• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: نیا ٹیکس ریلیف نافذ، تفصیل سامنے آگئی

برطانیہ میں کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے کیونکہ پلانٹ اور مشینری کے لیے 40 فیصد فرسٹ ایئر کیپیٹل الاؤنس یکم جنوری سے نافذ ہو گیا ہے۔

یہ اقدام برطانوی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ برطانیہ کو کاروبار کے لیے دنیا کے پرکشش ترین ممالک میں شامل کیا جائے۔

یہ پالیسی بجٹ 2025 میں چانسلر خزانہ ریچل ریوز نے متعارف کروائی تھی، جس کے تحت کاروباری ادارے پلانٹ اور مشینری میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی لاگت کا 40 فیصد اسی سال اپنی قابلِ ٹیکس آمدن سے منہا کر سکیں گے۔

اس ٹیکس ریلیف کا مقصد سرمایہ کاری کے ابتدائی اخراجات میں کمی اور کیش فلو کو بہتر بنا کر معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

نیا الاؤنس ٹیکس سہولیات کے دائرہ کار کو وسعت دیتا ہے، جس سے بالخصوص غیر شامل شدہ کاروباروں اور لیز پر حاصل کیے گئے اثاثوں کو فائدہ پہنچے گا، جو مکمل اخراجات کی رعایت (فل ایکسپینسنگ) کے اہل نہیں تھے۔

یہ اقدام کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے، جن میں زیادہ اثاثوں اور کاروباری اداروں کے لیے پیشگی ٹیکس رعایتوں کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

نئے ٹیکس ریلیف کے نفاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے چانسلر خزانہ ریچل ریوز نے کہا کہ سرمایہ کاری کرنے والے کاروباروں کو ٹیکس میں بچت فراہم کرنا اعتماد سازی اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہاکہ’ہم برطانیہ کے کیپیٹل الاؤنس نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں، جو پہلے ہی دنیا کے سب سے فراخدلانہ نظاموں میں شمار ہوتا ہے، اس کے ساتھ کارپوریشن ٹیکس کو محدود رکھنا اور کاروباروں کو وسعت دینے کے مواقع فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور ایسا ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ترقی کا ضامن ہو‘۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ مراعات، بشمول فل ایکسپینسنگ، کو برقرار رکھے گی، جس کے تحت کمپنیاں اہل پلانٹ اور مشینری پر کی گئی، سرمایہ کاری کا 100 فیصد پہلے ہی سال میں ٹیکس سے منہا کر سکتی ہیں، اس سہولت کے تحت ہر ایک پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر کاروباروں کو 25 پینس تک ٹیکس میں بچت ممکن ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پلانٹ اور مشینری کے لیے کیپیٹل الاؤنسز کے حوالے سے برطانیہ او ای سی ڈی ممالک میں سرفہرست ہے، جو اس کے مسابقتی کارپوریٹ ٹیکس نظام کا ثبوت ہے۔

یہ اقدام 2024ء کارپوریٹ ٹیکس روڈ میپ میں کیے گئے حکومتی وعدوں کے مطابق ہے، جس کے تحت موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران کارپوریشن ٹیکس کی شرح 25 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی، جو جی سیون ممالک میں کم ترین شرح ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مراعات بھی جاری رہیں گی۔

وزارتی بیانات کے مطابق، ان اصلاحات کا مقصد طویل المدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برطانیہ کو ملکی و غیر ملکی کاروباروں کے لیے ایک ممتاز سرمایہ کاری مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید