ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر امریکا پہلے کی طرح دوبارہ ملٹری آپشن کی کوشش کرتا ہے تو ہم تیار ہیں۔
عرب میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ واشنگٹن سنجیدہ اور منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکی جنگی طیاروں کی قطر کے العدید ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات قطر کے العديد بیس سے کئی امریکی جنگی طیاروں نے پروازیں کیں۔ کے سی 135 ایئر ریفیولنگ ٹینکر اور بی 52 اسٹریٹیجک بمبار طیاروں نے پروازیں کیں۔
علاوہ امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور یہ تشدد میں بدل سکتے ہیں۔
سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو۔