیانات ضمانت کی درخواست میں نہیں پڑھ سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے چین سمجھنی ہے کہ کس طرح سائفرآتا ہے کس طرح جاتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید