2025 میں پاکستان میں بچوں کا ادب ایک نئے ارتقائی مرحلے سے گزرا۔ ڈیجیٹل میڈیا، تعلیمی نصاب میں تبدیلی، غیر سرکاری اداروں کی سرگرمیوں اور نئی نسل کے موضوعات نے بچوں کے ادب کو زیادہ جدید، رنگا رنگ اور سیکھنے سے بھرپور بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کتابوں کی اشاعت میں اضافہ، اردو کے ساتھ علاقائی زبانوں کی نمائندگی، اور نئے مصنفین کی شمولیت 2025 کا نمایاں پہلو رہا۔ 2025 میں پاکستان میں بچوں کے لیے تقریباً 350–400 نئی کتابیں شائع ہوئیں جن میں کہانیاں، تصویری کتابیں، سائنسی معلومات، اخلاقی تربیت اور سرگرمیوں سے متعلق کتب شامل تھیں۔
بڑے اشاعتی اداروں نے رنگین و تصویری کہانیوں کی طرف زیادہ توجہ دی تاکہ موبائل استعمال کرنے والے بچوں کو دوبارہ کتابوں کی طرف لایا جا سکے۔ ان کتابوں میں نذیر انبالوی کی کتاب’’ پھر کیا ہوا، کاوش صدیقی کی پانچ کتابیں اپیا، آریان، مائی جینا، شابو، ذاطوش، تکون، اطہر اقبال کی کتاب ایک کہاوت ایک کہانی، حنیف سحر کی کتاب فرشتہ، عثمان جامعی کی کتاب میں جادو کی نگری ہوں، نصرت خان کی تحریر کردہ کتاب میٹھے پانی کے چشمے، خالد دانش کی ہم زاد، ناجیہ شعیب محمد کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ‘‘TheRainbow Feathers و دیگر شامل ہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کی کہانیوں، نظموں اور آڈیو بکس کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔
یوٹیوب پر بچوں کے ادب پر مبنی Animated Stories نے روایتی مطالعے کے مقابلے میں زیادہ مقبولیت حاصل کی۔کئی اداروں نے Read-Along Videos تیار کیں، جن سے کم عمر بچوں میں پڑھنے کی رفتار بہتر ہوئی۔ ماہ نامہ بچوں کی دنیا اور بچوں کا باغ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تقریب تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد کیا، مقررین میں مصطفیٰ ہاشمی، علی حسن ساجد، خالد دانش، ابن شہباز خان، ناجیہ شعیب محمداور دیگر شامل تھے، یہ اس حوالے سے یادگار تقریب تھی کہ اس میں نئے لکھنے والوں کو ان کی کہانیوں پر انعامات دئے گئے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی، بچوں کے لیے “ کتابوں کی نمائشوں ” کا انعقاد کراچی، لاہور، ملتان اوراسلام آباد میں کیا گیا۔
25سے 27نومبر تک لوک ورثہ شکر پڑیاں اسلام آباد میں تین روزہ کتاب میلہ منعقد ہوا، جس میں بچوں کی بڑی تعداد نے نہ صرف شرکت کی بلکہ کتابیں بھی خریدیں۔ 18دسمبر سے 22 دسمبر 2025تک کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ورلڈ بک فیئر منعقد ہوا، جس میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے دورہ کیا، ان میں دو لاکھ سے زائد بچے بھی شامل تھے، اس کتاب میلے میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی کتب فروخت ہوئیں۔ اس موقع پر اطہر اقبال کی کتاب ایک کہاوت ایک کہانی اور دیگر دو کتابوں کی تقریب پذیرائی بھی منعقد ہوئی۔
اس کے علاوہ 2025 میں کم قیمت کتابوں کی سیریز’’رنگین کتابیں” شائع کی گئیں، جو اس بک فیئر میں بڑی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ علامہ اقبال کی نظموں کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق مصوری کے ساتھ پیش کیا گیا جو ورلڈ بک فیئر میں فروخت کے لیئے رکھی گئی تھیں۔
کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائیبریریز سال گزشتہ کا آخری فیسٹیول تھا جو دسمبر کے آخری ہفتے میں منعقد ہوا۔ اس فیسٹیول میں بھی بچوں کے ادب کے حوالے سے کتب تھیں، اس موقع پر حنیف سحر کی کتاب فرشتہ کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی جس سے، مہناز رحمان، شہناز احد، خالد محمود، شمع زیدی، محبوب الہی، حنیف سحر نے خطاب کیا۔
بچوں کے کم و بیش 35 سے زائد رسالے اپنی اشاعت برقرار رکھ سکے یا اس سال دوبارہ اپنی اشاعت کا آغاز کیا، ان رسائل میں، کراچی سے ہمدرد نونہال، ماہ نامہ ساتھی، ذوق شوق، جنگل منگل، بچوں کا اسلام، انوکھی کہانیاں، ایڈونچر ٹائمز، بچوں کا قلندر شعور اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والا رسالہ وی شائن، لاہور سے ماہ نامہ تعلیم و تربیت، پھول، جگنو، بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ، بچوں کا پرستان، بعقہ نور، پیغام اقبال ڈائجسٹ، پنجابی زبان میں بچوں کا واحد رسالہ ماہ نامہ پکھیرو، ملتان سے کرن کرن روشنی، گلبل، اسلام آباد سے ادبیات اطفال پاکستان شامل ہیں ان رسائل کے علاوہ جگمگ تارے، مسلمان بچے، پیغام ڈائجسٹ، بزم قرآن، ھلال برائے اطفال، کہکشاں، کونپلیں، قلم کہانیاں، دو ماہی مہک، سہ ماہی چاند سورج، اور سہ ماہی باغیچہ اطفال نے بھی اپنی اشاعت کو جاری رکھا اور مختلف موضوعات وشخصیات پر خصوصی نمبرز بھی شائع کئے، اسی طرح اخبارات نے بھی سال بھر بچوں کے صفحات شائع کئے ان اخبارات میں روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ ڈان سر فہرست ہیں۔
بچوں کے لیے لکھے گئے ادب میں ماحولیات، ڈیجیٹل زندگی، سڑکوں کا تحفظ، صحت و صفائی جیسے موضوعات کو بھی اس سال اہمیت حاصل رہی، نئی تصویری کہانیوں کی سیریز "Picture Stories Pakistan" لانچ کی گئی۔ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ادبی اداروں، صوبائی کلچرل محکموں نے مقامی لوک کہانیوں کو جدید انداز میں ترمیم کرکے بچوں کے لیے دوبارہ شائع کیا۔
بلوچی، سندھی، پشتو، سرائیکی اور براہوی زبانوں میں نئی کہانیوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا۔ 2025 کے نمایاں موضوعات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، پاکستان میں بارشوں، سردی گرمی اور ماحولیاتی مسائل کے بڑھنے کے باعث بچوں کے ادب میں ماحولیاتی آگاہی ایک موضوع بن رہا۔
میرا سبز پاکستان، درخت دوست ہیں، پانی کا سفر کے نام سے کتابیں شائع ہوئیں۔ سائنسی و تکنیکی موضوعات جیسے خلاء، روبوٹکس، کوڈنگ، مصنوعی ذہانت اور سائنس پر مبنی کہانیوں نے 2025 میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، اخلاقی تربیت اور معاشرتی تعلیم جیسے روایتی موضوعات والدین کی عزت، ایمانداری، دوستی، ہم آہنگی، اورسچائی 2025 میں سب سے زیادہ چھپنے والے موضوعات رہے، جنھیں جدید تقاضوں کے مطابق تحریر کیا گیا۔
پاکستان کی تاریخ اور ہیروز جیسے قائداعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح، مسلح افواج کے بہادر سپاہیوں، سائنسدانوں اور سماجی کارکنوں پر نئے سرے سے بچوں کے لیے کتابیں شائع ہوئیں۔ 2025 میں "پاکستان کے ننھے ہیروز" جیسی کتابیں بچوں میں بہت مقبول رہیں۔ نوجوان لکھاریوں کی آمد نے بچوں کے ادب میں تخلیقی تنوع پیدا کیا۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے شہرت پانے والے لکھاریوں نے بچوں کے ادب میں قدم رکھا۔
انیس احمد، ثمینہ قدیر، فاطمہ رازیہ، سمیع اللہ قریشی، اور دیگر نئے لکھنے والے مصنفین 2025 میں فعال رہے۔ بچوں کی نظمیں لکھنے والے شعراء کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، اطفال ادب کی کتابوں کو مقابلہ جات میں شامل کرنے کے لیے گزشتہ سالوں کی طرح سال 2025 میں بھی پانچ مختلف اداروں نے اعلا نات کئے، ان اداروں میں وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان نے قومی مقابلہ سیرت، ونعت مقالات میں بچوں کے لیے تحریر کردہ سیرت النبی پر تین انعامات، یو بی ایل لیڑیری ایوارڈ کے لئیے بچوں کے لئیے لکھی گئی کتا بوں پر ایوارڈز، اکیڈمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام قومی ادبی انعامات، جمیل جالبی ادبی ایوارڈز کے سلسلے میں جمیل جالبی ایوارڈ برائے بچوں کا ادب، اکیڈمی ادبیات اطفال اور ماہ نامہ پھول کے زیر اہتمام تسنیم جعفری ایوارڈ شامل ہیں، بعض مقابلہ جات کے نتائج آچکے ہیں جبکہ بعض کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں، دسویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر تسنیم جعفری ایوارڈ لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں تقسیم کئے گئے، کراچی کے دو قلم کاروں گہر اعظمی اور علی حسن ساجد کی کتابوں کو بھی ایوارڈز دئیے گئے، اسکولوں میں بچوں کے ادب کی حیثیت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا، بس روایتی انداز میں ہی سال گزر گیا۔
اس سال وفاقی و صوبائی ٹیکسٹ بورڈز نے نئے نصاب میں بچوں کے لیے کہانیوں اور تخلیقی تحریری مشقوں کی تعداد بڑھا دی، پرائمری سطح پر "اردو ریڈر" سیریز کا جدید ایڈیشن جاری ہوا۔"مہینے کی کتاب" پروگرام مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں چلایا گیا جس سے بچوں کی پڑھنے کی عادت نسبتاً میں اضافہ ہوا۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس میں 26 دسمبر2025 کو بچوں کے ادب پر شیشن منعقد ہوا، اس سیشن کی میزبانی عبدالرحمن مومن نے کی جبکہ مقررین میں ابن آس، عثمان جامعی، حنیف سحر، منیر احمد راشد، فاروق احمد شامل تھے۔
اس موقع پر عثمان جامعی کی کتاب میں جادو نگری ہوں کی رونمائی بھی منعقد ہوئی، 23 نومبر کو بچوں کے ادب کے حوالے سے ملتان میں ایک روزہ آٹھویں قومی کانفرنس برائے اطفال منعقد ہوئی، جس میں کراچی سمیت ملک کے دوسرے شہروں سے بچوں کے ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی، بچوں کے ادب کے مسائل اور چیلنجز (2025)کاغذ اور پرنٹنگ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے بچوں کی کتابیں مہنگی ہوئیں، جس سے عام خاندان کی پہنچ مشکل ہو گئی، پڑھنے کی عادت میں کمی واقع ہوئی موبائل فون، ٹیب اور ٹیلی وژن اسکرین ٹائم بڑھنے کی وجہ سے بچوں کی کتابوں میں دلچسپی کو متاثر کیا، تحقیقی بنیادوں پر بھی بچوں کے ادب میں کمی ہوئی، ویسے بھی پاکستان میں بچوں کے ادب پر تحقیق پہلے ہی انتہائی محدود ہے، جس کے باعث پالیسی سازی بھی متاثر ہوتی ہے، علاقائی زبانوں کی کم نمائندگی ہونے کی وجہ سے بھی بچوں کے ادب کو فروغ نہیں مل رہا ہے گوکہ بہتری ضرور آئی مگر ابھی بھی اردو کے مقابلے میں علاقائی زبانوں میں بچوں کا ادب کم ہے۔
2025 کی نمایاں کامیابیاں:
پہلا ’’پاکستان چلڈرن لٹریچر ایوارڈ‘‘ منعقد ہوا جس نے نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی پاکستانی بچوں کی کتابیں خلیجی ممالک کے اسکولوں میں متعارف کروائی گئیں۔ بچوں کے ادب پر پہلی بار آن لائن ٹریننگ ورکشاپس کا سلسلہ شروع ہوا۔
مستقبل کی سمت یعنی 2026 میں ڈیجیٹل کہانیوں، آڈیو بکس، اور انٹرایکٹو ایپس کی وجہ سے کتب کا رجحان مزید بڑھے گا۔ بچوں کی تخلیقی تحریر کو فروغ دینے کے لیے حکومتی سطح پر نئے منصوبے متوقع ہیں۔ علاقائی زبانوں کی کتابیں اور لوک کہانیوں کی جدید شکلیں مزید سامنے آئیں گی، بچوں کے لیے سائنس فکشن اور ایڈونچر ادب زیادہ مقبول ہوگا سال۔
2025 بچوں کے ادب کے لیے پاکستان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ اس سال نہ صرف کتابوں کی تعداد بڑھی بلکہ موضوعات میں وسعت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ترقی، اداروں کی سرگرمیوں اور نئی نسل کی شمولیت نے بچوں کے ادب کو ایک نئے دور میں داخل کیا ہے، چیلنجز موجود ہیں مگر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ بچوں کے ادب کا مستقبل روشن دکھائی دے رہا ہے۔