کراچی (تحقیقاتی رپورٹ: اسد ابن حسن) کرپٹو جرائم اور ’’چین انیلیسس‘‘ سافٹ وئیر، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟۔ سائبر جرائم کی تحقیقات سے تعلق رکھنے والے افسران بھی مخمصے اور ابہام کا شکار ہیں۔ پہلا ٹیسٹ کیس ارمغان کی تحقیقات کے حوالے سے ہوگا، مہنگے سافٹ ویئر خریدنا یا تیار کرانا ناگزیر ہے۔ تفصیلات کے مطابق شاطر کرپٹو کرنسی کا مالک اور مبینہ قاتل ارمغان کہ سائبر کرائم اور اینٹی منی لانڈرنگ تحقیقات کے فالو اپ میں جس میں یہ ثابت ہوا تھا کہ اس کے پاس 18 بٹ کوائن ہیں جن کی مالیت اس وقت تقریبا 2 ملین ڈالر تھی۔ مگر نہ ہی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور نہ ہی اینٹی منی لانڈرنگ سرکل بٹ کوائن کو برآمد کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ ان 18 بٹ کوائن کی حرکت اور اصل مالک کو ٹریس کرنے کے لئے پاکستان کے پاس اپنا کوئی ’’چین انیلیسس‘‘ جیسا سوفٹ ویئر یا ٹیکنالوجی نہیں ہے اور یہی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ چین انیلیسس ایک امریکی کمپنی نے ایسا سوفٹ ویئر بنایا ہے جو بلاک چین پر ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ دیکھ کر اس کا نقشہ کھینچ دیتا ہے۔ اگر ایک والٹ سے رقم نکل کر دس مختلف والٹس میں گئی ہو تو یہ سافٹ ویئر دکھا دیتا ہے کہ وہ سفر کیسے ہوا اور آخر میں کس ایکسچینج یا بینک اکاؤنٹ پر جا کر ختم ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں ایف بی آئی اور دیگر ادارے اس کو بڑے کرپٹو کیسز میں استعمال کرتے ہیں۔عدالت میں اس انفارمیشن کو قابل قبول بنانے کے لئےامریکا میں اس کو ’’ایکسپرٹ ایویڈنس‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ امریکی قانون Federal Rules of Evidence Rule 702 اور 703 یہ اجازت دیتے ہیں کہ ایک ماہر گواہ اپنی رائے دے سکتا ہے اگر اس کا علم اور طریقہ کار معتبر ہو۔ لہٰذا ایف بی آئی جب عدالت میں رپورٹ لے کر جاتی ہے تو دراصل ایک فرانزک افسر بطور ماہر یہ بیان دیتا ہے کہ چین انیلیسس کے ذریعے اس نے ٹرانزیکشن کا سراغ لگایا۔ بھارت میں بھی یہی طریقہ اپنایا گیا ہے مگر وہاں یہ کام Evidence Act 1872 کے تحت ہوتا ہے۔ اس کا Section 45 کہتا ہے کہ جب کوئی سائنسی یا ٹیکنیکل معاملہ ہو تو ماہر کی رائے قابل قبول ہوگی۔ ساتھ ہی Section 65B یہ شرط لگاتا ہے کہ کوئی بھی الیکٹرانک ریکارڈ تبھی عدالت میں قابل قبول ہوگا جب اس کے ساتھ ایک سرٹیفکیٹ منسلک ہو جو ثابت کرے کہ یہ ریکارڈ ایک معتبر نظام سے نکلا ہے۔ اسی لیے بھارتی ایجنسیاں چین انیلیسس رپورٹ کو اپنے افسر کے ذریعے ماہر کی رائے کے طور پر پیش کرتی ہیں اور اس کے ساتھ سرٹیفکیٹ بھی لگاتی ہیں تاکہ عدالت میں اعتراض نہ اٹھ سکے۔ پاکستان میں قانون شہادت 1984 میں ایکسپرٹ اوپینین کی گنجائش تو موجود ہے مگر بلاک چین فرانزک کو صراحت کے ساتھ شامل نہیں کیا گیا۔