ایک میٹنگ میں میاں نواز شریف ، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب جلوہ افروز تھے، ایک خاص شخصیت پر بات ہونے لگی، مریم نواز کہنے لگیں کہ یہ میری ٹیم کا حصہ بنیں گے ، اور وزیراعظم کا کہنا تھا میری ٹیم کا حصہ۔ وہ صاحب ان سب کے سامنے بیٹھ کر اپنی روایتی مسکراہٹ ہی کو چہرے پر سجا سکتے تھے پسند و ناپسند یا خواہش کا اظہار ممکن نہیں تھا۔ بہرحال ان صاحب کیلئے مسرت کی بات یہ تھی کہ انہیں جوان اور نوجوان گردانا جا رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں نا جیسا دیس ویسا بھیس، اسی کے مصداق ہم کچھ یہ سمجھ بیٹھے ہیں جن پر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کا بیک وقت تکیہ تھا وہ خاص ماحول میں خود کو بزرگ سمجھیں گے نہ نوجوان تاہم نوجوان اور بزرگ کے مقام اعراف پر ضرور محسوس کریں گے، بہرحال بزرگ تو محض حکم دیتے ہیں، جنگیں تو نوجوان کو لڑنی پڑتی ہیں ۔ نوجوان کی جنگجوئی یعنی جینے مرنے کی بات اکتیسویں امریکی صدر ہربرٹ ہوور نے کی تھی۔ یہ بات صرف روایتی جنگ کیلئے نہیں معاشی جدوجہد، معاشرتی بناؤ ، تحقیقی مقابلہ اور سیاسی آرٹ کیلئے بھی ہے۔ فلپائنو قوم پرست اور مصنف اس بات سے ہٹتا ہی نہیں کہ قوم کا اصل مستقبل ہے ہی نوجوان..... نیلسن منڈیلا کا کہنا ہے کہ آج کا نوجوان کل کا لیڈر ہے۔گویا ضروری ہے کہ نوجوان اس وقت تک سہل پسندی کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہ دے جب تک وہ اپنے مستقبل کو محفوظ اور ٹارگٹ کو حاصل نہیں کرلیتا۔ پس اس سے بھی ضروری ہے کہ نوجوان تنقید کی شاہراہ پس پشت رکھتے ہوئے اپنے رول ماڈل کے پیچھے چلے۔ لیکن ان نوجوانوں اور جوانوں کو اگر کسی بھی لیڈرشپ نے ملک و ملت کیلئے کیش کرانا ہے ، یا کسی ادارے نے اپنا کردار منوانا اور بڑھوتری کو پانا ہے تو پھر ان کیلئے تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا فرض ہے بصورت دیگر’’اَنگائیڈِڈ میزائل سازی‘‘ تو ہو سکتی ہے ٹارگٹِڈ آپریشنز نہیں !رانا مشہود احمد خان وزیراعظم نوجوان پروگرام کےچیئرمین ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے انہیں باقاعدہ پروموٹ کیا ہے جو اپنی جگہ ان کیلئے خراجِ تحسین ہے اور ایک چیلنج بھی کہ صوبہ پنجاب میں تعلیم کے وزیر رہنے کے علاوہ کھیلوں کے وزیر بھی رہے، یہی نہیں پارلیمانی امور اور اسمبلی بزنس کو سمجھنے کا تجربہ انہوں نے اسپیکر صوبائی اسمبلی کی کرسی پر بیٹھ کر بھی پایا۔ کالم کا آغاز اسی شخصیت کے حوالے سے کیا، پھر ہوا کچھ یوں تھا کہ بڑوں کی متذکرہ میٹنگ میں سے وزیراعظم نے رانا مشہود کی انگلی پکڑی، گاڑی میں بٹھایا تو سیدھے شہر اقتدار اسلام آباد اور وزیراعظم کے بغل کے ایک آفس میں جا بٹھایا۔ اور یوں جناب بحیثیت چیئرمین ، وزیراعظم نوجوان پروگرام کیلئے لنگوٹ کسے ہوئے ہیں....ایک دن میں نے سابق وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال کو کہا کہ رانا مشہود کے ہاں جانا ہے، ٹائم آپ لیجئے اور ساتھ سرپرائز میرا رکھئے۔ حاضر ہوتے ہی میں نے پہلا شکوہ یہ کیا کہ رانا صاحب پنجاب میں یونیورسٹیوں کی بھرمار ہو چکی اور آپ اس فیلڈ میں تجربہ کار مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وفاقی فضاؤں کے باسی ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے سارے پروگرام اور پلان پر روایتی مسکراہٹ کے ساتھ بریفنگ دی تو احساس ہوا کہ اس اسائنمنٹ کے تحت تو رانا صاحب کی خدمات کا دائرہ کار وسیع ہو گیا، یونیورسٹیاں و کالجز یا سکول بھی دور نہیں پھرتعلیمی اداروں سے باہر کے نوجوان کیلئے بھی سمجھنے سوچنے کا موقع وہ بھی وفاق کی چھتری تلے۔ بہرحال رانا مشہود کیلئے جہاں عزت افزائی کے در وا ہوئے وہاں ایک بڑے چیلنج کا بھی دریچہ کھلا ہے ، تاہم وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بھی انکی کوارڈنیشن سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے! جس طرح ایچ ای سی کے ساتھ مل کر کالجوں اور یونیورسٹیوں کی مردہ اسپورٹس میں روح پھونکی گئی ، اسی طرح مرکزی اور صوبائی یونیورسٹیوں کیلئے چیئرمین کو خصوصی وقت نکالنا چاہئے بلکہ یونیورسٹیوں کے آل پاکستان آفسز آف ریسرچ اِنوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے ڈائریکٹرز کا چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کے تعاون سے ایک دو روزہ کنونشن کا اہتمام کرنا چاہئے، جس میں وفاقی وزیر احسن اقبال، کامرس اور انڈسٹری کی وزارتوں کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی ، تعلیم اور فنی مہارتوں کے وزرا بھی سیشن چیئر کریں۔ ضروری ہے کہ وزیراعظم نوجوان پروگرام کے چیئرمین کی وزارت خارجہ اور انرجی کی وزارت کے ساتھ بھی ایک سود مند کوارڈنیشن ہو محض لیپ ٹاپس کی تقسیم کافی نہیں۔ اگر احسن اقبال کے پاس "ٹائم" ہو تو ان کی رہنمائی کافی کارگر ہوگی نوجوانوں کیلئے انٹر پرنیورشپ کی حو صلہ افزائی اور ٹیکنالوجی امور پر ان سے زیادہ کوئی گائیڈ نہیں کر سکتا۔ کچھ روز قبل سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی میٹنگ میں احسن اقبال نے درست یاد کرایا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ماضی میں متعدد اہم تعلیمی منصوبے شروع کیے بلوچستان کے عوام کو ان منصوبوں سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ 2013 سے 2018 مسلم لیگ نواز حکومت نے بلوچستان کے طلبہ کیلئے ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں 5 ہزار اسکالرشپس فراہم کیے پھر پی ڈی ایم حکومت نے مزید 5 ہزار وظائف دوسرے مرحلے میں بھی دئیے۔ یوں وزیر اعظم نے سعودی دورہ پر ریاض میں اس بات کا اعادہ کیاہے کہ حکومت پاکستان نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، تعلیم اور صحت عامہ کے حوالے سے بااختیار بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔ مگر، احسن اقبال صاحب ایک نظر ادھر بھی کہ نوجوانوں کی یونیورسٹیاں مالی اعتبار سے بھوکی بیٹھی ہیں، اسکلز کو پالش کرنے والے اور ٹیکنالوجی کے ادارے نہ ہونے کے مترادف بیٹھے آپ کی پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں !ہفتہ قبل لاہور میں سندھ نون لیگ کے صدر بشیر میمن کے اعزازمیں رانا صاحب کے دئیے ڈنر میں ملاقات ہوئی تو ہم نے میمن صاحب سے کہا کہ سندھ کے نوجوانوں کیلئے رانا صاحب کو کہیں کوئی مائیکرو فنانس اور مائیکرو انڈسٹری کی ٹریننگ اور پلاننگ کریں کہ استفادہ کا بہترین موقع ہے۔ اور بیرون ملک روزگار، فنی تربیت کے دروازے بھی کھولنے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی کے پی کے اور کشمیر کے نوجوان بھی ملک کا انمول اثاثہ اور مستقبل ہیں ۔ رانا صاحب کشمیر اور کے پی کے آپ کا راستہ دیکھ رہے ہیں، جائیے کہ وہ نوجوان قدرت کا تحفہ ہیں اور آپ ان کیلئے آرٹ!