• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ: دورانِ زچگی اموات میں تشویشناک اضافہ، این ایچ ایس کا ہنگامی اصلاحات کا اعلان

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

انگلینڈ میں زچگی کے دوران اور بعد ازاں خواتین کی اموات میں نمایاں اضافے کے بعد نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے ملک بھر کے زچگی مراکز کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کا اعلان کر دیا۔ 

ادارے کے مطابق تمام مراکز کو طبی معیارات میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022ء سے 2024ء کے درمیان 252 خواتین زچگی کے دوران یا بعد میں انتقال کر گئیں جو 2009ء سے 2011ء کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

موجودہ شرح ہر 1 لاکھ زچگی میں 12.8 اموات تک پہنچ چکی ہے۔

این ایچ ایس انگلینڈ کی چیف مڈوائف کیٹ برنٹ ورتھ نے صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ خدمات کا معیار ہرگز تسلی بخش نہیں اور فوری بہتری ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زچگی کے دوران کسی بھی جان کا ضیاع ایک بڑا سانحہ ہے جسے روکنا ادارے کی ذمے داری ہے۔

دوسری جانب میٹرنٹی سیفٹی الائنس نے این ایچ ایس کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صورتِ حال کی سنگینی کو کم ظاہر کیا جا رہا ہے اور مؤثر و فوری اقدامات کا فقدان ہے۔

اعلان کردہ اصلاحات کے تحت آئندہ سال مارچ تک تمام حاملہ خواتین کے لیے خون کے لوتھڑے بننے کے خطرے (Venous Thromboembolism) کی ابتدائی جانچ لازمی ہو گی جو اس وقت اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ 

زیادہ خطرے کی حامل خواتین کو 72 گھنٹوں کے اندر خون پتلا کرنے والی ادویات فراہم کی جائیں گی۔

مزید اقدامات میں 2027ء تک مرگی میں مبتلا حاملہ خواتین کے لیے خصوصی ٹیموں تک رسائی، ذہنی صحت کے باقاعدہ معائنے اور زچگی کے بعد شدید خون بہنے کی صورت میں ماہر ڈاکٹروں کی فوری دستیابی شامل ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق ان اصلاحات سے خون کے لوتھڑوں، فالج، دل کے امراض، خودکشی، انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں سے ہونے والی اموات میں کمی لانے میں مدد ملے گی جو مجموعی طور پر 52 فیصد اموات کی وجہ بنتی ہیں۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2022ء سے 2024ء کے دوران زچگی کے 6 ہفتوں سے ایک سال کے اندر ہونے والی اموات میں خودکشی سب سے بڑی وجہ رہی جو کُل اموات کا 33 فیصد ہے۔

این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ناصرف اموات میں کمی لانا ہے بلکہ زچگی کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرنا ہے جو حالیہ برسوں میں متاثر ہوا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید