ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اپنی گردن پر توجہ دیں، اس کی پیمائش ہارٹ فیل ہونے سے لے کر ٹائپ 2 ذیابیطس تک کے بارے میں انکشاف کرتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرینِ صحت کا کہنا ہے آپ کی گردن آپ کی صحت کے بارے میں آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ ظاہر کر رہی ہے اور اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔
برسوں سے این ایچ ایس کے ڈاکٹر صحت کا اندازہ لگانے کے لیے باڈی ماس انڈیکس یعنی بی ایم آئی کا استعمال کرتے آئے ہیں لیکن سائنسدان اب اپنی توجہ ایک مختلف اور زیادہ غیر متوقع اشارے پر مرکوز کر رہے ہیں جو ہے گردن کی موٹائی۔
ایک موٹی گردن کچھ کھلاڑیوں، جیسے باکسرز اور رگبی پلیئرز کے لیے مفید ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ دوسروں کے لیے یہ سنگین صحت کے مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
کنگسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اپنے جسمانی سائز کے لحاظ سے موٹی گردن والے افراد کو صحت کے خطرناک مسائل کا سامنا کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ گردن کی چوڑائی یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ جسم کے اوپری حصے میں چربی کہاں چھپی ہوئی ہے۔
بائیو کیمسٹری اور مالیکیولر بائیولوجی کے سینئر لیکچررز ڈاکٹر احمد البدیوی اور ڈاکٹر نادین وحیدہ کا کہنا ہے کہ آپ کے جسم کے اوپری حصے کے گرد موجود یہ چربی آپ کے خون میں فیٹی ایسڈز چھوڑتی ہے اور اس بات میں مداخلت کر سکتی ہے کہ آپ کا جسم کولیسٹرول، بلڈ شوگر اور دل کی دھڑکن کو کیسے منظم کرتا ہے۔
انہوں نے صحت سے متعلق مضمون میں لکھا ہے کہ بنیادی طور پر گردن کا گھیرا اندرونی چربی کا ایک پیمانہ ہے، یہ نقصان دہ چربی اعضاء کے گرد لپٹی ہوتی ہے، گردن کے سائز کو صحت کے مسائل سے جوڑنے والے یہ شواہد حیران کن ہیں، موٹی گردن والے لوگوں میں دل کی کئی بیماریوں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں ہائی بلڈ پریشر، ایٹریل فیبریلیشن یعنی دل کی بے قاعدہ دھڑکن اور ہارٹ فیل ہونا شامل ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ موٹی گردن اور دل کی دھڑکن کے بے ترتیب ہونے کے درمیان تعلق سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے، یہ دل کی بے ترتیب دھڑکن اور خون کے ناقص بہاؤ کا سبب بنتا ہے، جو خون کے لوتھڑے بننے اور فالج کا باعث بن سکتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ یہ برقی عدم توازن دل کو ناکامی کی طرف دھکیل سکتا ہے، گردن کا سائز کورونری ہارٹ ڈیزیز سے بھی منسلک ہے، جس میں شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں اور دل کو آکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ صرف دل ہی خطرے میں نہیں ہے، بلکہ موٹی گردن والے افراد کو ٹائپ 2 ذیابیطس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، جو اندھے پن سے لے کر اعضاء کاٹنے تک مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے، اس کا تعلق نیند کی خرابیوں سے بھی ہے، ایک بھاری گردن کا تعلق سلیپ ایپنیا سے ہے، جس میں رات کے وقت سانس رک جاتا ہے، یہ عارضہ مبتلا افراد کو خطرناک حد تک تھکاوٹ کا شکار کر دیتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے، اس تھکاوٹ کی وجہ سے کار حادثات کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرینِ صحت نے اس بارے میں بھی روشنی ڈالی ہے کہ موٹی گردن کسے شمار کیا جاتا ہے؟ ماہرین کے مطابق اپنی گردن کی پیمائش کرنے کے لیے ایک پیمائشی ٹیپ لیں اور اسے اپنی گردن کے سب سے پتلے حصے کے گرد لپیٹیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ٹیپ چپکی ہوئی ہو لیکن تنگ نہ ہو، مردوں میں 17 انچ یا اس سے زیادہ اور خواتین میں 14 انچ یا اس سے زیادہ کی پیمائش صحت کے سنگین مسائل کے خطرے کو بڑھاتی ہے، سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ خطرات ان لوگوں میں بھی برقرار رہتے ہیں جن کا بی ایم آئی نارمل ہو۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ روایتی پیمانوں کے مطابق آپ کا وزن صحت مند ہو سکتا ہے، لیکن گردن کے گھیرے کی وجہ سے آپ کو پھر بھی صحت کے زیادہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہےاور ان حدوں سے زیادہ گردن کے گھیرے کے ہر اضافی سینٹی میٹر کے ساتھ موت اور اسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ کارڈیو ورزش اور ویٹ ٹریننگ جسم کے اوپری حصے کی چربی کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، معیاری نیند میٹابولک ریگولیشن اور بحالی میں مدد دیتی ہے، دالوں، پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور متوازن غذا اضافی کیلوریز کے بغیر ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔
ایک ایسے دور میں جہاں ہم بیماری کی پیشگوئی کرنے اور اسے روکنے کے بہتر طریقے مسلسل تلاش کر رہے ہیں، آپ کی گردن سب سے آسان اشارہ دے سکتی ہے، اگر آپ کی گردن آپ کی صحت کے بارے میں آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ ظاہر کر رہی ہے تو اس پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔