فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی تجاویز ماننے سے انکار کردیا اور مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل نے حماس کو 3 آپشن دیے تھے، جنہیں حماس نے مسترد کرتے ہوئے مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
ان آپشنز میں ایک جنگ بندی میں توسیع اور دوسرا حماس کی مکمل تحلیل شامل تھا تاہم حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے غزہ کی حکمرانی چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔
دوسری تجویز میں جنگ کا مکمل خاتمہ، تمام مغویوں کی رہائی اور حماس کی فوجی طاقت کے خاتمے کا کہا گیا تھا۔
اسرائیلی تجویز کے مطابق حماس رہنماؤں کی جلا وطنی اور غزہ پر کنٹرول سے دستبرداری اختیار کرے یا پھر جنگ بندی کا خاتمہ اور مکمل جنگ کی طرف واپس آجائے۔
غزہ سے عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اسرائیلی تجاویز ماننے سے انکار کر دیا ہے اور مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے کہا حماس نے غزہ کی حکمرانی چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق باس نعیم نے کہا کہ حماس سیاسی، سفارتی اور مسلح مزاحمت جاری رکھے گی۔
باسم نعیم نے کہا کہ حماس فلسطینی قومی مزاحمتی تحریک ہے، تحریک کا مقصد قبضے کا خاتمہ، فلسطینی ریاست کا قیام اور حق خود ارادیت کا حصول ہے۔
حماس رہنما نے کہا کہ حکومتی امور تعلیم، صحت، پولیس اور سرحدی کنٹرول فلسطینی قیادت کے حوالے کرنے کےلیے تیار ہیں۔