• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آئی کسی کی دشمن نہیں ایک ٹیکنالوجی ہے، طاہر القادری

فوٹو: رپورٹر
فوٹو: رپورٹر

علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کسی کی دشمن نہیں بلکہ یہ ایک ٹیکنالوجی ہے، انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔

سکینڈنیویا اور ناروے کی سب سے بڑی مسجد جماعت اہل سنت ناروے میں شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی آمد ہوئی۔

اس موقع پر جماعت اہل سنت ناروے کے امام سید نعمت علی شاہ اور جماعت اہل سنت ناروے کے صدر چوہدری زاہد اسلم مہمند چک اور مسجد کے عہدے داران نے ڈاکٹر طاہر القادری کا پرتباک استقبال کیا۔

جماعت اہل سنت ناروے میں ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری نے نماز جمعہ کی ادائیگی کی اور اس کے بعد خطاب بھی کیا۔

علامہ طاہر القادری نے کہا کہ نوجوان نسل کے لیے اپنے گھر صرف رہائش گاہ بن گئے ہیں تربیت گاہ نہیں رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ والدین نوجوان نسل کے لیے دین کو بچوں کی فطرت بنائیں اوپر سے نازل نہ کریں، دین ان کے اندر سے ابھرے۔

جماعت اہل سنت کے امام سید نعمت علی شاہ اور صدر چوہدری زاہد اسلم نے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو جماعت اہل سنت ناروے کا دورہ کرواتے ہوئے میٹنگ روم دینی لائبریری روم دفتر اور مختلف حصے دکھائے۔

اس موقع پر جنگ نیوز سے گفتگو میں ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) کسی کی دشمن نہیں بلکہ یہ ایک ٹیکنالوجی ہے، انحصار اس بات پر ہے کہ اپ اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ کا ڈیجیٹل میڈیا ہو، ٹیلی ویژن ہو، سوشل میڈیا ہو ،نہ کوئی دوست ہوتا ہے، نہ دشمن ہوتا ہے اگر آپ اچھا استعمال کریں تو دوست ہے ،اگر آپ برا استعمال کریں تو دشمن ہے، آپ کی چوائس ہے کہ آپ اس کے ساتھ کیا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

علامہ محمد طاہر القادری نے کہاکہ آج کی نوجوان نسل کے لیے گھر ان کے لیے آرام گاہ بن گئے ہیں، تربیت گاہ نہیں رہے، گھر ہوسٹل کی طرح ہو گئے ہیں اور والدین کا رول ہاسٹل وارڈن کی طرح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی رہائش جسمانی ضروریات کی کفالت ہو رہی ہے مگر ان کی دینی فکری ذہنی اخلاقی نشو نما گھر میں نہیں ہو رہی، نتیجتاً جب گھر میں تربیت نہیں ہوتی تو بچوں کی تربیت 3 جگہوں سے ہو رہی ہوتی ہے؛ اسکول، سوسائٹی اور سوشل میڈیا۔ اب اسکول، سوسائٹی، سوشل میڈیا میں پوزیٹیو پہلو بھی ہیں اور اگر کنٹرول نہ ہو تو نیگٹو پہلو بھی ہیں۔

علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ ان حالات میں والدین کو چاہیے کہ گھروں کو صرف رہائش گاہ تک نہ رکھیں بلکہ بچوں کی تربیت گاہ بنائیں اور بچوں کو مسجد اور دین کے ساتھ جوڑیں۔

انہوں نے پاکستان کے آئندہ دورے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ میرا زیادہ فوکس کینیڈا میں ہے اور یہاں میں تحقیق پر عملی کام کر رہا ہوں، جو اگلی صدیوں تک کام آئے گا اور وہ اب اختتام کے قریب ہے۔

علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں پہلے اس کام کو مکمل کر لوں، لوگ پھر ملاقاتوں میں زیادہ ٹائم لے لیتے ہیں، جو ہی اس کام سے فراغت ہو جائے گی، انشاءاللّٰہ پاکستان جاؤں گا پاکستان میرا گھر ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید