پاکستان کے سب سے بڑے میوزک شو ”پاکستان آئیڈل“ میں ایک سحر انگیز آواز نے سامعین کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا ہے، وہ آواز ہے ”طرب نفیس“ کی۔ اُن کی آواز میں جو مٹھاس، درد اور جادو ہے وہ سماعت کو ایک خوبصورت احساس میں ڈبو دیتی، دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔
بچپن سے ہی گائیکی کا شوق رکھنے والی طرب نے اپنی لگن، محنت اور مسلسل ریاض سے ”پاکستان آئیڈل“ کے اسٹیج تک رسائی حاصل کی اور ٹاپ 7-تک تو اپنی جگہ بنا نے میں کام یاب ہو گئی ہیں۔
”پاکستان آئیڈل“ اُن کیلئے صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک ایسا سفر ہے جس نے اُن کے اندر خوداعتمادی کو جنم دیا، اُن کے خوابوں کو نئی پرواز اور اُنہیں ایک نئی پہچان عطا کی۔ اُن کی آواز میں ایسی مٹھاس، ہے جو ہر دل کو مسحور کر دیتی ہے۔ اُن کے والد موسیقار اُستاد نفیس موسیقی کی دنیا کا بڑا نام ہے۔
والدہ ارم نفیس کو بھی موسیقی سے گہرا لگاؤ ہے، اُنہی کی رہنمائی میں طرب کے آواز کو جِلا ملی ۔ جب وہ گاتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم سا گیا اور سننے والا کسی اور ہی دنیا میں کھوگیا ہو، جہاں صرف سُر ہیں اور موسیقی کی مہک ہے۔ گزشتہ دنوں اس اُبھرتی ہوئی گلوکارہ سے گفتگو کا موقع ملا، اس گفتگو میں قارئین بھی شامل ہو جائیں۔
سوال: پہلے ہمارے قارئیں کو اپنی تعلیم، خاندان وغیرہ کے بارے میں بتائیں؟
جواب: چار بہنوں میں میرا تیسرانمبرہے۔ حال ہی میں اے لیولز مکمل کیا ہے۔بزنس اسٹڈیز اور اکنامکس خاص مضامین تھے، بزنس اسٹڈیزمیں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے اسکول میں ہمیشہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا، خاص طور پر موسیقی کے مقابلوں میں، دوران تعلیم ٹی وی کے کچھ پروگرامز میں بھی حصہ لیا۔
سوال: یعنی آپ بچپن سے ہی آواز کا جادو جگا رہی ہیں؟
جواب: جی ہاں، میرا فیملی بیک گراؤنڈ موسیقی سے ہے، اس لیے بچپن سے ہی موسیقی سنتی اور سیکھتی آئی ہوں۔ گھر میں ابو کو سازوں کے ساتھ دیکھا ،امی کو گنگناتے سنا۔
سوال: موسیقی کی دنیا میں آپ کو آگے بڑھانے میں والد کا کتنا عمل دخل ہے؟
جواب: والد موسیقی کی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ امی ارم نفیس ایک اسکول میں میوزک اور اردو ٹیچر تھیں، انہوں نے ہی مجھے موسیقی کے اسرار و رموز سکھائے۔ والدہ ہی میری اُستاد ہیں۔
وہ ہم بہنوں کو گانے لکھ کر دیتی تھیں، جنہیں ہم یاد کرکے انہیں سناتے تھے، اس طرح ہماری پریکٹس ہوتی رہی، والد چوں کہ مصروف رہتے تھے، اُن کا گھر سے باہر آنا جانا زیادہ تھا، کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا اگر والدہ سے کوئی چیز سمجھنے میں مشکل ہوتی تو پھر والد سے رہنمائی لیتے تھے۔ ہم سب بہنیں گائیکی کی شوقین ہیں۔
سوال: اگر آپ تمام بہنوں میں گانوں کا مقابلہ کرایا جائے تو کون جیتے گا؟
جواب: (ہنستے ہوئے) پھر کوئی بھی نہیں جیتے گا۔ ہم سب بہنیں ایک ہی ماحول میں ایک ساتھ پلے بڑھے ہیں، اس لئے کسی ایک کا جیتنا تو مشکل ہے ،ہم سب برابر ہی نمبر لیں گے۔
سوال: آواز کے نکھارکےلئے کیا کرتی ہیں؟
جواب: کوئی خاص نسخہ نہیں، ٹھنڈی اور کھٹی چیزوں سے پرہیز کرتی ہوں، البتہ پرفارمنس سے پہلے ایک کپ چائے پیتی ہوں تاکہ آواز بہتر ہو جائے ، یقین کیجئے کہ چائے پینے کے بعد آواز مزید نکھر جاتی ہے۔
سوال: ”پاکستان آئیڈل“ میں آنے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: یہ خیال مجھے نہیں آیا تھا، بلکہ میری بڑی بہن سِمل کو آیا،جب اُسےپتا چلا کہ ”پاکستان آئیڈل“ کے آڈیشنز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے آڈیشن دینے کا کہا، پھر امی نے بھی کہا، اس وقت میرا، اے لیولز کا نتیجہ آیا تھا اور میں یونیورسٹی میں داخلے کے بارے میں سوچ رہی تھی، لیکن پھر میں نے اس موقع کو اہم سمجھا اور آڈیشن دے دیا۔
سوال: اب تک کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: بہت اچھا رہا۔ اس شو سے میرا اعتماد بہت زیادہ بڑھا ہے۔میری بھر پورکوشش ہے کہ میں فائنل تک پہنچوں لیکن جیت کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی۔
سوال: اب تو آپ کو لوگ پہچاننے لگے ہیں، کیسا محسوس کرتی ہیں؟
جواب: مجھے تو یقین ہی نہیں آتا۔ لوگ سیلفی لیتے ہیں تو اچھا بھی لگتا ہے اور عجیب بھی، کیونکہ میں ابھی اس کیلئے ”یوز ٹو“ نہیں ہوں بہرحال بہت خوشی ہوتی ہے جب لوگ مجھے پہچان کر میری گائیکی کی تعریف کرتے اور کامیابی کی دُعائیں دیتے ہیں۔
کلاس فیلوز مجھے ٹیلی ویژن پر دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہوئے، اُنہوں نے مجھے بہت زیادہ سپورٹ بھی کیا، میری ٹیچرز نے بھی تعریف کی، سب ہی نے میری کامیابی کیلئے دُعا کی۔
سوال: آئی ایس پی آر کے گانے میں کیسے آئیں؟
جواب: متعلقہ ادارے نے میرے والد سے رابطہ کیا، پھر مجھ سے بات ہوئی۔ یہ میرا پہلا میوزک ویڈیو تھا، جب گانےکی ریکارڈنگ ہوئی تو بہت زیادہ سامعین تھے، ایسالگ رہا تھا جیسےکنسرٹ ہورہاہے۔ اس میوزک ویڈیو کا تجربہ بھی میرے لئے ناقابل فراموش ہے۔
سوال: مستقبل کا کیا پروگرام ہے، موسیقی کا شعبہ اپنائیں گی یا پھر بزنس کریں گی؟
جواب: میں موسیقی اور بزنس اسٹڈیز دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہوں، لیکن اگر کسی ایک کاانتخاب کرنا پڑا تو موسیقی کو ترجیح دوں گی کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور جنون بھی۔
سوال: ”پاکستان آئیڈل“ میں نمبر ون کا اعزاز حاصل کر لیا تو کیا کریں گی؟
جواب: اس بارے میں تو میں نے ابھی تک سوچا نہیں۔ لیکن اتنا معلوم ہے کہ جیت کی اپنی ہی خوشی ہوتی ہے۔ شاید ”پاکستان آئیڈل“ جیتنے کے بعد میرے ساتھ ساتھ گھر والے، کلاس فیلوز، رشتہ دار سب بہت خوش ہوں گے۔
سوال: اپنے علاوہ کس کی جیت دیکھ رہی ہیں؟۔
جواب: دراصل ہم سب ایک دوسرے سے بہت زیادہ کلوز ہیں، تمام اُمیدواروں میں سے کوئی بھی ”پاکستان آئیڈل“ کا تاج اپنے نام کرے گا تو ہم سب ہی خوش ہوں گے۔
سوال: پاکستان کے کس گلوکار یا گلوکارہ سے متاثر ہیں؟
جواب: آج کل کے گلوکاروں میں عاصم اظہر بہت پسند ہیں، میں اُن کی بہت بڑی پرستار ہوں، ماضی کو دیکھوں تو میڈم نور جہاں کی آواز کی دیوانی ہوں۔ یہ بتا دوں پاکستان آئیڈل کے ایک پروگرام میں عاصم اظہر نے شرکت کی تھی، وہ جب اسٹیج پر آئے تو ہمارے لئے بڑا سرپرائز تھا، اس دِن میری پرفارمنس اچھی نہیں ہوئی تھی، اگر ہو جاتی تو وہ شو میرے لئے یاد گار بن جاتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
سوال: گانوں کو کاپی کرنا آسان ہے یا اپنا گانا بنانا زیادہ آسان ہے؟
جواب: مجھے لگتا ہے کہ دوسرے گانوں کو کاپی کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے، کیونکہ تمام لیئرکس، موسیقی سب بنی بنائی ہوتی ہے، بس ہمیں اُس میں اپنی تھوڑی سی ورائٹی شامل کرنا پڑتی ہے۔
سوال: کیا آپ خود بھی گانے لکھتی اور کمپوز کرتی ہیں؟
جواب: نہیں ابھی تک تو میں نے ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا۔
سوال: ”پاکستان آئیڈل“ میں کسی مرحلے پر مایوس ہوئیں؟
جواب: ایک پرفارمنس کے بعد لگا کہ شاید آگے نہ بڑھ سکوں، لیکن شکر ہے کہ میں اس مرحلے سے آگے بڑھ گئی۔ وہ ہماری ”بسنت“ کی پرفامنس تھی اس وقت بہت گھبرا رہی تھی۔ اس کے علاوہ جب بھی باٹم 3 میں نام سامنے آتے تو دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں۔ الیمینیشن کے وقت بھی پریشانی عروج پر ہوتی تھی۔
سوال: پاکستان آئیڈل میں ججز کا رویہ کیسا ہے، کچھ سمجھاتے بتاتے بھی ہیں؟
جواب: جی بلکل بتاتے ہیں ، تمام ججز بہت اچھے ہیں۔ راحت فتح علی خان تو ہمیشہ ہی پرفارمنس کے بعد گلوکاروں کو کوئی نہ کوئی ٹپ دے کر جاتے اور بتاتے کہ اس گانے میں یہ کمی تھی، ایسے سُروں کو اُٹھانا تھا، آئندہ ایسے کرنا۔ وہ بہت حوصلہ بڑھاتے اور رہنمائی کرتے ہیں۔ تمام ججزبھی اچھی گائیکی کو خوب سراہتے اور کہیں کوئی کمی بیشی رہ جائے تو رہنمائی کرتے ہیں۔
نفیس خان: صاحب اگر طرب پاکستان آئیڈل جیت گئیں تو وہ کیا کریں گی؟
اس حوالے سے فی الوقت میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن کئی برس پرانی بات آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گاطرب نے 23مارچ کو ٹیلی ویژن پر ایک مقابلہ جیتا، اِسے ایک لاکھ روپےکیش انعام دیا گیا تھا۔
انعام لے کر جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تو گھر کی دیواروں کو گلے سے لگا تے ہوئے خوشی سے کہنا شروع کردیا ،اب میں ایک نیا مکان لوں گی، پھر آگے بڑھی اور فریج کو گلے سے لگا کر گھر والوں سے کہا، اب میں ایک اچھا اور بڑا سا فریج خریدوں گی۔
اس کی خوشی دیکھ کر سب قہقہے لگانے لگے کہ صرف ایک لاکھ روپے جیت کر یہ بچی سب چیزیں خریدنے کی تمنا کرنے لگی ہے۔ آج بھی جب میں بیٹی کی فتح کی خوشی کو محسوس کرتا ہوں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور ماضی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔