گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا۔ پاکستان میں دہشت گردی، امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی کی کڑی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے، ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پر مہر ثبت کر چکی ہے مگر بھارت افغانستان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے۔
افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر 2025ء میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کیے۔ جب افغان وزیر خارجہ دورۂ بھارت پر تھے تو اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے، افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے جنوبی ایشیا کی بدلتی سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔