• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ یعنی تیسری قسط میں ہم نے ہندوستان کی مفتوحہ زمینوں کے سٹیٹس کا تعین کیا تھا کہ یہ سب ’’مال غنیمت‘‘ نہیں ’’مال فے‘‘ ہے۔ اسی بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہوئے عرض کروں گا کہ اس تحقیق کا انحصار جید ترین علماء، 16 ویں صدی کے شیخ اابو الحسن تھانسیری، 18 ویں صدی کے شیخ ابوالحسن سندھی اور 19 ویں صدی کے قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی آراء پر ہے جن کی برگزیدگی کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان تینوں قابل صد احترام علمائے کرام نے ہندوستان کی ساری زمین کو ’’خراجی‘‘ قرار دیا ہے۔
ہندوستانی معاشرہ میں ایک ایسے طبقہ نے جنم لیا جو جاگیردار، زمیندار، تعلقدار کے ناموں سے جانا گیا۔ ان کا تقرر مسلمان حکمرانوں نے زمین سے لگان یا ٹیکس اکٹھا کرنے کی غرض سے کیا تھا۔ یہ لوگ اس کام پر مامور تھے کہ ’’خراج‘‘ جمع کریں اور اس میں سے کچھ رقم اپنے پاس رکھ کر باقی سب شاہی خزانہ میں جمع کرائیں۔ ان لوگوں کا کام یہ تھا کہ اپنی اور حکومت وقت کی اقتصادی حیثیت کے استحکام میں حصہ ڈالیں۔ ان لوگوں کو ان کی جاگیروں پر مالکانہ حقوق کبھی نہ دیئے گئے تھے لیکن پھر جیسے جیسے مغلیہ خاندان کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی تو ان لوگوں نے جاگیروں کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا اور بالکل غیر قانونی طور پر جاگیروں کے مالکانہ حقوق کی بنیاد رکھ دی۔
پھر برطانوی راج میں یہ تمام زمینیں ان کی ملکیت میں آگئیں اور ان جاگیرداروں، زمینداروں اور تعلقداروں نے وطن دشمنی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاج برطانیہ کے لیے ’’حلف وفاداری‘‘ اٹھایا اور یوں غداروں کو ان کے علاقے مستقلاً عطا کردیئے گئے۔
1857ء میں جنگ آزادی کی ناکامی پر ان مسلمانوں کی اراضی پر مالکانہ حقوق کا سوال اٹھایا گیا۔ 20 ویں صدی کے مشہور عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی رائے کااظہار اس طرح کیا۔ ’’اگر برطانوی حکومت نے اراضی پر حقوق ملکیت جتا کر اس پر قبضہ کرلیا تو یہ زمین ’’عشر‘‘ کے زمرے میں نہیں آتی مگر وہ زمین جس پر قبضہ کیا گیا اور اسی زمین کو ایک انتظامی حکم کے تحت برطانوی راج نے ’’لینڈ سیٹلمنٹ‘‘ کے تحت واپس اسی زمیندار کو دیدیا تو اس زمین کی حیثیت ’’عشر‘‘ ہی کی رہے گی۔‘‘
مندرجہ ذیل تین حالتوں میں زمین ’’عشر‘‘ نہ رہے گی۔
نمبر 1: وہ زمین جو برطانوی قبضہ کے وقت ’’عشر‘‘ نہ تھی۔ یہ زمین واپسی پر بھی عشر نہ ہوگی۔
نمبر 2: برطانوی حکومت نے قبضہ شدہ اراضی کے بدلے میں کوئی دوسری اراضی دیدی۔
نمبر 3: برطانوی حکومت نے زمین کو اس لئے واپس کیاکہ زمینداروں نے اپنی وفاداری کا حلف تاج برطانیہ کے حق میں دیا۔
وہ جاگیریں جو جاگیرداروں، زمینداروں کے پاس مغلوں کے دور سے چلی آرہی تھیں، وہ حقیقت میں ان کی ملکیت ہی نہ تھیں۔ اس لیے وہ اراضی ’’عشر‘‘ نہ تھی یعنی برطانوی قبضہ کے وقت سو یوں مولانا اشرف تھانوی کی پہلی شرط کا اطلاق ایسی زمین پر ہوتا ہے چاہے بعد میں وہ جاگیر برطانوی راج نے Permanant Settlement Allotment کے تحت جاگیردار کو واپس ہی کردی ہو تو پھر بھی وہ زمین ’’عشر‘‘ نہ ہوگی۔
برطانوی ہند کی معاشی تاریخ کے پیش نظر برطانوی راج نے زرعی نظام پر کنٹرول کرنے کیلئے جاگیرداروں، زمینداروں وغیرہ کو مستقلاً قابض بنا دیا اور اس کو ’’وراثتی حقوق ملکیت‘‘ بھی عطا کردیئے تاکہ پالتو پروردہ لوگوں کا ایسا نیٹ ورک بنا دیا جائے جو ان کا وفادار ہو سو دھرتی کا غدار فائیو سٹار طبقہ تیار ہوگیا۔
لارڈکیننگ (Lort Canning) کے 1857ُء کی جنگ آزادی دبانے کے بعد زمینوں کو ان سے واپس لیکر ایک کمیشن قائم کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ان لوگوں میں کون سے لوگ غداری (جنگ آزادی) کے مرتکب ہوئے اور کون کون سے جاگیردار، زمیندار، تعلقدار وغیرہ برطانوی راج کے حق میں رہے اور پھر نتیجتاً جو لوگ تاج برطانیہ کے وفادار پائے گئے ان سے ان کی لی ہوئی زمینیں، جاگیریں بطور انعام واپس بخش دی گئیں۔ اس کے علاوہ ایک اور گروہ بھی تھا جو زمیندار تو نہ تھے مگر انہوں نے برطانوی راج کی ہر طرح سے مدد کی تو ان وطن فروشوں کو بھی انعام میں جاگیریں دی گئیں۔
جہاں تک تاریخ ہند کے متعلق میری معلومات کا تعلق ہے تو اگر میں تھانوی صاحب کی رائے بیان کروں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ زمین ابھی تک ’’خراجی‘‘ ہے اور وہ بااثر گروہ جس نے مغلیہ دور سے زمینوں پر ملکیت کا دعوی کر رکھا ہے، وہ درحقیقت اصل مالکان ہیں ہی نہیں بلکہ ’’قبضہ گروپ‘‘ ہے جن سے قبضہ نہ چھڑانے کے سبب ہی پاکستان میں نت نئے قبضہ گروپ پیدا ہوتے رہے کہ مخصوص کلچر اسی طرح جنم لیتے اور پھیلتے پھولتے ہیں۔
میرے اس فہم کی بنیاد قابل صد احترام علماء کی آراء پر رکھی گئی ہے۔ 1947ءمیں جب پاکستان معرض وجود میں آیاتو زمینوں کا معیار ’’خراجی زمین‘‘ کا ہی رہا کیونکہ یہ زمینیں کبھی کسی کی بھی جائیداد نہ بن سکیں۔ مولانا تھانوی کی رائے میں وہ لوگ جنہوں نے برطانوی را ج میں مستقل حق ملکیت کا دعویٰ مختلف طریقوں سے کیا، دراصل جاگیروں کے اصل مالک ہرگز نہ تھے سو پاکستان کی ریاست یہ حق رکھتی ہے کہ ’’مال فے‘‘ پر حق کا قانون سورہ الحشر کی آیات نمبر 7, 6 کے مطابق استعمال کرے۔
اگر نیت میں کھوٹ، خرابی اور فتور نہ ہو تو ہم اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ’’لینڈ ریفارم ریگولیشنز‘‘ کسی طرح بھی اسلام کی روح کے خلاف نہیں لیکن دوسری صورت میں پھر وہی علامہ اقبال والی بات کہ ؎
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
تاریخ بدلنا کون سا مشکل ہے؟
تازہ ترین