پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام درحقیقت عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ فارم 47 کی اسمبلی نے جس لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو منظور کیا ہے وہ آئین پاکستان سے متصادم ہے۔ اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جسکی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔آئین کے مطابق اختیارات نچلی سطح تک منتخب نمائندوں کو منتقل کرنا لازم ہے، لیکن موجودہ قانون اختیارات کی منتقلی کے بجائے اختیارات پر قبضے کی کوشش ہے۔ پنجاب حکومت کا غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی آئین کے آرٹیکل 17 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کو سیاسی وابستگی، تنظیم سازی اور جماعتی فعالیت کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ غیر جماعتی انتخابات دراصل عوام کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کی کوشش اور جمہوری نظام کے بنیادی ڈھانچے سے انحراف ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی وہ تمام شقیں جو بیورو کریسی کو غیر آئینی اختیارات دیتی ہیں اور غیر جماعتی انتخابات سے متعلق ہیں، انہیں فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بااختیار بلدیاتی ادارے اور جمہوری عمل کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔اسی تناظر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بھی بلدیاتی نظام کے قانون کے خلاف سات دسمبر کو پنجاب بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں احتجاج سے’’ بدل دو نظام‘‘ ملک گیر پرامن مزاحمتی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔ عوام کا مزید استحصال برداشت نہیں کریں گے، حکمرانوں کو قوم کا حق دینا پڑے گا۔ مقامی حکومتوں کے قانون کے خلاف پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہوں گے ، عدالت بھی جائیں گے۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم ، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ، امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جناب حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اجتماع عام کے طے شدہ ایجنڈاکے مطابق بدل دو نظام تحریک کے تحت عوامی ریفرنڈم ، دستخطی مہم ، دھرنے ، اسمبلیوں کے گھیراؤ سمیت احتجاج کے تمام پرامن ذرائع استعمال ہوں گے۔ جماعت اسلامی آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوری نظام کے قیام اور متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات چاہتی ہے۔امن و امان کی ابتر صورتحال ، تعلیمی بحران کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ جماعت اسلامی کی صوبائی قیادت مسائل کی نشاندہی کرئیگی جس پر صوبوں میں احتجاج ہوگا۔ کرپشن، امریکی و آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف مظاہرے ہونگے، غزہ کی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے، فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے۔ افغانستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ فارم سنتالیس کی اسمبلی نے مقامی حکومتوں کے جس قانون کو پاس کیا ہے اس سے عوامی نمائندگی کا حق مکمل طور پر سلب کرلیا گیا، افسر شاہی فیصلے کرے گی، انہوں نے سوال کیا کہ کس جمہوری نظام میں غیر جماعتی انتخابات ہوتے ہیں؟ ہارس ٹریڈنگ کے راستے کھول دیے گئے ، شریف خاندان اقتدار کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے، جماعت اسلامی تمام صوبوں میں بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں تحریک چلائے گی، پنجاب کے قانون کو فوری طور پر عدالت میں بھی چیلنج کررہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کا یہ کہنا تھا کہ اجتماع عام کی بے مثال کامیابی پر اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لاکھوں لوگوں نے مینار پاکستان پر اکٹھے ہوکر فرسودہ نظام کے خلاف بے زاری کا اظہار کیا۔ عالمی وفود نے اجتماع عام میں شرکت کی اور دنیا میں رائج استحصالی ، ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور اسلام کے عادلانہ نظام کو بہترین متبادل کے طور پر پیش کیا۔ اجتماع عام کی کامیابی سے جماعت اسلامی نے ثابت کیا کہ یہ نہ صرف ایک قومی جماعت ہے بلکہ عالمی ویژن کی حامل ایک منظم نظریاتی تحریک ہے۔
پنجاب میں غیر آئینی بلدیاتی نظام کے ساتھ ساتھ لیبر فورس کے حالیہ سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ملک میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے، پاکستان میں بے روزگاری 7.1فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً 80 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہیں۔ موجودہ اعداد و شمار حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں مگر بدقسمتی سے آج وہی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی 24 کروڑ 43 لاکھ ہے جبکہ 53.8 فیصد غیر فعال آبادی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ معیشت کی بحالی کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں جس کا براہِ راست نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ شہباز شریف حکومت کی ناقص پالیسیوں اور غیر سنجیدگی نے نوجوانوں کو مایوسی اور غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔