اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کر لیا۔
اسرائیلی فوج کی حالیہ رپورٹ میں 7 اکتوبر کے حملے میں ہونے والی انٹیلیجنس ناکامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار نے انکشاف کیا کہ فوجی منصوبہ سازوں نے بدترین صورتحال میں حماس کے زیادہ سے زیادہ 8 سرحدی مقامات سے حملے کا اندازہ لگایا تھا، جبکہ حقیقت میں حماس نے 60 سے زائد راستوں سے حملہ کیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق حماس اس حملے کو 3 بار پہلے بھی انجام دینے کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ملتوی کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے ابتدائی 3 گھنٹوں تک حماس کے جنگجو سرحدی علاقوں اور ایک میوزک فیسٹیول میں آزادانہ طور پر کارروائی کرتے رہے اور انہیں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فوج کو صورتحال پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے اور پورے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے میں کئی دن لگ گئے۔
اسرائیلی فوج کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ فوج نے اپنی انٹیلیجنس پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا اور اپنے بنیادی نظریات پر نظرثانی کےلیے ضروری شکوک و شبہات کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں یہ تباہ کن حملہ ممکن ہوا۔
واضح رہے کہ برسوں سے جاری اسرائیلی ظلم و ستم کے ردعمل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس سمیت دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹس فائر کیے اور سرحد پر قائم باڑ توڑ کر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادیوں اور فوجیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1 ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لایا گیا۔
7 اکتوبر کے حملوں کو جواز بنا کر اسرائیل نے اگلے ہی دن سے غزہ کے شہریوں پر بدترین فضائی بمباری کا آغاز کیا اور ساتھ ہی کچھ دن بعد زمینی کارروائی بھی شروع کردی جو 19 جنوری 2025 کو ایک جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں رکی تاہم اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے اندر اسرائیلی سرحد کے قریب کچھ علاقوں میں موجود ہے۔
15 ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 48 ہزار 365 فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 11 ہزار 780 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔