• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑھاپے میں ڈپریشن دماغی بیماریوں کی ابتدائی وارننگ ہو سکتا ہے: تحقیق

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ڈپریشن بعض سنگین دماغی بیماریوں، خصوصاً پارکنسنز اور لیوی باڈی ڈیمنشیا کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق معروف طبی جریدے جنرل سائیکاٹری میں شائع ہوئی، جس کے مطابق وہ بزرگ افراد جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، ان میں بعد ازاں پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان افراد میں ڈپریشن کا خطرہ وقت کے ساتھ بتدریج بڑھتا رہتا ہے اور بیماری کی تشخیص سے تقریباً تین سال قبل اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے جبکہ تشخیص کے بعد بھی یہ خطرہ عام افراد کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔

اس مطالعے کے لیے محققین نے ڈنمارک کے 17 ہزار 700 سے زائد ایسے مریضوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا جن میں پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا کی تشخیص ہو چکی تھی۔ ان مریضوں میں ڈپریشن کی شرح کا موازنہ دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا بزرگ افراد سے کیا گیا، جس میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس، گردوں کی بیماریاں اور آسٹیوپوروسس شامل تھیں۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ڈپریشن کا بڑھتا ہوا خطرہ صرف کسی دائمی بیماری کے ساتھ جینے کے جذباتی دباؤ کی وجہ سے نہیں تھا، تحقیق کے مطابق دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد میں ڈپریشن کی شرح میں ایسا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پارکنسنز اور لیوی باڈی ڈیمنشیا کے کیسز میں ڈپریشن کا تعلق دماغ میں ابتدائی تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے، نہ کہ صرف ذہنی دباؤ سے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد میں بعدازاں لیوی باڈی ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی، ان میں ڈپریشن کی شرح نسبتاً زیادہ تھی، مجموعی طور پر پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا میں مبتلا تقریباً 30 سے 40 فیصد مریض کسی نہ کسی مرحلے پر ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید