اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہےکہ صحت اور تعلیم، سندھ حکومت کی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے،صوبائی حکومت تعلیم سمیت تمام شعبوں میں بہتری لا رہی ہے ، علاج کیلئے پہلی بار ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی،سندھ حکومت ہر شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور عوامی خدمت کا یہ سفر آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گا،NFC کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہونگے ،، ماضی میں ہمیں امن و امان اور دہشتگردی کی سنگین صورتحال کاسامنارہا، 2008میں پیپلزپارٹی کی حکومت کےدوران روزانہ کی بنیاد پربم دھماکوں اور دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا،این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ٹیکس وصولی کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے، سیلز ٹیکس وصولی میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے۔ گزشتہ روز ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی ،مستقبل کی حکمت عملی پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاسندھ حکومت تمام شعبوں کی بہتری کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے،صحت کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں ،انہوں نےکہا 18ویں آئینی ترمیم کےبعد جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) صوبے کےحوالےکیاگیا۔ 2012 میں جےپی ایم سی میں 1100 بیڈز تھےجو اب بڑھ کر 2208 بیڈز تک پہنچ چکے ، مہنگا ترین علاج بھی غریب شہریوں کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے، صوبے میں این آئی سی وی ڈی کے طرز پر 11 اسپتال قائم کیے گئے ہیں، سندھ میں تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ،2008 تک سندھ میں صرف 10 جامعات تھیں، اس وقت صوبے میں تیس جامعات کام کر رہی ہیں۔ھھھھھھھھھھھھ