کراچی ( نیوز ڈیسک) چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس،کیا یہ عالمی سیاست میں نیا رخ ہے؟ 43 فیصد عالمی آبادی کی نمائندہ تنظیم، ٹرمپ کے ٹیرف کے بعد اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ۔ چین اور روس کا مغرب کے مقابلے میں گلوبل ساؤتھ کو متحد کرنے کا عزم ،امریکہ اجلاس پرگہری نظر رکھے گا۔یوکرین جنگ، فلسطین تنازع اور پاک بھارت کشیدگی اجلاس کے ایجنڈے پر ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک چین کے شہر تیانجن میں ہو رہا ہے، جس کی اہمیت ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت پر عائد سخت تجارتی ٹیرف اور عالمی کشیدگی کے پس منظر میں بڑھ گئی ہے۔ چین اس موقع کو اپنی قیادت اور استحکام کے پیغام کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ گلوبل ساؤتھ کو مغرب کے مقابلے میں متحد کر سکے۔ یہ تنظیم دنیا کی 43 فیصد آبادی اور تقریباً ایک چوتھائی معیشت کی نمائندگی کرتی ہے، مگر اس کی شناخت اب بھی غیر واضح ہے اور رکن ممالک یوکرین جنگ، اسرائیل فلسطین تنازع اور پاک بھارت کشیدگی جیسے معاملات پر تقسیم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اجلاس کی اصل اہمیت علامتی ہے، کیونکہ یہ امریکہ کی غیر موجودگی میں چین اور روس کو کثیر قطبی دنیا کا تصور اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ واشنگٹن خاص طور پر اس اجلاس کے نتائج پر گہری نظر رکھے گا۔