محمد مبین منصوری
کہتے ہیں کہ قومیں اپنے بزرگوں کے سائے اور نوجوانوں کی توانائی سے بنتی ہیں، مگر ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم نے اپنے سب سے بڑے اثاثے نوجوانوں کو کبھی وہ مقام دیا ہی نہیں جس کے وہ مستحق تھے۔ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، مگر اس طاقت کو ہم نے کبھی قوم کی سمت درست کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔
آج پاکستان کا نوجوان ایک ایسے عہد میں سانس لے رہا ہے جہاں خواب تو بہت ہیں، مگر حقیقت کی راہوں میں کانٹے بھی بے شمار ہیں۔ اس کے دل میں روشنی ہے، اُمید ہے، اُمنگ ہےلیکن ماحول بے یقینی سے بھرا ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر نوجوان کے چہرے پر لکھا ہو۔
ہم نے منزلوں کی خواہش میں راہیں تو بدل ڈالیں، مگر راستے کے کانٹوں نے جذبے بھی آزما ڈالے۔
یونیورسٹیوں سے ہر سال لاکھوں نوجوان گریجویشن مکمل کر کے نکلتے ہیں۔ ہاتھ میں ڈگری ہوتی ہے، لیکن دل میں سوال، ’’اس ڈگری کا استعمال کہاں ہو گا؟‘‘
اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہ ان نوجوانوں کو اپنے (Job Market) بازار کار اندر جذب کرنے کی گنجائش ہی نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ افراد جن کی صلاحیتیں کسی بھی ملک کی ترقی کا پہلا قدم ہو سکتی تھیں، وہی نوجوان فیصلہ سازی کے چکر میں کسی نہ کسی موڑ پر ہار ماننے لگتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارش، تعلقات اور غیر منصفانہ مقابلے نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو نوجوان محنت سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، وہ خود کو نظام سے ٹکراتا ہوا پاتے ہیں۔ جن کے خواب بڑے ہیں، وہ بیرون ملک جانے کو ہی اپنے مسقتبل کی واحد ضمانت سمجھتے ہیں، یوں رفتہ رفتہ ملک کے بہترین دماغ بہترین ہاتھ، بہترین ذہانت کسی اور سر زمین کا حصہ بن جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر نوجوان اتنے مایوس کیوں ہوئے؟ بیروز گاری اپنے عروج پر ہے، مہنگائی نے خوابوں کی قیمت بڑھا دی ہے اور سیاسی عدم استحکام نے مستقبل کو دھندلا کر دیا ہے۔ کالج، یونیورسٹی کی چار سال کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی جب منزل دھند میں لپٹی نظر آئے تو اُمید خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
لیکن اس پوری تصویر میں ایک روشن کرن بھی ہےکہ، تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان کے بیشتر نوجوان باہمت ہیں، ذہین ہیں اور جدید دنیا کی رفتار کو سمجھتے بھی ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی جانتے اور سیکھنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔
اُن میں دنیا سے مقابلہ کرنے کا جذبہ بھی ہے۔ لیکن اُن اس وقت سب سے بڑی ضرورت صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ،ایک ایسا ماحول جہاں ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آ سکیں۔ اس لیئے وقت کا تقاضہ ہے، ریاست کو چاہیے کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو صرف وعدوں سے نہ بہلائے بلکہ عملی مواقع فراہم کرے۔ نجی شعبہ میں تربیتی پروگرامز، انٹرن شپس اور اسکلز ڈویلپمنٹ کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔
تعلیمی اداروں کو بھی نصاب کو عملی دنیا کے مطابق بنانا ہو گا،ساتھ معاشرہ بھی نوجوانوں کی تنقید کے بجائے رہنمائی کریں، کیونکہ نوجوان صرف مستقبل نہیں، موجودہ وقت کا سچ بھی ہیں۔ انہیں اگر سمت دی جائے تو یہی نسل پاکستان کو اس مقام پر لے جا سکتی ہے جہاں اسے دنیا کی کامیاب اقوام میں شمار کیا جائے۔
بقول ایک شاعر، نوجوان کی امید اور جدوجہد کو یوں بیان کرتا ہے۔
چراغ ہو کہ ستارہ، کوئی تو روشنی ہو گی
سفر میں چل پڑیں ہم، تو منزلیں بھی ملیں گی
اگر اس روشنی کو ہم بجھنے نہ دیں، اگر نوجوانوں کو راستہ مل جائے تو یقین کیجیے یہ صرف ملک ہی نہیں دنیا کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آزما کر تو دیکھیں۔