کبھی کبھی تاریخ اپنے فیصلے ایوانوں کی گونج میں نہیں، خاموش کمروں کی سانسوں میں سناتی ہے۔ کچھ ملاقاتیں تصویروں کا حصہ نہیں بنتیں، مگر زمانوں کی سمت درست کر دیتی ہیں۔ کچھ لمحے خبروں میں جگہ نہیں پاتے، مگر قوموں کے لہجوں میں اتر جاتے ہیں۔ گیمبیا کے دارالحکومت بنجول میں ہونے والی حالیہ ملاقات بھی اسی نوع کی تھی۔جہاں اقتدار نے اپنی آواز نیچی رکھی، اور خدمت نے اپنے قدم مضبوط کر لیے۔المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے صدرعبدالرزاق ساجد کا یہ دورہ کسی رسمی سفری شیڈول کا حصہ نہیں تھا۔ یہ ایک فکری تسلسل تھا، ایک سوچ کا عملی اظہار۔وہ سوچ جو سرحدوں کو نقشے کی لکیروں کے بجائے انسانیت کے دائرے میں دیکھتی ہے۔ بنجول گیسٹ ہاؤس میں صدرِ گیمبیا آدم بیرو سے ہونے والی گفتگو محض سفارتی آداب تک محدود نہ رہی؛ یہ ایک ایسا مکالمہ بن گئی جس میں سیاست نے شور ترک کیا اور وقار اختیار کیا، اور خدمت نے خاموشی چھوڑ کر معنویت حاصل کی۔گیمبیا، جو کبھی عالمی تنہائی کے حاشیے پر کھڑا دکھائی دیتا تھا، آج مکالمے کی میز پر دوبارہ اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ یہ تبدیلی نعروں کی تپش سے نہیں آئی، بلکہ تدریج کے صبر سے ابھری ہے۔ یہ احتجاج کی چیخ نہیں، تحمل کی آواز ہے؛ یہ ہنگامے کی گونج نہیں، خاموش فیصلوں کی بازگشت ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں آدم بیرو ایک منصب دار سے آگے بڑھ کر ایک ریاستی علامت بن جاتے ہیں۔ایسی علامت جو ماضی کے زخموں کو انتقام سے نہیں، فہم سے بھرنے پر یقین رکھتی ہے۔بقول شاکر خان’’ہمارا مدِ مقابل نہ تھا برابر کا...پلٹ کے آنا ہی بہتر لگا تھا لڑنے سے‘‘اسی تناظر میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی گیمبیا میں موجودگی محض اتفاق نہیں، بلکہ ہم آہنگی ہے۔ یہ ادارہ انسانی ضرورت کو کسی سیاسی ترازو میں نہیں تولتا۔ اس کی پہچان یہی ہے کہ یہ کیمرے کے سامنے کم اور میدان میں زیادہ دکھائی دیتا ہے؛ یہ دعووں سے زیادہ نتائج پر یقین رکھتا ہے؛ یہ شور پیدا نہیں کرتا، اثر چھوڑ جاتا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں کام کرنے والا یہ ادارہ اب گیمبیا میں بھی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کر چکا ہے۔اور ان سرگرمیوں میں آئی سرجریز کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے۔آنکھ کا علاج بظاہر ایک طبی عمل ہے، مگر درحقیقت یہ بصیرت کی بحالی ہے۔ نابینا آنکھ صرف روشنی سے محروم نہیں ہوتی، سمت سے بھی کٹ جاتی ہے۔ جب کوئی فلاحی ادارہ آنکھوں کا علاج کرتا ہے تو وہ محض ایک فرد کی بینائی بحال نہیں کرتا۔
وہ مستقبل کو دوبارہ قابلِ دید بناتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور خدمت ایک دوسرے کی ضد نہیں رہتیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن جاتی ہیں۔ ایک طرف ریاستی وژن، دوسری طرف فلاحی عمل؛ ایک سمت پالیسی، دوسری جانب پسینہ؛ ایک ہاتھ میں قانون، دوسرے میں لمس۔ یہ تضاد نہیں، توازن ہے۔اور توازن ہی پائیدار ترقی کی اصل پہچان ہے۔المصطفیٰ کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ انسان کو محض مستحق نہیں، محترم سمجھتا ہے۔ اس کی امداد میں ہمدردی ہوتی ہے مگر ترحم نہیں؛ اس کے منصوبوں میں نظم ہوتا ہے مگر نمائش نہیں؛ اور اس کی نیت میں اخلاص ہوتا ہے مگر دعویٰ نہیں۔ یہی سبب ہے کہ جہاں یہ ادارہ پہنچتا ہے، وہاں صرف کام نہیں ہوتا۔ اعتماد بھی جنم لیتا ہے۔ملاقات کے بعد المصطفیٰ کے صدر کی جانب سے آدم بیرو کے بارے میں دیا گیا بیان رسمی تعریفی جملوں سے کہیں آگے تھا۔ وہ دراصل ایک فکری اعتراف تھا۔اس بات کا اعتراف کہ اگر قیادت انتقام سے پاک ہو تو قومیں ماضی کے بوجھ کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہیں۔ یہ اس حقیقت کی توثیق تھی کہ خاموش وقار بلند آواز نعروں سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔یہیں اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ کیا سیاست اور خدمت ایک ساتھ چل سکتی ہیں؟ گیمبیا کی مثال بتاتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں۔ جب ریاست دروازے کھولتی ہے اور ادارے ہاتھ بڑھاتے ہیں، تو فائدہ انسانیت کو ہوتا ہے۔آخرکار، یہ ملاقات دو شخصیات کی نہیں تھی بلکہ دو بیانیوں کی ہم کلامی تھی۔ایک ریاستی ذمہ داری کا بیانیہ، دوسرا انسانی خدمت کا بیانیہ۔ اور جب یہ دونوں ایک ہی سمت دیکھنے لگیں تو تاریخ صرف لکھی نہیں جاتی، سنواری جاتی ہے۔ اگر خوف کی رات کے بعد واقعی صبح آتی ہے تو اس میں قیادت کا اجالا بھی ہوتا ہے اور خدمت کی روشنی بھی۔ گیمبیا میں یہ دونوں ایک ساتھ طلوع ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور یہ محض خبر نہیں، امید ہے۔ مشکل حریفوں کے سامنے فتح مندی کی یہی امید۔
سنی تھی ہم نے روایت کوئی صحیفوں سے
دلیری کھلتی ہے بس شیر دل حریفوں سے