تفہیم المسائل
سوال: کیا فر ما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بار ے میں کہ ستائیسویں شب کو ختم قرآ ن کے سلسلے میں چندہ جمع کیا گیا اور اس چندے کو مختلف جگہوں پر خر چ کیا گیا، مثلا ً بجلی، گیس وغیر ہ کے بل ادا کیے گئے ،نمازِ جمعہ کے لیے ٹینٹ کا کرایہ ختم قرآن سے نکالا گیا اور خاکروب کو بھی اضافی پیسے ختم قرآ ن کے جمع شدہ عطیات سے دیے گئے، ختمِ قرآن پر مٹھائی کی تقسیم بھی اسی رقم سے کی گئی، اعتکاف والوں کو پھول کے ہار پہنائے گئے، ازراہِ کرم قرآن وحدیث کی رو شنی میں اس مسئلے کا حل بتائیے، (مظہرعلی سعیدی ،امام وخطیب جامع مسجد گلزارِ حبیب ،نواب شاہ )
جواب:چندہ یا عطیہ جمع کرنے میں ہمیشہ یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جس کام کے لیے جمع کیا گیا ہے، صر ف اسی کا م میں خرچ کیا جائے، کسی دوسرے کام میں خرچ نہیں کیا جاسکتا اور اگر اس کام میں خر چ کرنے کے بعد جو رقم بچ جائے، تو جن لوگو ں سے چندہ لیا گیا تھا، انہیں واپس لوٹا دیا جائے یا ان لوگوں سے اجازت لےکر اسے دوسرے کام میں خر چ کیا جا ئے۔
اگر محض ختم قرآن کے نام سے چندہ جمع کیا گیا تھا، تو اس رقم سے دو سرے امور کی ادائیگی نہیں کی جاسکتی، ہاں اگر چند ہ لیتے وقت، دینے والوں سے یہ اجازت لے لی گئی ہو کہ وہ اس رقم کے خرچ میں یہ اختیا ر دے دیں کہ جس نیک کام میں مناسب سمجھیں، عطیہ جمع کرنے والے اس رقم کو وہاں خر چ کرنے کے مختار ہوں گے، تو اس صو رت میں اس رقم کو دیگر مصارف میں صر ف کیا جا سکتا ہے۔
امام احمد رضا قادری ؒ سے میلاد وایصال ثواب کے لیے کیے جانے والے چندے میں سے فاضل چندے کے مصرف سے متعلق سوال ہوا، آپ نے جواب میں فرمایا: ’’ ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے، وہ چندہ دہندان کا ہے، ان ہی کی طرف رجوع لازم ہے، وہ دیگ وغیرہ جس امر کی اجازت دیں، وہی کیا جائے۔
ان میں جو نہ رہے، اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کیا جائے، اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی، صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا ،اور اگر وارث بھی معلوم نہ ہو ں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا، اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان دیگ لینے کی اجازت نہیں۔
درمختار میں ہے: ترجمہ: ’’اگر بیت المال میں مال نہ ہو یا کوئی منتظم نہ ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اسے کفن پہنائیں اور اگر کوئی قادر نہ ہو تو لوگوں سے چندہ لیا جائے اور کفن کے چندے سے کچھ بچ جائے تو یہ چندہ دینے والا معلوم ہو تو اسے لوٹا دیا جائے ،ورنہ اس سے ایسے ہی فقیر کو کفن پہنا دیا جائے ، یہ بھی نہ ہوسکے ،تو کسی فقیر کو صدقہ کردیا جائے ،’’ مجتبیٰ‘‘۔
ردالمحتار میں ہے : ترجمہ : ماتن کا قول: اسی جیسے فقیر کو پہنا دیا جائے، یہ عبارت’’ مجتبیٰ ‘‘میں مذکور نہیں، بلکہ یہ ’’البحرالرائق‘‘ میں’’ تجنیس ‘‘اور’’ واقعات ‘‘ کے حوالے سے مذکور ہے، میں کہتا ہوں اور صاحب ہدایہ کی کتاب ’’ مختارات النوازل‘‘ میں ہے: فقیر فوت ہوا تو لوگوں نے چندہ جمع کر کے اس کو کفن دیا اور چندہ بچ گیا، اگر اس زائد چندہ والے شخص کامعلوم ہو،تو اسے واپس کیا جائے، ورنہ اسے کسی دوسرے فقیر کے کفن میں خرچ کیا جائے یا پھر صدقہ کر دیا جائے۔
اسی طرح اور کتب میں ہے: ترجمہ:’’قلت (میں کہتا ہوں): ردالمحتار میں ’’مختارات‘‘ کی عبارت نقل کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ کسی فقیر کو کفن پہنانے یا صدقہ کرنے میں ترتیب مذکور نہیں ہے، جیسا کہ شرح میں ہے، اقول (میں کہتاہوں) لیکن خانیہ پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر زائد چندے والا معلوم ہو، تو اسے واپس کیا جائے اور اگر معلوم نہ ہوتو پھر کسی اور محتاج کو کفن دیا جائے، اور اگر کسی کفن میں صرف کرنا مقدور نہ ہوتو فقراء پر صدقہ کیا جائے تو یہ عبارت ترتیب کے لیے نص ہے،اس میں شک نہیں کہ اس ترتیب کے اپنانے سے یقیناً عہدہ برآ ہوسکتا، پھر یہ اگرچہ وقف نہیں تواس کے مشابہ ہے اورا س میں شک نہیں کہ چندہ دینے والے مالک کی غرض کو پورا کرنا زیادہ محکم ہے، اسی لیے ہم نے اس ترتیب کو قابلِ اعتماد قرار دیا ہے،(فتاویٰ رضویہ جلد16ص: 134 )‘‘۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جس مصرف کے لیے چندہ لیا گیا ہے، اسی پرخرچ کرنا شرعاً لازم ہے اور اگر اس مصرف سے رقم بچ جائے تو بقیہ رقم یا تو چندہ دینے والوں کو واپس کردی جائے، ورنہ اگر چندہ دہندگان دستیاب نہ ہوں، تو اس رقم کو فقرا پر صدقہ کردیا جائے، یہ مسئلہ ہم نے فقہی اصول کے مطابق تحریر کردیا ہے، لیکن اگرکہیں عرف یہ ہے کہ ختمِ قرآن کے نام پر جمع شدہ چندے کی رقم ان تمام مصارف پر صرف ہوتی ہے اور چندہ دینے والوں کو بھی اس کا علم ہے اور وہ اس پر راضی ہیں، تو یہ درست ہوگا، ورنہ انتظامیہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگی۔