پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نالائق ہے تو اس کا بوجھ سندھ حکومت نہیں اٹھائے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع نہیں کر پاتا تو کیا یہ سندھ کا قصور ہے؟ پیسہ بچانا اور خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں تو ڈسکوز کو پرائیویٹائز کریں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں پر یہ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، یہ محکمے صوبوں کو منتقل کر کے 300 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پیٹ کاٹ کر آپ اپنے خسارے اور نااہلی کو بھرتے جائیں گے تو یہ کافی نہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے بڑے بااختیار ہیں، وہ اپنے لوگوں کو خدمات دے رہے ہیں، آپ یہ نہیں کرسکتے کہ میرا خسارا ہو رہا ہے تو ادھر سے پیسہ نکالو، اس کا پیٹ کاٹو۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی ضرور کریں لیکن آپ وسائل کم نہیں کرسکتے، آپ کسی صوبے کو خیرات نہیں دے رہے، یہ صوبوں کا حق ہے، ہم پیسہ جمع کرتے ہیں، فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں ڈالتے ہیں، وہاں سے وہ تقسیم ہوتا ہے۔
کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ کراچی میں ایک بہت فعال میئر تھے، اُس وقت بھی بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا تھا، کراچی میں چار چار دن تک سڑکوں پر پانی جمع رہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کی رونقیں بحال ہوئی ہیں، آج وہ حالات نہیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں تو بن بھی رہی ہیں۔