• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ بی ایل پی ایس ایل اب عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن چکی ہے، پوری دنیا کے کھلاڑی اس ایونٹ میں شرکت کو اپنا اعزاز تصور کرتے ہیں، سپر لیگ پاکستان کے کرکٹ کیلنڈر میں ایک ایسا شاندار ایونٹ ہے جس نے پچھلے آٹھ ایڈیشنز کے دوران عالمی سطح پر لاکھوں شائقین کے دلوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور اب سب پی ایس ایل کے نویں ایڈیشن سے لطف اندوز ہورہے ہیں، پی ایس ایل کا ابتدائی سفر ملکی حالات اور دہشت گردی کے واقعات کے باعث بہت زیادہ کھٹن اور مشکل تھا،اس کے باوجود جن مسائل سے گذر کر اس ایونٹ کو پاکستان کی سرزمین پر لایا گیا، اس نے پی ایس ایل کو مزید چار چاند لگادئیے، پاکستانی شائقین کی دل چسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، پاکستانی عوام بے تابی سے اس مقابلے کا انتظار کرتے ہیں، پی ایس ایل نو کے مقابلے شروع ہوچکے ہیں جس میں کھیلوں کے علاوہ ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی گہری دل چسپی کا اظہار کررہے ہیں۔

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل نے پاکستان میں کر کٹ کے تمام مقابلوں کو پیچھے چھوڑ دیا، پورے سال ہر کوئی اس کا انتظار کرتا رہتا ہے، پی ایس ایل نے پاکستان کر کٹ کو مظبوط بنانے کے ساتھ نئے کھلاڑیوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان میں ہاکی کے اس قسم کے مقابلے بہت ضروری ہیں جس سے ہمیں نہ صرف نئے کھلاڑی مل سکیں گے بلکہ ہماری ماضی کی کار کردگی کو بھی واپس لانے میں مد مل سکتی ہے، دکھ ہے کہ ابھی تک اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے، میں اس لیگ کا بڑا مداح ہوں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے خود میدان میں جاتا ہوں۔

اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن جان شیر خان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہماری ساری توجہ پچھلے کئی سالوں سے صرف کر کٹ تک محدود ہے جس کی وجہ سے دیگر کھیل ترقی نہیں کرسکے، کر کٹ حکام اور ذمے داروں نے جس انداز میں پی ایس ایل کا منصوبہ شروع کیا اور اسے عملی شکل دی، اس پر وہقابل مبارک باد ہیں،میں انہیں داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے اس لیگ کو دنیا کی مقبول ترین لیگز میں شامل کردیا،جس میں شرکت کے لئے اب دنیا بھر کے کھلاڑی بے تاب ہوتے ہیں۔ 

سابق ساؤتھ ایشین تیز ترین خاتون ایتھلیٹ نسیم حمید نے کہا ہے کہ کراچی کنگز میری آئیڈیل ٹیم ہے اس بار بھی ٹائٹل اسی کا ہوگا، میں پی ایس ایل کے میچز دیکھنے خود اسٹیڈیم جاتی ہوں، انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے حوالے سے خوشی ہے کہ اس نے ہمارے ملک کے بارے میں منفی تاثر کو ختم کیا، سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہا ہے کہ پی ایس ایل نے پاکستان کر کٹ کو جس قدر معیاری کھلاڑی فراہم کئے وہ اس وقت قومی ٹیم کا حصہ ہیں، اس لیگ سے پاکستان کر کٹ مضبوط ہوئی ہے، نئے کھلاڑیوں نے ٹیم کی کمانڈ حاصل کرلی ہے۔

پی ایس ایل میں اس بار بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے مقابلوں میں بھر پور رسہ کشی کی امید ہے، سابق قومی ٹیبل ٹینس کپتان شبنم بلال نے کہا کہ پی ایس ایل نے پاکستان میں کھیل کا انداز ہی بدل دیا ہے، پہلے جو لوگ کر کٹ نہیں دیکھتے تھے وہ بھی اب اس مقابلے کا انتظار کرتے ہیں، ایم کیو ایم کے سنیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میری ہمدردی کراچی کنگز کے ساتھ ہے، اس کے میچز دیکھے خصوصی طور پر اسٹیڈیم جاتا ہوں، انہوں نے کراچی کے عوام سے اپیل کی کہ دوسرے مرحلے میں کراچی کے میچ دیکھنے اسٹیڈیم کا رخ کریں۔

کراچی کے شائقین نے ہمیشہ ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی شان دار مہمان نوازی کی ہے، جسے مثالی کہا جاتا ہے، قومی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر قمر ضیاء نے کہا کہ پاکستان کر کٹ بورڈ کے حکام نے اپنی مثبت حکمت عملی سے پی ایس ایل کی مدد سے پاکستان کر کٹ کو بام عروج پر پہنچادیا، مگر ہاکی حکام دس سال میں بھی اپنے ڈومیسٹک ڈھانچے کو بہتر نہیں بناسکے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ایس ایل کی طر زپر ہاکی میں بھی اس قسم کی لیگ کا انعقاد کیا جاتا جس سے کھلاڑی سامنے آتے، غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر ان کے تجربے میں اضافہ ہوتا، پاکستان میں ہاکی اور دیگر کھیلوں کی ترقی کے لئے اس قسم کی لیگ بہت ضروری ہے۔

ریسلر محمد انعام بٹ نے کہا کہ میری فیورٹ ٹیم لاہور قلندر ہے، اس کی حمایت کروں گا البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں دیگر کھیلوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم کھیل کے شعبے میں ناکامی کا شکار ہیں، ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ ک کہنا ہے کہ پاکستان میں پی ایس ایل کا انعقاد اب ملک کی پہچان بن گیا ہے، پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی لوگ پورے سال اس کاانتظار کرتے ہیں، مجھے دکھ بات کا ہے کہ پاکستان میں ویٹ لفٹنگ ایونٹ کی عالمی لیگز کی جانب ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ 

پاکستان سپر لیگ ملک کے بہترین نوجوان ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی بھرپور تاریخ رکھتی ہے۔ پی پی کے رہنما سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ پی ایس ایل کے حوالے سے پاکستان کر کٹ بورڈ کے ساتھ تعاون کیا، سندھ حکومت نے میچوں کے انعقاد کے سلسلے میں تمام سہولت فراہم کی، اس لیگ سے کراچی کے امیچ کو بہتر بنانے میں مدد ملی،ہم خود اسٹیڈیم جاتے ہیں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، دیگر کھیلوں میں بھی اگر کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان آتی ہے تو ہم اس کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کرتے ہیں، اس قسم کے مقابلے ملک کے نئے ٹیلنٹ کو گروم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں، کر کٹ کے علاوہ دوسری فیڈریشنوں کو بھی اس پر توجہ دینا چاہئے تاکہ ہمیں نئے کھلاڑی مل سکیں ،نوجوانوں میں کھیلوں کا جذبہ جنم لے سکے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید