آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اب جب بجٹ آرہا ہے تو ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ ہماری حکومت بالخصوص وزیرِخزانہ اس ملک کو ایک کمزور زرعی معیشت سے ایک مضبوط علمی معیشت میں منتقل کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ پاکستان کو بجٹ کا بڑا حصّہ موجودہ جامعات اور تحقیقی ادارے مثلاً PCSIR, PARC,PAEC کی مضبوطی اور استحکام کے لئے مختص کرنا چاہئے۔ نئے ادارے قائم کئے جانے چاہئیں۔بالخصوص نئے ابھرنے والے شعبہ جات مثلاً نینو ٹیکنالوجی،جینیات اور بائیو انفارمیٹکس کے ادارے، صنعت اور تحقیقی اداروں میں آپس میں موثر ربط قائم کرنا ہوگا، نجی شعبے کو مراعات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دینے میں حکومتی اداروں کے مالی تعاون سے لیبارٹریاں اور افرادی قوّت کو فروغ حاصل ہو سکے، ٹیکنالوجی پنپنے کے اداروں (Technology Incubators) کا قیام اور مخصوص ٹیکنالوجی پارک (Technology Park) کا قیام بھی بہت ضروری ہے۔
زراعت پاکستان کا سب سے اہم اور روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔ پاکستان میں ایک متوسط کھیت کی پیداوار نام نہاد ترقی یافتہ کسانوں کے کھیتوں کی پیداوار سے 31-75% تک ہے جبکہ ان ترقی یافتہ کسانوں کے کھیتوں کی پیداوار بھی تحقیقی مراکز میں واقع کھیتوں کی پیداوار 25-57% کم ہے۔ نامناسب زرعی تعلیم کے نتیجے میں ناقص زرعی طریقوں کا استعمال، معیاری پیداوار میں کمی،

کٹی ہوئی فصلوں کی بربادی اور کھاردار اور سیم وتھور زدہ زمینوں کی وجہ سے پاکستان میں فصلوں کی پیداوار میں کمی کا تخمینہ 40 ارب روپے سالانہ ہے۔ اس طرح کٹی ہوئی سبزی اور پھلوں کی فصلوں کے نقصان کا تخمینہ 60 ارب روپے سالانہ ہے۔ وزیرِ خزانہ کو چاہئے کہ اگلے بجٹ میں یقینی طور پر زرعی تحقیق و ترقی (R&D) کے عمل کے لئے اعلیٰ پیمانے پر سرمایہ کاری کریں۔ ایک اور اہم شعبہ انجینئرنگ کا ہے، انجینئرنگ کا شعبہ درحقیقت ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ممالک کی عالمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے اسے پاکستان میں بڑی بری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے کی سربلندی کا واحد ذریعہ انجینئرنگ جامعات و تکنیکی اداروں کا قیام ہے۔ 2003ء سے 2008ء میں ایچ ای سی (HEC) نے انجینئرنگ جامعات کی مضبوطی کے لئے بہت کام کئے۔ انجینئرنگ صلاحیتوں کو اپنانے کی فوری ضرورت ہے۔ صنعتی انجینئرنگ (Industrial Engineering)کے شعبے قائم کئے جانے چاہئیں اور ایسے پروجیکٹ جن میں جدّت طرازی ہو اور نئی مصنوعات بنائی جا سکیں نجی و سرکاری شراکت داری سے شروع کئے جانے چاہئیں۔ الیکٹرانک انجیئرنگ بھی بہت اہم صنعتوں کی بنیاد ہے۔جن میں آلاتِ نقل وحمل،ابلاغ و آگاہی ٹیکنالوجی (ICT)روزمرّہ استعمال کے آلات، دفاعی وطبّ حیاتی (biomedical) آلات وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے الیکٹرانکس کی صنعتی ترقی میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ برقیات کی تیّاری اور خاکہ سازی کا عمل محض تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی کمی اور تحقیق و ترقی کی صلاحیتوں کی قلّت کی بدولت تقریباً ناپید ہے۔ کچھ ابھرتے ہوئے شعبے جن کے قیام کو ہمیں ترجیح دینی چاہئے وہ ڈیجیٹل سگنل پراسیسنگ (DSP) آپٹکس (Optics) ،ڈیجیٹل مواصلات (DC)،مائیکرو الیکٹرانکس، ملکی تحقیق و ترقی کی صلاحیتوں کی ترویج،VLSI خاکہ سازی میں ترقی و تربیتی مراکز کا قیام، اعلیٰ و معیاری سطح کے مخصوص شعبوں کے ٹیکنالوجی پارکوں کا قیام جو کہ اعلیٰ تکنیکی صنعتوں پر پڑنے والے بوجھ کے لئے معاون ہوں، کی افرادی قوّت کے استحکام اور ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم شعبہ جو علم پر مبنی معیشت قائم کرنے کے لئے ضروری ہے وہ ہے انفامیشن ٹیکنالوجی (IT)۔ 2000 سے 2002، میں نے بحیثیت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اس شعبے کی شاندار ابتدا کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ 2000 سے 2002 کے دوران آئی ٹی اور مواصلات (telecom) کے شعبے نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور 2000 میں میری سرپرستی میں بحیثیت وفاقی وزیر ،انٹرنیٹ کی سہولت 29 شہروں سے بڑھ کر 2002 تک 1000 چھوٹے بڑے شہر و دیہات تک پہنچ گئی تھی اور اس دو سال کے قلیل عرصے میں فائبر کی تعداد 40شہروں سے بڑھ کر 400 شہروں تک پہنچ گئی ۔ انٹرنیٹ کے ماہانہ کرائے میں زبردست کمی کی گئی ۔2 MB لائن کے لئے ماہانہ کرایہ 87,000 ڈالر سے گھٹ کر صرف 900 ڈالر ماہانہ کر دیا گیا اور اب تو 100ڈالر سے بھی کم ہو گیا ہے۔موبائل ٹیلی فون کے نرخوں میں بھی زبردست کمی کی گئی ۔یوفون جو PTCL کا ذیلی ادارہ ہے اُس کو دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں متعارف کراکے لائی گئی۔ کال کرنے کے نظام کو یکسر تبدیل کیا گیا تاکہ کال موصول کرنے والے صارفین کو کال کی قیمت نہیں ادا کرنی پڑتی۔ ایک مصنوعی سیّارہ (Paksat 1) بھی خلاء میں بھیجا گیا۔ ایک قومی ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی جہاں آج تمام سرکاری جامعات کے طلبہ کو 220 بین الاقوامی کمپنیوں کی 60,000 درسی کتب اور 25,000 بین الاقوامی رسالوں تک رسائی دی گئی ہے۔ 2001 میں IT کی صنعت کو پندرہ سالہ ٹیکس کی چھوٹ دلائی گئی جس کی بدولت آئی ٹی سے وابستہ مصنوعات کی برآمدات میں 2001 میں 30 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر اس وقت 1.5 ارب ڈالر سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ خزانہ صاحب کو چاہئے کہ اس ٹیکس کی چھوٹ میں مزید دس سال کی توسیع کر دیں تاکہ اس شعبے کی ترقی ویسے ہی جاری و ساری رہے۔معدنیات کی کان کنی بھی ایک اہم توجّہ طلب شعبہ ہے۔ بہت سی معدنیات ہماری مختلف صنعتوں کے لئے اہم ہوتی ہیں مثلاً دفاع، برقیات، انجینئرنگ،ذرائع مواصلات، توانائی اور کھیلوں کے سامان کی صنعتوں میں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ نئے مادّے تیّار کریں خصوصاً مرکبات کی شکل میں بنانے پر توجّہ دیں۔ ہمیں یہ بھی چاہئے کہ ہم ایسی ٹیکنالوجی اپنائیں جن سے ہم اپنے ملکی خام لوہے کو مزید بہتر طور سے استعمال کر سکیں تاکہ خاص قسم کے فولاد اور دھاتوں کی پیداوار ہو سکے اور مختلف مقامات پر چھوٹی اسٹیل ملیں تعمیر کی جائیں مثلاً نوکنڈی، کالاباغ وغیرہ۔ تانبا اور دیگر دھاتوں کو بہتر بنانے کے لئے اعلیٰ درجے کے تحقیقی مراکز قائم کئے جانے چاہئیں۔
کیمیکل صنعت کی ترویج کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں naphtha cracker قائم کیا جائے اس سہولت کی موجودگی ملکی سطح پر مختلف کیمیائی (chemicals) اجزاء اور ادویاتی اجزاء (pharmaceuticals) کی تیّاری کے لئے نہایت مفید ہے۔ ہمارے پاس قدرتی اجزاء کا وسیع خزانہ ہے جسے مزید استعمال کیا جاسکتاہے۔ تقریباً 40% سے زائد کیمیائی اور ادویائی اجزاء طبّی نباتات سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پاکستان ہی میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی بنیادی تیّاری کے لئے بہت کم سہولتیں میّسر ہیں۔ تمام بنیادی ادویاتی اجزاء بنانے والی بالخصوص حیاتی ٹیکنالوجی (biotechnology) جیسی اعلیٰ منافع بخش صنعتوں کو 15 سالہ ٹیکس کی چھوٹ دینی چاہئے ۔
توانائی کے شعبے کے لئے میں پہلے بہت کچھ لکھ چکا ہوں کہ اس میدان میں دنیا میں کیا ترقیاں ہوئی ہیں اور ہمیں کن مسائل پر اپنی توجّہ مرکوز کرنی چاہئے۔ 2001 میں بحیثیت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ہم نے ایک پروجیکٹ کے تحت ملک بھر کا ہوائی نقشہ (world map)تیّار کیا تھا جس کے تحت سندھ میں کیٹی بندر، گھارو، حیدرآباد کا تکون ایسے علاقہ کا پتہ چلا جس میں ہوا سے 20,000MW سے بھی زیادہ بجلی کی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے۔اس سے ہمیں پورا استفادہ کرنا چاہئے تھا۔ امریکی شعبہ توانائی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شیل گیس (Shale gas) کے206 Tcf ذخائر موجود ہیں جس کے ذخائر اور جگہوں سے ناپید ہو رہے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے ان ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کا تخمینہ 51 Tcf لگایا ہے ۔اسی طرح میتھین گیس (Methane gas) کے ذخائر کراچی کے ساحل کے قریب دریافت ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے چینی دوستوں سے تکنیکی مدد حاصل کر کے اس ذخیرے کو استعمال کے قابل بنانا چاہئے۔ ہمارے پاس کوئلے کے بھی بہت بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن ہمارے ملک میں بجلی کی پیداوار کے لئےکوئلہ صرف 1% سے بھی کم استعمال کیاجاتاہے بمقابل 50% سے زائد چین اور بھارت میں۔
صاف کوئلے کی ٹیکنالوجیclean coal technologies اور beneficiation techniques کے ذریعے حراری توانائی حاصل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھوٹے پن چکّی پلانٹ (mini-hydel plants) ، ہوائی توانائی پلانٹ (wind power plants)،اور شمسی توانائی پلانٹ (solar power plants) لگانے سے دور دراز کے علاقوں تک بجلی فراہم کی جا سکتی ہے جو کہ معاشی ترقی کے لئے معاون ثابت ہوگی۔
مندرجہ بالا اعمال کی انجام دہی کے لئے وفاقی وزراء اور سیکریٹریوں کو نہایت عالم فاضل اور اپنے شعبے میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ وزارتوں کو مضبوط محفلِ فکر (Think Tanks) کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ ہر وزارت کو ایک ہدف تفویض کیا جانا چاہئے اگر وہ اس ہدف کو پورا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو باقاعدہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کے بعد ان وزراء اور سیکریٹریوں کو فارغ کر دینا چاہئے۔ موجودہ حالت کی نسبت ان سب تجاویز پر سختی سے عمل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں