میرے گزشتہ کالم ’’یہاں اسلام کا نام لو عمل کی بات نہ کرو‘‘ مورخہ 17مارچ 2014کے جواب میں کچھ قارئین نے اس بات سے اختلاف کیا کہ قرآن ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے مردوں کے لیے بیویوں کے درمیان عدل کی شرط عائد کرتا ہے۔ اعتراض کرنے والوں کا کہنا تھا کہ یہ آیت تو یتیم بچیوں اور عورتوں کے لیے مخصوص تھی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی اور اس میں پہلی بیوی یا بیویوں سے اجازت طلب کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں بلکہ جو شرط عائد کی گئی ہے وہ تو بہت کڑی ہے جسے ہم عمومی طور پرنظرانداز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی معلوم ہوں اُن سے نکاح کر لو۔ دو یا تین یا چار تک۔ اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ (ان بیویوں کے درمیان) عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی کافی ہے......یہ صورت (ایک بیوی رکھنا) اس بات سے قریب تر ہے کہ تم سے بے انصافی نہیں ہونے پائے گی‘‘۔
میں کوئی عالم فاضل نہیں بلکہ اپنے محدود علم، تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پر کالم لکھتا ہوں۔ غلطی کوئی بھی انسان کر سکتا ہے مگر جہاں معاملہ دین کا ہو احتیاط یقیناً لازم ہے۔ چوںکہ اعتراض اُٹھایا گیا کہ جو مطلب میں نے سورۃ النساء کی اس آیت کا سمجھا وہ ٹھیک نہیں اس لیے میں نے سوچا کہ اسلامی اسکالرز کی قرآن کی تفاسیر اور تشریحات سے رجوع کیا جائے۔ میرے پاس چار اسلامی اسکالرز کی تفاسیر موجود تھیں اس لیے جو انہوں نے اس متعلق لکھا اختصار کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ اس آیت کی رو سے تعداد ازدواج کو محدود کر دیا گیا ہے اور بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کو ممنوع کر دیا گیا ہے۔ مولانا یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ آیت تعداد ازدواج کے جواز کو عدل سے مشروط کرتی ہے۔ اور جو شخص عدل کی شرط پوری نہیں کرتا مگر ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کے جواز سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ اللہ کے ساتھ دغا بازی کرتا ہے۔حکومتِ اسلامی کی عدالتوں کو حق حاصل ہے کہ جس کی بیوی یا جن بیویوں کے ساتھ انصاف نہ کر رہا ہو اُن کی دادرسی کریں۔
مفتی تقی عثمانی اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی۔ ایک شخص بیک وقت دس دس بیس بیس عورتوں کو نکاح میں رکھ لیتا تھا۔ اس آیت نے اس کی زیادہ سے زیادہ حد چار تک مقرر فرما دی، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انسان تمام بیویوں کے درمیان برابری کا سلوک کرے اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم ہے۔ ایسی صورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرمایا گیا ہے۔
مولانا عبدالرحمن کیلانی تیسیرالقرآن میں لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان حسب پسند چار تک بیویاں کر سکتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان میں مساوات کا لحاظ رکھے اور اگر یہ کام نہ کر سکے تو پھر ایک بیوی پر اکتفا کرے۔ نکاح ثانی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کے قانون کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں کہ نہ صرف اس سے شوہر دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کو طلاق دینے پر اتر آتے ہیں بلکہ یہ قانون اللہ کے احکام کی ایسی غیر فطری تاویل ہے جو اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اور ایسے معاشرہ کو اس کی سزا مل کے رہتی ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی تِبیانُ القرآن میں اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص مالی اور جسمانی طور پر متعدد بیویاں رکھ سکتا ہو وہ بہ شرط عدل و انصاف چار بیویوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے اور اگر وہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکے تو وہ صرف ایک بیوی کو نکاح میں رکھے۔
ان اسلامی اسکالرز نے یہ سب لکھتے ہوئے نبی کریمﷺ کی احادیث کے بھی حوالے دیئے۔ میں اس سے پہلے بھی اس آیت کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ کئی بار مطالعہ کر چکا تھامگر اس بار پڑھ کر ایسا لگا جیسے ہم مسلمان مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے لیے اس آیت کے ایک حصہ پر تو خوب انحصار کرتے ہیں مگر دوسرا حصہ جو بیویوں سے انصاف سے متعلق ہے اُسے یکسر بھول جاتے ہیں۔ آپ اس آیت کا ترجمہ پڑھ لیں، احادیث سے رجوع کر لیں یا علمائے کرام کی تفاسیر کو دیکھ لیں تو معلوم ہو گا کہ دو تین یا چار بیویوں کے رکھنے کی اجازت ہی اُسی صورت میں ہے جب شوہر تمام بیویوں سے مکمل انصاف کر سکے۔ مگر بقول مولانا مودودی ہم اللہ کے احکام کے ایک حصہ کا فائدہ اٹھا کر اور دوسرے کو یکسر بھلا کر اپنے اللہ سے دغا بازی کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے مسلمان مرد جن کی دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مکمل پاسداری کریں۔ اور جو مرد حضرات دوسری شادی کے چکر میں ہوں انہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ ایسا عمل اُسی صورت میں کریں جب وہ اپنی بیویوں کے درمیاں مکمل عدل کر سکیں۔یہاں میری حکومت پاکستان، پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل اور سپریم کورٹ سے بھی یہ درخواست ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ بیویوں کے درمیان مساوی سلوک اور عدل نہ کرنے والے شوہروں سے قانونی طور پر پوچھ گچھ ہو سکے۔