اسلام آباد(فاروق اقدس/نامہ نگارخصوصی ) ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے تاجکستان اور امریکا میں پیش آنےو الے دہشتگردی کے واقعات کو سنگین قراردیتے ہوئے کہاہےکہ افغانستان سے ہونے والے یہ حملے دہشت گردی کی عالمی سطح پر واپسی کو ظاہر کرتے ہیں ‘پاکستان دہائیوں سے اس دہشتگردی کا شکار ہے ‘ افغانستان سے ہونے والے بار بار حملے اور وہاں دہشتگردوں کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں‘عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے‘اس عفریت سے نمٹنے کیلئے ہم امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں ‘ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی برقرار نہیں‘سکیورٹی چیلنجز سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جائے گا‘ترکیہ وفد کا دورہ پاکستان ابھی پائپ لائن میں ہے۔آباد کاری کے وعدے کرنے والے ممالک کو افغان شہریوں کو جلد پاکستان سے نکالنا چاہیے‘ پاکستان میںداعش کا کوئی وجود نہیں ‘ دہشت گردی اور دہشتگرد افغانستان میں آباد ہیں‘ سعودی عرب کی جانب سے پاک افغان ثالثی کی کوئی معلومات نہیں‘پاکستان ثالثی کی کسی بھی ٹھوس پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے‘ گیس پائپ لائن کا مسئلہ پاکستان اور ایران ملکر حل کریں گے ‘متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر کوئی ویزاپابندی نہیں لگائی ‘سوشل میڈیا پر عمران خان کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں‘بھارتی سائبر ڈومین یہ فیک نیوز اورافواہیں پھیلانے میں مصروف ہے‘اب افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔ جمعہ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہناتھا کہ امریکا میں فائرنگ کا واقعہ افسوس ناک ہےجو عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے‘ گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان نے ایسے متعدد حملے برداشت کیے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا۔ واشنگٹن کا واقعہ نہ صرف عالمی سطح پر دہشتگردی کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے بلکہ دوبارہ منظم بین الاقوامی تعاون کی ضرورت بھی واضح کرتا ہے۔اسی نوعیت کے ایک حالیہ سانحے میں تاجکستان میں 3 چینی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان نے چین اور تاجکستان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔افغانستان سے ہونے والے بار بار حملے اور وہاں دہشتگردوں کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دہشتگردی کے منصوبہ سازوں، معاونین اور مالی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاں ہی اس خطرے کو روک سکتی ہیں ۔ ترجمان دفترخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع نے سندھ کے حوالے سے اشتعال انگیز بیان دیا‘انڈیانے سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی ڈیٹا شیئر نہیں کیاجو کہ افسوسناک ہے‘ پاکستان بھارت کے ساتھ مسائل کا بات چیت کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنے کا حامی ہے‘ترجمان نے کہاکہ پاکستان کو تاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر کا جھنڈا لہرانے پر سخت تحفظات ہیں‘طاہرحسین اندرابی نے کہاکہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر مشاورت جاری ہے‘امید ہے معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا‘متحدہ عرب امارات کی جانب سے ویزوں پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی گئی‘قائمہ کمیٹی کو شایدپرانے ریکارڈ کی بنیاد پر بریفنگ دی گئی۔علاوہ ازیں دفترخارجہ نے چینی شہریوں پر بزلانہ حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجکستان پر افغانستان سے ڈرون حملہ خطرے کی سنگینی واضح کرتا ہے۔دریں اثناء پاکستان نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکا کے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے کی تشویش ناک علامت ہے۔