راستہ سنسان تھا، اور خاموشی میں قدموں کی آواز زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ آدمی بھینس کے ساتھ چل رہا تھا، مگر اصل بوجھ جان کا تھا، مال کا نہیں۔ جنگل ہمیشہ انسان کو اس کی اصل حقیقت دکھاتا ہے۔وہاں قانون تخت پر نہیں بیٹھتا، وہاں صرف خوف اور طاقت بولتے ہیں۔ اسی خوف کی اوٹ میں ایک اجنبی سامنے آیا، ہاتھ میں لاٹھی، آنکھوں میں دھمکی، اور زبان پر حکم۔ یہ ملاقات اتفاق نہیں تھی، یہ تاریخ کا ایک چھوٹا سا منظر تھا جو بار بار دہرایا جاتا ہے۔جب طاقت بولتی ہے تو دلیل خاموش ہو جاتی ہے۔ لاٹھی اٹھانے والے کو نہ ثبوت درکار ہوتا ہے، نہ منطق۔ اس کے لیے سچ وہی ہوتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے۔ بھینس والا جانتا تھا کہ بحث جان لے سکتی ہے، اس لیے اس نے مال چھوڑ دیا۔ مگر تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ طاقت اکثر اپنی فتح کے نشے میں ایک لمحے کے لیے غافل ہو جاتی ہے۔ اسی لمحے میں توازن بدل جاتا ہے۔ لاٹھی ہاتھ بدلتی ہے، اور منظر الٹ جاتا ہے۔ یہ الٹ پھیر محض ایک چال نہیں، یہ اس بات کی علامت ہے کہ طاقت بذاتِ خود حق نہیں، بس ایک عارضی برتری ہے۔انسانی تاریخ اسی عارضی برتری کے قصوں سے بھری پڑی ہے۔ قبائل کے سردار، بادشاہوں کے دربار، سلطنتوں کی فوجیں۔سب نے اپنے اپنے دور میں یہی کہا کہ سچ وہی ہے جو ہم کہتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا شخص انصاف کا پیمانہ بن گیا، اور نیزے کی نوک پر فیصلہ لکھا جانے لگا۔ طاقت نے خود کو قانون کا لباس پہنایا، اور قانون نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اکثر فاتحین کے نام محفوظ ہیں، مظلوموں کے نہیں۔
زبانیں بدلتی رہیں، مگر مفہوم ایک رہا۔ کہیں طاقت کو حق کہا گیا، کہیں اختیار کو دلیل، کہیں قوت کو انصاف کا متبادل بنا دیا گیا۔ انسان نے صدیوں تک یہی سیکھا کہ جو غالب ہے، وہی درست ہے۔ اسی سوچ نے جنگوں کو جنم دیا، سلطنتوں کو وسعت دی، اور انسان کو انسان کے مقابل کھڑا کیا۔ زمین پر لکیر لاٹھی سے کھینچی گئی، اور کہا گیا: یہاں سے آگے تمہارا حق ختم ہوتا ہے۔مگر انسانی شعور ہمیشہ مکمل طور پر سرنگوں نہیں رہا۔ کہیں نہ کہیں ایک سوال اٹھتا رہا۔کیا طاقت واقعی حق ہے؟ کیا مضبوط بازو ہی درست فیصلے کی ضمانت ہے؟ یہ سوال ابتدا میں دھیمی سرگوشی تھا، پھر آہستہ آہستہ ایک آواز بنا، اور آخرکار ایک اعلان میں ڈھل گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔اسلام نے پہلی بار اس قدیم تصور کو کھلے عام چیلنج کیا۔ اس نے کہا کہ حق طاقت سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ طاقت کو حق کے تابع ہونا چاہیے۔ اس نے اعلان کیا کہ کمزور کی جان بھی اتنی ہی محترم ہے جتنی طاقتور کی۔ اس نے بتایا کہ بادشاہ اور غلام ایک ہی قانون کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہ بات محض مذہبی وعظ نہیں تھی، یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فکری بغاوت تھی۔یہاں پہلی بار لاٹھی کو قانون کے نیچے رکھا گیا، اور قوت کو اخلاق کے ترازو میں تولا گیا۔ یہاں پہلی بار یہ کہا گیا کہ ظلم، چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، حق نہیں بن سکتا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انسان کو بتایا گیا کہ سچ کی بنیاد طاقت نہیں، انصاف ہے۔ یہی وہ سبق تھا جس نے بعد میں آئین، عدالت اور انسانی حقوق جیسے تصورات کو جنم دیا۔
وقت گزرتا گیا۔ دنیا نے تجربے کیے، جنگیں دیکھیں، تباہیاں سہیں۔ آخرکار انسان نے سیکھا کہ طاقت کو قابو میں رکھے بغیر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ قوانین لکھے گئے، ریاستی ڈھانچے بنے، اور یہ طے کیا گیا کہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔ انصاف کو اداروں میں ڈھالا گیا، اور انسان نے پہلی بار یہ خواب دیکھا کہ شاید اب لاٹھی فیصلہ نہیں کرے گی۔مگر خواب ہمیشہ حقیقت نہیں بنتے۔ آج بھی دنیا کے کئی گوشوں میں طاقت کے سائے لمبے ہیں۔ کہیں دولت لاٹھی بن جاتی ہے، کہیں عہدہ، کہیں بندوق، اور کہیں خاموش نظام۔ کمزور اب بھی اپنا حق ثابت کرنے کے لیے زبان سے زیادہ قسمت پر انحصار کرتا ہے۔ تاریخ اگرچہ آگے بڑھی ہے، مگر اس کے پیچھے چلنے والے قدم اب بھی لرزتے ہیں۔یہی کشمکش انسان کی اصل آزمائش ہے۔ طاقت آسان راستہ ہے، انصاف مشکل۔ طاقت فوری نتیجہ دیتی ہے، انصاف وقت مانگتا ہے۔ طاقت ڈراتی ہے، انصاف قائل کرتا ہے۔ اسی لیے انسان بار بار پرانے راستے کی طرف لوٹ جاتا ہے، کیونکہ لاٹھی اٹھانا دلیل دینے سے آسان ہے۔مگر اگر تاریخ نے ہمیں کچھ سکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ طاقت کا راج ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ وہ سلطنتیں جو نیزوں پر کھڑی تھیں، مٹی میں مل گئیں۔ وہ نظام جو خوف پر قائم تھے، اپنے بوجھ سے ٹوٹ گئے۔ باقی وہی رہا جس کی بنیاد انصاف، اخلاق اور ذمہ داری پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حق کا سفر سست ضرور ہے، مگر اس کی منزل پائیدار ہوتی ہے۔
یہ قصہ محض ایک بھینس، ایک لاٹھی یا ایک چور کا نہیں۔ یہ انسان کے اندر جاری جنگ کا قصہ ہے۔طاقت اور سچ کی جنگ۔ ہر دور میں انسان کے پاس انتخاب ہوتا ہے:وہ لاٹھی اٹھائے یا قانون، خوف پھیلائے یا انصاف بانٹے۔ یہی انتخاب معاشروں کی تقدیر لکھتا ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ کس کے ہاتھ میں طاقت ہے، سوال یہ ہے کہ طاقت کس کے تابع ہے۔ اگر وہ انصاف کے تابع ہے تو نعمت ہے، اور اگر خود مختار ہے تو آفت۔ انسان نے یہ سبق بڑی قیمت پر سیکھا ہے، اور اب بھی سیکھ رہا ہے۔کیونکہ طاقت سے وقتی فتح تو حاصل کی جا سکتی ہےمگر انسانیت صرف انصاف سے زندہ رہتی ہے۔