• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میم۔ میم

آج کل ہم سب ایک ایسی تیز رفتار دنیا میں جی رہے ہیں۔ جہاں ہر چیز بدل رہی ہے ٹیکنالوجی، سوچ، رویے اور ضرورتیں۔ لیکن ایک چیز جو اب تک زیادہ کیا کم بھی نہیں بدلی، وہ ہے ہمارا معاشرتی رویہ۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں، ہمارا معاشرہ ترقی کرے اور نظام ٹھیک ہو، مگر بہت کم لوگ اپنی ذات سے تبدیلی شروع کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے، یا انصاف کا نظام کمزور ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم خود روزمرہ کی زندگی میں کتنی بار ایسے کام کرتے ہیں جو ان مسائل کو بڑھاتے ہیں؟ مثال کے طور پر، ہم ٹریفک سگنل توڑ دیتے ہیں، لائن میں کھڑے ہونے کے بجائے شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں، یا کسی غلطی کا ذمہ دار خود کو سمجھنے کے بجائے دوسروں کو گردانتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ معاشرہ صرف حکومتیں یا ادارے نہیں بناتے، یہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہم اپنی عادتیں درست کر لیں، چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنا شروع کر دیں، تو بڑی تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جائے گی۔ جیسے ایک گھر میں اگر ہر فرد ذمہ داری نبھائے تو پورا خاندان خوشحال ہو جاتا ہے، اسی طرح ملک بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

تبدیلی کا پہلا قدم ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے۔ ایک درخت لگانا، صفائی کا خیال رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، بزرگوں کا احترام کرنا، اور جھوٹ بولنا چھوڑ دینا، گرچہ یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔ قومیں تعلیم، نظم و ضبط اور اخلاق کی بنیاد پر بنتی ہیں، اور یہی چیزیں دوسروں کو بھی اچھے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شکایتیں کم کریں اور عملی قدم زیادہ اٹھائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان ملے، تو آج ہی سے اپنے کردار، اپنی سوچ اور اپنی ذمہ داریوں میں بہتری لانے کی سعی کریں۔

یہ بات یاد رکھیں: دنیاجب ہی بدلتی ہےجب انسان تبدیلی کی ہمت رکھتا ہے،کہا جاتا ہے کہ نوجوان تبدیلی لا سکتے ہیں لیکن ان کی رہنمائی کون کرے گا، سہولتیں کون فراہم کرے گا، مواقع کون دے گا؟ اب آگے تو نوجوان ہی بڈھیں گے، اُنہیں ہمت دلانا ہم سب کی زمے داری ہے۔